انٹر نیٹ نے فن خطاطی کوفروغ دیا ہے

Updated: October 04, 2021, 12:14 PM IST | Kazim Shaikh

کاتب محموداحمد عبدالحق شیخ اس مشینی دور میں بھی فن کتابت کے رموز سے دوسروں کو نہ صرف واقف کروارہے ہیں بلکہ انہیں ماہر فن بھی بنارہے ہیں

Writer Mahmood Ahmad Abdul Haq Sheikh introducing the codes of writing to the students.Picture:INN
کاتب محموداحمد عبدالحق شیخ طلبہ کو کتابت کے رموز سے واقف کرواتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

  ایک زمانہ تھا ،جب اسکولوں اور مدارس میں تختی پر لکھنے کا چلن تھا۔ اساتذہ تختیوں پر لکھ کر  بچوں میں خوش خطی کا رجحان پیدا کرتے تھے لیکن جب سے  بچوں نے تختی پر لکھنے کے بجائے کاپیوں  میں  ’بال پین‘  سے اورٹیبل  پر رکھ کر لکھنا شروع کیا  اس وقت سے فن خطاطی  متاثر ہونا شروع ہوئی اور کمپیوٹر نے  اسے زوال آمادہ کردیا۔ آج طلبہ   یہ نہیں جانتے کہ فن خطاطی ( کتابت ) کیا ہے، اس کیلئے قلم کس لکڑی کا بنتا ہے اور کتابت کیلئے کاتب کی نشست کا انداز کیا ہوتا ؟ اس کے باوجود آج بھی اس فن کو زندہ رکھنے والے اور اسے پروان چڑھانے والوں کمی نہیں ہے۔ انہی میں سے ایک کاتب محمود احمد عبدالحق شیخ(۵۸؍سال) ہیں جو اس مشینی دور میں بھی فن کتابت کے رموز سے دوسروں کو نہ صرف واقف کروارہے ہیں بلکہ انہیں ماہر فن خطاط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔کاتب محمود احمد کی کلاس کی اہم بات یہ بھی ہے اس سے نہ صرف اردو جاننے والے مستفید ہو رہے ہیں بلکہ غیر اردو داں افرادبھی  اس فن کو سیکھنے کی سعی کررہے ہیں۔  یہ افراد یا شاگرد اردو نستعلیق، عربی میں ثلث ، نسخ ، دیوانی  اور دیگر فونٹ سیکھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔   مضافاتی ممبئی میں جوگیشوری ریلوے اسٹیشن کے قریب دیوان سینٹر سے ملحق جوگیشوری حنا آرکیڈ میں’الفاظ کیلی گرافی  سینٹر‘ ۲۰۱۹ء   سے قائم ہے ۔ یہاں ۲۴؍ طلبہ  فی الحال فن خطاطی  سیکھ رہے ہیں۔ ۸؍ ۸؍طلبہ کا بیچ بنایا گیا ہے ۔ان میں ۷؍برادران وطن بھی شامل ہیں  ۔   اس بارے میں کاتب محمود نے کہا کہ کتابت سیکھنے والے آرٹسٹوں کے ذریعہ اردو اور عربی کو بطور زبان بھی کافی فائدہ ہو گا اور غیراردوداں افراد میں بھی اس کے تعلق سے تجسس  بڑھے ہو گا۔  ان کا کہنا ہے کہ کتابت سیکھنے کے بعد وہ دوسروں کو سکھائیں گے جو اس فن کو  دوبارہ زندہ کرنے کے مترادف ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ گجرات کےبہت ہی مشہور آرٹسٹ منیش سونی  نے گزشتہ دنوں ہی یہ کورس مکمل کیا ہے۔ وہ بڑودہ سے یہاں آئےتھے اور خطاطی سیکھ کر گئے ہیں۔ کتابت کلاس کو پوری تندہی کے ساتھ جاری رکھنے کی کوشش کرنے والے  خطاط محمود سعودی عرب میں خطاطی کے شعبے میں ۱۰؍سال تک  برسرکار رہے ہیں جبکہ ایران، عراق، اردن  اور بنگلہ دیش کے علاوہ ’آرٹ کلچر ٹو انڈیا بھڑوچ ‘اور دوسرے مختلف اداروں کی  آن لائن نمائش میں حصہ لے چکے ہیں۔ وہاں ان کے فن کے نمونے بطور خاص پسند کئے گئے۔ اس کے علاوہ چشتی فاؤنڈیشن اجمیر شریف  کی نمائش میں بھی ۱۲؍ سال سے شرکت کر رہے ہیں۔ ٹونک (راجستھان) کےمولانا ابوالکلام آزاد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں فن خطاطی کی نمائش میں ۲۰۱۹ء میں انہوں نے شرکت کی تھی۔  فن خطاطی کی خصوصی کلاس شروع کرنے کے تعلق سے کاتب محمود نے بتایا کہ ۲۰۱۸ء میں انہوں نے بیلا پور میں کیلی فیسٹ  نمائش میں شرکت کی تھی جس میں  ملک کی بیشتر زبانوں کے کیلی گرافی آرٹسٹ جمع ہوئے تھے اور انہیں   اردو اورعربی خطاطی کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کی مقبولیت اور وہاں پہنچنے والے لوگوں کا شوق دیکھنے کے بعد ان کی سوچ بدل گئی۔اس نمائش میں کئی افراد نے شرکت کی اور یہ فن سیکھنے کے تعلق سے دلچسپی کا اظہار کیا ۔ اس وقت ہمیں  ایسا محسوس ہوا کہ شاید ہم سبھی سے یہ غلطی ہوئی کہ ہم صرف اردو حلقوں تک محدود رہ گئے جبکہ برادران وطن میں بھی اس فن کو سیکھنے کا جذبہ ہے اور وہ اسے پُرکشش فن قرار دیتے ہیں۔ اسی نمائش میں ایک شخص نے ان سے کہا تھا کہ ہمیں  اردو یا عربی تو نہیں آتی لیکن اس  فن کی کشش ہمیں اپنی جانب کھینچتی ہے ۔واضح رہے کہ تقریباً  ۳۵؍ سال قبل تک انجمن اسلام(وی ٹی) میں بھی کتابت کی  کلاس  جاری  تھی  جبکہ کاتب محمود کی کتابت کی کلاس مہاراشٹر کالج ممبئی میں چلتی تھی لیکن  ان کے سعودی عرب چلے جانے کے بعدوہ سلسلہ تھم گیا۔ کاتب محمود احمد نے ابتدائی دور میں مختلف اخبارات میں کام کیا۔ کئی مشہور کتابوں  کے  ٹائٹل لکھے ۔ متعدد کیلنڈروں کی کتابت کی اور اب بھی ہرسال تقریباً۱۲؍ کیلنڈر لکھ رہے ہیں ۔اسٹیکرز وغیرہ کے علاوہ بہت سی مساجد  کے لئے بھی خطاطی کرتے ہیں ۔  ان میں مارہرہ شریف کے گنبد کی خطاطی اور پرتاپ گڑھ کی مسجد کی خطاطی قابل ذکر ہے ۔  یہ ان کے فن کا عروج ہی ہے کہ مارہرہ شریف سے انہیں’’نوری رقم ‘‘کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔    کاتب محمود کے مطابق انہوں نے اب تک کا سب سے بہترین کام جو کیا ہےوہ قرآن مجید  کے نسخوں کی خطاطی   ہے۔ کسی بھی خطاط کے لئے اس کا سب سے بہترین کام قرآن مجید کی خطاطی ہی ہو تا ہے اور گزشتہ۲۰؍ سال سے یہی  ان کا  محبوب مشغلہ ہے۔ اب تک وہ قرآن مجید  کے ۵؍ نسخوں کی کتابت کر چکے ہیں  جن میں حافظی قرآن،۱۳؍سطری قرآن (مصری نسخ جلی قلم)  الفی قرآن، ۱۸؍سطری قرآن (نہایت کم صفحات میں) اوریائی قرآن(یہ نسخہ پہلی بار لکھا گیاہے) جس کی ہر سطر کا پہلا حرف یا سے شروع ہوتا، شامل  ہے۔  ان کے مطابق سب سے زیادہ مقبولیت الفی قرآن مجید کے نسخے کو ملی  جسے ممبئی کے معروف ادارے نشانِ اختر نے شائع کیا ہے۔ اب تک اس کے۴؍ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں جبکہ حکومت ہند نے بھی اس کے ۵۱؍ نسخے  حاصل کئے اور اسلامی ممالک کے سربراہان کو بطور ہدیہ پیش کئے۔ اس  نسخے کو تیار کرنے میں انہیں۷؍سال کا عرصہ لگا۔ کاتب محمود نے اپنے منصوبوں کے بارے میں بتایا کہ وہ فی الحال قرآن مجید  کے ۴؍ نسخوں کی کتابت پر کام کررہے ہیں ۔  ان میں سے ایک  میں،م سے ہر سطر شروع ہوگی، دوسرے میں ک سے ہر سطر شروع ہوگی ، تیسرے میںق سے ہر سطر شروع ہوگی  اور اس کے علاوہ ایک   ۹؍ سطری نسخہ بھی ہو گا۔  کاتب محمود  کے والدعبدالحق ابن وزیر احمد بھی  مانے ہوئے کاتب تھے ۔ اخیر عمر میں ان کا دایاں ہاتھ فالج  زدہ ہو گیا تھا لیکن اس سے قبل وہ مجموعی طور پر قرآن مجید کے ۵۲؍ نسخوں کی خطاطی کرچکے تھے۔حافظ قرآن بھی تھے اور ان ۵۲؍ نسخوں میں سے  ۴۰؍ انہوں نےتاج آفس ممبئی کیلئےلکھےتھے جن کی طباعت بھی ہوئی ۔ ’مفید کتب خانہ ‘کے نام سےان کا مکتب بھی تھا۔ کاتب محمود کا کہنا ہے کہ آج بھی فن خطاطی کی اہمیت ہے ۔ ہر چند کہ کمپیوٹر کی وجہ سے اسے زوال آیا ہے لیکن انٹر نیٹ  اور سوشل میڈیا کے ظہور نے ایک مرتبہ پھر موقع فراہم کیا ہے کہ اس فن کو پوری دنیا میں پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں میں انٹر نیٹ کی وجہ سے ہی اس فن کو سیکھنے کے لئے آن لائن تلاش کرنے والوں کی تعداد بڑھی ہے۔کئی لوگوں نے اسے اپنے طور پر بھی سیکھنے کی کوشش کی ہے لیکن بغیر استاد کے اس فن کے رموز سمجھنا اور اس کا ماہر بننا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج کئی ادارے ہیںجو فن خطاطی سکھا رہے ہیں اور اس فن کی ترقی کیلئے کوشاں ہیں۔ پہلے کے مقابلے آج زیادہ سہولتیں بھی ہیں۔ ہر طرح کا ساز و سامان اور مواد انٹر نیٹ پر دستیاب ہے  یہاں تک کہ خطاطی کے ویڈیوز بھی یوٹیوب پر مل جاتے ہیں۔ اسی لئے یہ فن سیکھنا اب مشکل نہیں رہا لیکن اس  پر دسترس حاصل کرنے کیلئے سخت محنت ، نظم و ضبط کی پابندی اورمستقل مزاجی بہت ضروری ہے۔ راقم الحروف  نے بھی فن کتابت میں ان سے رہنمائی حاصل کی ہے۔  
موجودہ بیچ میں سب سے بہتر کتابت سیکھنے والے طلبہ سے گفتگو  اگلے ہفتے ملاحظہ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK