بدشگونی اور توہم عقیدۂ توحید اور اللہ پر یقین میں کمی کی علامت ہے

Updated: September 10, 2021, 4:04 PM IST | Justice Hussain bin Abdul Aziz

انسان کا جتنا وقت اللہ کی اطاعت میں گزرے تو وہ اس کیلئے وقت ِ بابرکت ہے اور جتنا وقت اللہ کی نافرمانی میں گزرے وہ اس کے اور پورے معاشرے کے لئے وقت ِ نحوست ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

وحی کے مطابق عقیدۂ توحید کے اصولوں میں  یہ بھی شامل ہے کہ ہمہ قسم کی خرافات سے خبردار کیا جائے، اور ہر قسم کی گمراہی سے  سے متنبہ کیا جائے۔
بد شگونی زمانہ قدیم سے لے کر آج تک کچھ لوگوں میں پائی جانے والی خرافات میں سے ایک ہے، اسی  طرح کوئی نظر آنے والی چیز یا سنا جانے والا لفظ طبیعت کو ناگوار گزرے یا موروثی طور پر کسی چیز کو نا پسند کیا جائے؛ ان چیزوں کے بارے میں بد شگونی لینا بھی انہی خرافات میں شامل ہے، مثال کے طور پر ماہِ صفر میں کسی خاص پرندے یا لفظ کو دیکھنے یا سننے کو بدشگونی سے منسلک کرنا۔ چنانچہ کچھ لوگ اسی بد شگونی کی وجہ سے اپنے عزائم کو ختم کر  ڈالتے ہیں اور اپنے مقاصد سے ہٹ جاتے ہیں، امام احمدؒ نے شواہد کے ذریعے مضبوط ہونے والی سند کے ساتھ  مرفوعاً ذکر کیا ہے کہ: ’’ بد شگونی یہ ہے  کہ جو آپ کی پیش قدمی یا پسپائی کا باعث بنے۔‘‘
عز بن عبد السلامؒکہتے ہیں: دل میں موجود بدگمانی کو  (عربی میں) تطیّر (بد شگونی- اسم) اور اس بدگمانی پر مرتب ہونے والے عمل کو  (عربی میں) طیرۃ (بدشگونی۔فعل)  کہتے ہیں۔
اس قسم کی باطل بدفالی،  اور وہمی بد شگونی  پر مشتمل نظریات اسلام کی نظر میں کم عقلی اور کھوکھلے پن کی عکاسی کرتے ہیں، اور صحیح عقیدہ کے منافی ہیں؛ جو کہ خالق، قادر، مختار کل ، نفع و نقصان کے مالک اللہ کی ذات پر توکل  کا نام ہے،  کیونکہ تقدیر میں لکھے گئے اسبابِ کونیہ کے مطابق کوئی بھی کام اللہ کے ارادے، قدرت، اور اجازت کے بغیر  ہو ہی نہیں سکتا۔اسی لئے شرعی نصوص  نے غلط نظریات سے خبردار کیا، اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیا، تا کہ عقیدۂ توحید صحیح سلامت باقی رہے، چنانچہ ابن قیمؒکے مطابق قرآن کریم  نے بد شگونی کا ذکر  صرف رسولوں کے دشمنوں اور توحید ِ خالص و صاف عقیدہ کے مخالفین کی حکایت کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’کوئی بیماری از خود متعدی نہیں ہوتی، نہ ہی بدشگونی کوئی چیز ہے،  اور اُلّو (کوئی منحوس چیز نہیں ہے) اور نہ ہی ماہِ صفر (میں کوئی نحوست ہے)۔ ( بخاری و مسلم)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ان اشیاء کی بذات خود کوئی تاثیر نہیں ہے، اور کسی بھی مسلمان کو ان کے بارے میں غلط نظریات قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے، اور نہ ہی ان کے بارے میں توجہ کرنی چاہئے، چنانچہ  ایک مؤمن پر یہ واجب ہے کہ وہ ان باطل امور کے سامنے ہتھیار نہ پھینکے، اور اپنی سِمت سے ذرا بھی نہ ہٹے،  اور اپنے عزائم کی تکمیل ، اور ضرورت و حاجت کو مکمل کر کے ہی دم لے، کیونکہ  بد شگونی ایسا شرک ہے جو کہ عقیدۂ توحید کی کم ترین سطح کے بھی منافی ہے۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: ’’بدشگونی شرک ہے۔‘‘  یہ حدیث  متعدد محدثین کے ہاں صحیح ہے۔
اگر بد شگونی لینے والا ایسا سمجھتا ہو کہ بد شگونی والی چیز  اختیار الٰہی کے بغیر بذاتِ خود نفع نقصان پہنچا سکتی ہے، تو یہ (اللہ کی پناہ) شرک اکبر ہے، کیونکہ یہ نظریہ اس چیز کو تخلیق و ایجاد میں اللہ کے ساتھ شریک بنا رہا ہے۔
بدشگونی لینے والوں کی یہ بھی صورت ہے کہ: انسان کسی چیز سے بد شگونی لینے کے بعد اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے آگے بڑھے، لیکن اس کے ذہن پر گھبراہٹ، فکر اور خوف سوار ہو، اور بدشگونی والی چیز سے ایذا رسانی کا خدشہ  دماغ میں رکھے،  ایسی سوچ رکھنا شرک ہے اور عقیدہ ٔ توحید اور اللہ پر اعتماد  میں کمی کی علامت ہے۔ اور جس کسی کے دل میں  بدشگونی  آئے تو اس سے بچے، اور اس بدشگونی والی  رکاوٹ سے رو گردانی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر  مکمل بھروسہ و اعتماد کرے۔ حضرت  ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: ’’ہر کسی کے دل میں بد شگونی آتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ توکل کی وجہ سے اسے ختم کر دیتا ہے۔‘‘ اور ایک مسلمان پر بارگاہِ الٰہی میں پناہ لینا  اور دل کو صرف اللہ کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے، اس کیلئے وہ دعا میں گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے مانگے۔‘‘
حضرت عروہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :رسول اللہ ﷺکے پاس بد شگونی کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا: ان میں سے بہتر نیک فال ہے، اور بد شگونی کسی مسلمان کو پیش قدمی سے نہیں روک سکتی، اور اگر کسی کو غیر مرغوب چیز نظر بھی آئے تو وہ کہے:’’یا اللہ! بھلائی کو تو ہی لانے والا ہے، اور برائی کو تو ہی دور کرنے والا ہے، اور نیکی کرنے  اور برائی سے بچنے کی طاقت صرف اللہ  کی طرف سے ہے۔‘‘
اسی طرح  وارد شدہ ادعیہ میں یہ بھی ہے کہ:
’’یا اللہ! بھلائی صرف تیری ہی طرف سے ہے، اور کوئی بھی پرندہ  تیری ملکیت سے باہر نہیں ہے، اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔‘‘
اور جو شخص  شیطان کے بہکاوے میں آکر بد شگونی میں پڑ جائے، اور جس کام کی نیت سے چلا تھا اُسے چھوڑ دے، تو بسا اوقات کم ترین سطح سے بھی نچلے درجے  کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے سزا  کے طور پر  اس کے (بدشگونی والے) خدشات کو حقیقت میں بدل دیا جاتا ہے؛ کہ اس نے اللہ تعالیٰ پر سچا توکل اور بھرپور بھروسہ نہیں کیا۔ چنانچہ اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو!  واجبات میں خلل پیدا کرنے والے  اوہام سے بچو، رب ارض و  سما  کے بارے میں عقیدہ توحید سے متصادم  نظریات سے دور رہو، کیونکہ سب معاملات اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہیں، اس کے فیصلوں کو کوئی بدل نہیں سکتا، اور اس کے فضل کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔
 حضرت فضیل رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ”اگر تمہارے دل میں مخلوق  پر اعتماد کی کوئی جگہ نہ ہو تو اللہ تعالی جو  چاہو گے تمہیں عطا فرما دے گا۔“
ہر مسلمان کے لئے اپنے دل کو صرف ایک اللہ کے ساتھ جوڑنا واجب ہے،  اسے چاہئے کہ اللہ پر اپنے اعتماد کو بڑھاتا رہے، مشکل کشائی اور حاجت روائی کے لئے  اللہ تعالی سے گڑگڑا کر مانگے۔
یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ  انسان کا جتنا وقت اللہ کی اطاعت میں گزرے تو وہ اس کے لئے وقت ِ با برکت ہے، اور جتنا وقت اللہ کی نافرمانی میں گزرے وہ اس کے اور پورے معاشرے کے لئے وقتِ نحوست ہے۔
چنانچہ ابن رجب کے مطابق : نحوست  اللہ کی نافرمانی کادوسرا  نام ہے، اُن کا کہنا ہے کہ: مجموعی طور پر نحوست گناہوں اور نافرمانیوں کا ہی دوسرا نام ہے، کیونکہ ان سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے، اور جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے ناراض ہو تو وہ انسان دنیا و آخرت میں منحوس بن جاتا ہے، بالکل اسی طرح جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے راضی ہو تو  وہ دنیا و آخرت میں سعادت مند بن جاتا ہے۔حضرت ابو حازمؒکہتے ہیں:  ”اہل و عیال یا مال کچھ بھی اللہ تعالی سے غافل کر دے تو وہ تمہارے لئے منحوس ہے۔“
اسی طرح گناہگار اپنے اور دوسروں کیلئے نحوست کا باعث بنتا ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اگر اس پر عذاب نازل ہو تو دیگر لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے، خصوصاً ان کو جنہوں نے اسے برائی سے نہیں روکا، اسی طرح کتاب و سنت کی تعلیمات کے مطابق برائی کی جگہوں سے دور رہنا بھی ضروری ہے۔n
(مسجد نبویؐ میں دیئے گئے ایک خطبے کا خلاصہ)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK