کشور کمار: کبھی الوداع نہ کہنا

Updated: October 13, 2021, 12:57 PM IST | Agency | Mumbai

زندگی کے انجانے سفر سے بے حد محبت کرنے والے ہندی سنیما کے مایہ ناز گلوکار کشور کمار کی پیدائش مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں۴؍اگست۱۹۲۹ء کو متوسط بنگالی خاندان میں ایڈوکیٹ کنجی لال گنگولی کے گھر میں ہوئی

Kishore Kumar.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

زندگی کے انجانے سفر سے بے حد محبت کرنے والے ہندی سنیما کے مایہ ناز گلوکار کشور کمار کی پیدائش مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں۴؍اگست۱۹۲۹ء کو متوسط بنگالی خاندان میں ایڈوکیٹ کنجی لال گنگولی کے گھر میں ہوئی۔ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے شرارتی کشور کمار گنگولی عرف کشور کمار کا رجحان بچپن سے ہی باپ کے پیشے وکالت کی طرف نہ ہوکر موسیقی کی جانب تھا۔  اداکار اور گلوکار کے ایل سہگل کے نغموں سے متاثر کشور کمار انہی کی طرح گلوکار بننا چاہتے تھے۔  کے ایل سہگل سے ملنے کی خواہش لے کر کشور کمار  ۱۸؍سال کی عمر میں ممبئی پہنچے، لیکن ان کی خواہش پوری نہیں ہو پائی۔ اس وقت تک ان کے بڑے بھائی اشوک کمار بطور اداکار اپنی شناخت بنا چکے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ کشور ہیرو کے طور پر اپنی شناخت بنائیں لیکن خود کشور کمار اداکاری کے بجائے گلوکار بننا چاہتے تھے حالانکہ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم کبھی کسی سے حاصل نہیں کی تھی۔
 بالی ووڈ میں اشوک کمار کی شناخت کی وجہ سے کشور کمار کو بطور اداکار کام مل رہا تھا۔ اپنی خواہش کے باوجود انہوں نے اداکاری کرنا جاری رکھا۔ جن فلموں میں وہ بطور آرٹسٹ کام کیا کرتے تھے انہیں اس فلم میں گانے کا بھی موقع مل جایا کرتا تھا۔ کشور کمار کی آواز سہگل سے کافی حد تک ملتی جلتی تھی۔ بطور گلوکار سب سے پہلے انہیں  ۱۹۴۸ء میں بامبے ٹاکیز کی فلم ضدی میں سہگل کے انداز میں ہی اداکار دیو آنند کے لیے ’’مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں‘‘ گانے کا موقع ملا۔  کشور کمار نے۱۹۵۱ءمیں بطور اداکار فلم آندولن سے اپنے کریئر کا آغاز کیا لیکن اس فلم سے ناظرین کے درمیان وہ اپنی شناخت نہیں بنا سکے۔  ۱۹۵۳ءمیں ریلیز ہونے والی فلم لڑکی بطور اداکار ان کے کریئر کی پہلی ہٹ فلم تھی۔  ۱۹۵۸ء میں کشور کمار کو پہلی بار فلم ”چلتی کا نام گاڑی“ میں اداکاری کرنے کا موقع ملا۔ شائقین اس فلم میں اشوک کمار کو دیکھنے جاتے تھے لیکن لوٹتے وقت ان کے ذہن میں کشور کمار چھائے ہوئے ہوتے تھے۔ ابتدائی دور میں کشور کمار کی پہچان ایک مزاحیہ اداکار کے طور پر ہوئی تھی۔ فلم ”پڑوسن“ جیسی فلمیں آج بھی لوگوں کے ذہن پر چھائی ہوئی ہیں۔ بعدازاں ۱۹۶۴ء میں ”دور گگن کی چھاؤں میں“اور ۱۹۷۱ء میں فلم ”دور کا راہی“ کے بعد کشور دا کی مثالیں دی جانے لگیں۔ ادھر گلوکاری میں بھی وہ کامیاب ہوتے چلے گئے۔ اس دور میں جبکہ ہر طرف محمد رفیع اور منا ڈے کی گونج تھی کشور کمار کی آواز کا جادو سب کو حیران کرگیا۔
 اداکاری، گلوکاری اور ہدایتکاری کے علاوہ کشور کمار کو شاعری کا بھی شوق تھا اور اپنا تخلص ”کوی کشور دا“رکھا ہوا تھا۔ علاوہ ازیں وہ ایک کامیاب پینٹر اور آرٹسٹ بھی تھے۔۱۹۶۹ءمیں پروڈیوسر و ڈائریکٹر شکتی سامنت کی فلم آرادھنا کے ذریعے کشور کمار گائیکی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بنے۔ کشور کمار کے گائے نغمے ”میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو... اور روپ تیرا مستانہ...‘‘ ناظرین نے بہت پسند کئے اور ان نغموں کے لئے انہیں بطور گلوکار پہلا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔  کشور کمار جس کامیابی کا خواب سجائے سپنوں کے شہر ممبئی آئے تھے فلم آرادھنا کے ذریعے وہ ان اونچائیوں پر پہنچ گئے۔  کشور کمار کو ان کے گائے نغموں کیلئے ۸؍ مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے اپنے پورے فلمی کریئر میں۶۰۰؍ سے بھی زائد ہندی فلموں کے نغمے گائے۔ علاوہ ازیں انہوں نے بنگلہ، مراٹھی، آسامی، گجراتی، کنڑ، بھوجپوری اور اڑیا فلموں میں بھی اپنی دلکش آواز کے ذریعے ناظرین کو مسحور کیا۔ کشور کمار نے کئی اداکاروں کو اپنی آواز دی لیکن کچھ موقعوں پر محمد رفیع نے ان کیلئے نغمے گائے تھے۔ ان میں ”ہمیں کوئی غم ہے تمہیں کوئی غم ہے محبت کا ذرا نہیں ڈر، چلے ہو کہاں کر کے جی بے قرار، من باورا نس دن جائے، راگنی ہے داستاں تیری یہ زندگی اور عادت ہے سب کو سلام کرنا“ جیسے نغمات شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد رفیع جو نغمے کشور کمار کیلئے گا تے تھے ان کی اجرت وہ صرف ایک روپیہ لیتے تھے۔ ۱۹۸۷ءمیں کشور کمار نے فیصلہ کیا کہ وہ فلموں سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد  اپنے گاؤں کھنڈوا لوٹ جائیں گے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ دودھ جلیبی کھائیں گے کھنڈوا میں بس جائیں گے لیکن ان کا یہ خواب ادھورا ہی رہ گیا اور ۱۳؍اکتوبر ۱۹۸۷ءکو کشور کمار کو دل کا دورہ پڑا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK