ربیع الاول کا جشن میلاد علم انسانیت کے لئے بشارت و شرف ِ آزادی

Updated: October 08, 2021, 7:59 PM IST

مولانا ابو الکلام آزاد کی ایک تقریر جس سے سیرت کے بعض نہایت اہم پہلوئوں پر جو روشنی پڑتی ہے وہ کسی تشریح کی محتاج نہیں۔ سیرت طیبہ کے بنیادی پہلوئوں کو اس انداز میں پیش کرنا مولانا آزاد ہی کا حصہ ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

عزیزان ملت! ماہ ربیع الاول کا ورود تمہارے لئے جشن ومسرت کا ایک پیغام عام ہوتا ہے کیونکہ تم کو یاد آجاتا ہے کہ اسی مہینے کے ابتدائی ہفتوں میں خدا کی رحمت عامہ کا دنیا میں ظہور ہوا۔ اسلام کے داعی ٔ برحق کی پیدائش سے دنیا کی دائمی غمگینیاں اور سرگشتگیاں ختم کی گئیں۔ ﷺ۔تم خوشیوں اور مسرتوں کے ولولوں سے معمور ہوجاتے ہو، تمہارے اندر خدا کے رسولِ برحق کی محبت و شیفتگی ایک بے خود انہ جوش و محویت پیدا کردیتی ہے۔ تم اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اسی کی یاد میں،اسی کے تذکرے میں اور اسی محبت کے لذت وسرور میں بسر کرنا چاہتے ہو۔تم اس کے ذکر وفکر کی مجلسیں منعقد کرتے ہو، ان کی آرائش وزینت میں اپنی محبت ومشقت کی کمائی لٹاتے ہو، خوشبو دار اورتروتازہ پھولوں کے گلدستے سجاتے ہو۔ کا فوری شمعوں کے خوبصورت فانوس اور برقی روشنی کے بہ کثرت کنول روشن کرتے ہو، عطر و گلاب کی مہک اور اگر کی بتیوں کا بخور جب ایوان مجلس کو اچھی طرح معطر کردیتا ہے تو اس وقت مدح وثنا کے زمزموں اوردرودوسلام کے مقدس نذرانوں کے اندر اپنے محبوب ومطلوب مقدس کو ڈھونڈتے ہو اور بسا اوقات تمہاری آنکھوں کے آنسو اور تمہارے پُرمحبت دلوں کی آہیں اس کے اسم مبارک سے والہانہ عشق اور اس کے عشق سے حیات روحانی حاصل کرتی ہیں۔پس کیا مبارک ہیں وہ دل، جنہوں نے اپنے عشق وشیفتگی کے لئے رب السموٰت و الارض کے محبوب کو چنا اور کیا پاک ومطہر ہیں وہ زبانیں جو سید المرسلین ورحمۃ للعالمین کی مدح وثنا میں زمزمہ سنج ہوئیں:
مصلحت دید من آن است کہ یاراں بہ کار =بگزارند و خم طرۂ یارے گیرند
 انہوں نے اپنے عشق وشیفتگی کے لئے رسول برحق کی محبوبیت کو دیکھا، جسے خود خدا نے اپنی چاہتوں اور محبتوں سے ممتاز کیا  اور  ان کی زبانوں نے اس کی مدح وثنا کی، جس کی مدح و ثنا میں خود خدا کی زبان، اس کے ملائکہ اور قدوسیوں کی زبان اورکائنات ارض کی تمام پاک روحوں اور سعید ہستیوں کی زبان، ان کی شریک وہم نوا ہے: ’’بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبی ٔ (مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔‘‘ (الاحزاب:۵۶)
کائناتِ ہستی کی محبوبیت ِ اعلیٰ:
بلاشبہ محبت نبویؐ اور عشق محمدیؐ کے یہ پاک ولولے اور یہ مخلصانہ ذوق وشوق تمہاری زندگی کی سب سے زیادہ قیمتی متاع ہے اور تم اپنے ان پاک جذبات کی جتنی بھی حفاظت کرو، کم ہے۔ تمہارا یہ عشق، الٰہی ہے، تمہاری یہ محبت ربانی ہے، تمہاری یہ شیفتگی انسانی سعادات اور راست بازی کا سرچشمہ ہے، تم اس وجود مقدس ومطہر سے محبت رکھتے ہو جس کو تمام کائنات انسانی میں سے تمہارے خدا نے ہر طرح کی محبوبیتوں اور ہر قسم کی محمودیتوں کے لئے چن لیا اور محبوبیت ِعالم کا خلعت ِ اعلیٰ صرف اسی کے وجود اقدس پر راست آیا۔ کرہ ٔ ارض کی سطح پر انسان کے لئے بڑی سے بڑی بات جو لکھی جاسکتی ہے، زیادہ سے زیادہ عشق جوکیا جاسکتا ہے، اعلیٰ سے اعلیٰ مدح و ثنا جو زبان پر آسکتی ہے، غرض انسان کی زبان، انسان کے لئے جوکچھ کہہ سکتی اور کرسکتی ہے، وہ سب کا سب صرف اسی ایک انسان کامل واکمل کے لئے ہے اور اس کا مستحق اس کے سوا کوئی نہیں:
مقصودِ ما ز دیر و حرم جز حبیب نیست = ہر جا کنیم سجدہ بدان آستان رسد  (باقی صفحہ ۹؍پر)عبودیت کبریٰ:
 خدا کی الوہیت وربوبیت جس طرح وحدہٗ لاشریک ہے کہ کوئی ہستی اس کی شریک نہیں، اسی طرح اس انسان کامل کی انسانیت اعلیٰ اور عبدیت کبریٰ بھی وحدہ‘ لاشریک ہے کیونکہ اس کی انسانیت وعبدیت میں کوئی اس کا ساجھی نہیں، اس کے حسن وجمال فروانیت کا کوئی شریک نہیں:
منزہ عن شریک فی محاسنہ=فی جوہر الحسن فیہ غیر منقسم
یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم میں تم دیکھتے ہو کہ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر جہاں کہیں کیا گیا، وہاں ان سب کو ان کے ناموں سے پکارا ہے اور ان کے واقعات کا بھی ذکر کیا ہے تو ان کے ناموں کے ساتھ کیا ہے لیکن اس انسان کامل، اس فرداکمل، اس صفات عبدیہ کے وحدہ‘ لاشریک کا اکثر مقامات میں اس طرح ذکر کیا ہے کہ نہ تو اس کا نام لیا گیا، نہ ہی کسی دوسرے وصف سے نامزد کیا گیا، بلکہ صرف’’عبد‘‘ کے لفظ سے اس کے  پروردگار نے اسے (آپؐ کو) یاد فرمایا: ’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجد حرام سے (اس) مسجد اقصٰی تک لے گئی۔‘‘ (الاسراء:۱) ’’اور یہ کہ جب اللہ کے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی عبادت کرنے کھڑے ہوئے تو وہ ان پر ہجوم در ہجوم جمع ہو گئے (تاکہ ان کی قرأت سن سکیں)۔‘‘ (الجن:۱۹) سورہ کہف کو اس آیت سے شروع کیا: ’’تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جس نے اپنے (محبوب و مقرّب) بندے پر کتابِ (عظیم) نازل فرمائی ۔‘‘ سورہ فرقان کی پہلی آیت ہے: ’’کیا ہی پاک ذات ہے اس کی جس نے ’’الفرقان‘‘ اپنے عبد پر اتارا تاکہ وہ تمام عالم کی ضلالتوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔‘‘
 اسی طرح سورہ نجم (آیت:۱۰) میں کہا:’’پس اُس (اﷲ) نے اپنے عبد (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی۔‘‘  حدید (آیت :۹)  میں کہا: ’’وہی ہے جو اپنے (برگزیدہ) بندے پر واضح نشانیاں نازل فرماتا ہے۔‘‘ پس ان تمام مقامات میں آپﷺ کا اسم گرامی نہیں لیا بلکہ اس کی جگہ صرف ’’عبد‘‘ فرمایا، حالانکہ بعض دیگر انبیاء کے لئے اگر ’’عبد‘‘ کا لفظ فرمایا ہے تو اس کے ساتھ نام کی تصریح بھی کردی ہے۔ سورہ  مریم میں حضرت زکریاؑ کے لئے فرمایا:
 ’’یہ آپ کے رب کی رحمت کا ذکر ہے (جو اس نے) اپنے (برگزیدہ) بندے زکریاؑ پر (فرمائی تھی)۔‘‘
 حضرت داؤد کیلئے فرمایا: ’’اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کریں۔‘‘ (صٓ:۱۷)
 اسی طرح حضرت ایوب ؑ کی بابت  سورہ صٓ آیت نمبر۴۱؍ میں  فرمایا: ’’اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے ۔‘‘  
خصوصیت و امتیاز:
 اس خصوصیت و امتیاز سے اسی حقیقت کو واضح کرنا مقصود الٰہی تھا کہ اس وجودِ گرامی کی عبدیت اور بندگی اس درجۂ آخری و مرتبہ قصویٰ تک پہنچ چکی ہے، جو انسانیت کی انتہا ہے اور جس میں اور کوئی عبد اس عبد ِکامل کا شریک و سہیم نہیں۔ پس عبدیت کا فرد ِکامل وہی ہے اور اس لئے بغیر اضافت و نسبت کے صرف ’’عبد‘‘ کا لقب اس کو ناموں اور علموں کی طرف پہنچا دیتا ہے کیونکہ تمام کائنات ِ ہستی میں اس کا سا اور کوئی عبد نہیں۔
 پس یہ وہ تھا کہ اس کے صفات ِ الٰہیہ کا یہ حال رہا ہے، اس کی انسانیت و عبدیت کی وحدت اس طرح فرمانفرما سے جمیع کائنات ہے، اس کی محبت و محبوبیت کا خود رب السمٰوات والارض نے اعلان کیا اور اس کی رحمت کو اپنی ربوبیت کی طرح تمام عالمین پر محیط کردیا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے  اپنی صفات ِ رافت و رحمت سے متصف فرمایا اور اگر اپنے آپ کو ’’الرحمٰن  الرحیم‘‘  کہا تو اسے بھی بالمومنین رؤف الرحیم قرار دیا۔ اسے تمام قرآن حکیم میں کبھی بھی نام لے کر نہ پکارا بلکہ کبھی صدائے عزت سے نوازا کہ یاایھاالرسول  اور کبھی  طریق محبت سے پکارا کہ یاایھاالمزمل!  اس کے وجود باجود کی عزت و عظمت کو اپنی عزت کی طرح اپنے بندوں پر فرض کردیا اور جابجا حکم دیا کہ تعزروہ وتوقّروہ  (اس کی عزت کرو اور اس کی توقیر بجالاؤ) پھر وہ کہ اس کی محبوبیتوں اور عظمتوں کا یہ حال تھا کہ اس کا وجود ِمقدس و اطہر تو بڑی چیز ہے، وہ جس آبادی میں بسا اور جس شہر کی گلیوں میں چلا پھرا، اس کی عزت کو بھی خدائے زمین و آسمان نے تمام عالم میں نمایاں کیا:
 ’’میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوں، (اے حبیبِ مکرّم!) اس لئے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں۔‘‘ (البلد:۲۔۱) 
 پس جس کی قدوسیت وجبروتیت کا یہ مرتبہ ہو، اس کی یاد میں جتنی گھڑیاں بھی کٹ جائیں، اس کے عشق میں جتنے آنسو بہہ جائیں، اس کی محبت میں جتنی آہیں بھی نکل جائیں اور اس کی مدح و ثنا میں جس قدر بھی زبانیں زمزمہ پیرا ہوں، انسانیت کا حاصل، روح کی سعادت، دل کی طہارت، زندگی کی پاکی اور ربانیت و الٰہیت کی پادشاہی ہے۔ وللہ ورما قال
راہ تو بہ ہر قدم کہ پویند خوش است
وصل تو بہ ہر سبب کہ جویند خوش است
روئے تو بہ ہر دیدہ کہ ببیند نکوست
نام تو بہ ہر زباں کہ گویند خوش است
جشن حصول اور ماتم ضیاع
 لیکن جب کہ تم اس ماہ مبارک میں یہ سب کچھ کرتے ہو اور اس ماہ کے واقعہ ٔ ولادت کی یاد میں خوشیاں مناتے ہو تو اس کی مسرتوں کے اندر تمہیں کبھی اپنا وہ طرز عمل بھی یاد آتا ہے جس کے بغیر اب تمہاری کوئی خوشی نہیں ہوسکتی؟ کبھی تم نے اس حقیقت پر بھی غور کیا ہے کہ یہ کس کی پیدائش ہے جس کی یاد کے لئے تم سروسامان کرتے ہو؟ یہ کون شخصیت ہیں جن کی ولادت کے تذکرے میں تمہارے لیے خوشیوں اور مسرتوں کا ایسا عزیز پیام ہے؟ آہ! اگر اس مہینے کی آمد تمہارے لئے جشن ومسرت کا پیام ہے، کیونکہ اسی مہینے میں وہ شخصیت دُنیا میں آئی جس نے ہمیں سب کچھ دیا تھا، تو اس پس منظر میں میرے لیے اس سے بڑھ کر غور وفکر کا کوئی اور مہینہ نہیں کیونکہ اس مہینے میں تشریف لانے والے نے جو کچھ ہمیں دیا تھا، وہ سب ہم نے کھودیا، اس لئے اگر یہ ماہ ایک طرف بخشنے والے کی یاد تازہ کرتا ہے تو دوسری طرف کھونے والوں کے زخم کو بھی تازہ ہوجانا چاہئے:
ما خانہ رمیدگان ظلمیم پیغام خوش از دیار مانیست مجلسیں روشن اور دل تاریک:
 تم اپنے گھروں کو مجلسوں سے آباد کرتے ہو، مگر تمہیں اپنے دل کی اجڑی ہوئی بستی کی بھی کچھ خبر ہے؟ تم  پھولوں کے گلدستے سجاتے ہو، مگر آہ! تمہارے اعمال حسنہ کا پھول مرجھا گیا ہے۔ تم گلاب کے چھینٹوں سے اپنے رومال و آستیں کو معطر کرنا چاہتے ہو، مگر آہ! تمہاری غفلت کہ تمہاری عظمت اسلامی کی عطربیزی سے دنیا کے مشام روح یکسر محروم ہیں! کاش تمہاری مجلسیں تاریک ہوتیں۔ تمہارے اینٹ اور چونے کے مکانوں کو زیب وزینت کا ایک ذرہ نصیب نہ ہوتا، تمہاری آنکھیں رات رات بھر مجلس آرائیوں میں نہ جاگتیں، تمہاری زبانوں سے ماہ ربیع الاول کی ولادت کے لئے دنیا کچھ نہ سنتی مگر تمہاری روح کی آبادی معمور ہوتی، تمہاری زبانوں سے نہیں مگر تمہارے اعمال کے اندر سے اسوۂ حسنہ نبویؐ کی مدح و ثنا کے لئے ترانے اٹھتے:
 ’’حقیقت یہ ہے کہ (ایسوں کی) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔‘‘ (الحج:۴۶)
 پھر آہ وہ قوم اور صدآہ اس قوم کی غفلت و نادانی، جس کے لئے ہر جشن و مسرت میں پیام ماتم ہے اور جس کی حیات قومی کا ہر قہقہہ ٔ  عیش، فغان حسرت ہوگیا ہے، مگر نہ تو ماضی کی عظمتوں میں اس کے لئے کوئی منظر عبرت ہے، نہ حال کے واقعات و  حوادث میں کوفی پیام تنبیہ وہوشیار ی ہے اور نہ وہ مستقبل کی تاریکیوں میں زندگی کی کوئی روشنی اپنے سامنے رکھتی ہے۔ اسے اپنی کامجوئیوں اور جشن و مسرت کی بزم آرائیوں سے مہلت نہیں حالانکہ اس کے جشن وطرب کے ہر ورود میں ایک نہ ایک پیام ماتم و عبرت بھی رکھ دیا گیا ہے۔ بشرطیکہ آنکھیں دیکھیں، کان سنیں اوردل کی دانائی غفلت و  سرشاری نے چھین نہ لی ہو:
 ’’بیشک اس میں یقیناً انتباہ اور تذکّر ہے اس شخص کیلئے جو صاحبِ دل ہے (یعنی غفلت سے دوری اور قلبی بیداری رکھتا ہے) یا کان لگا کرسُنتا ہے (یعنی توجہ کو یک سُو اور غیر سے منقطع رکھتا ہے) اور وہ (باطنی) مشاہدہ میں ہے ۔‘‘ (قٓ: ۳۷)
ظہور و مقصد:
 ماہ ربیع الاول کی یاد میں ہمارے لئے جشن ومسرت کا پیام اس لئے تھا کہ اسی مہینے میں خدا کا وہ فرمانِ رحمت دنیا میں آیا جس کے ظہور نے دنیا کی ثقاوت وحرمان کا موسم بدل دیا، ظلم وطغیان اور فساد وعصیان کی تاریکیاں مٹ گئیں۔ خدا اور اس کے بندوں کا ٹوٹا ہوا رشتہ جڑ گیا۔ انسانی اخوت و مساوات کی یگانگت نے دشمنیوں اور کینوں کو نابود کردیا اور کلمہ کفر وضلالت کی جگہ کلمہ حق وعدالت کی بادشاہت کا اعلان عام ہوا:
 ’’بیشک تمہارے پاس اﷲ کی طرف سے ایک نور (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگیا ہے اور ایک روشن کتاب (یعنی قرآن مجید)۔اﷲ اس کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیرو ہیں، سلامتی کی راہوں کی ہدایت فرماتا ہے اور انہیں اپنے حکم سے (کفر و جہالت کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و ہدایت کی) روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور انہیں سیدھی راہ کی سمت ہدایت فرماتا ہے۔‘‘ (مائدہ:۱۶۔۱۵)
 لیکن دنیا شقاوت و حرمان کے درد سے پھر دُکھیا ہوگئی۔ انسانی شروفساد اور ظلم و طغیان کی تاریکی خدا کی روشنی پر غالب ہونے کے لئے پھیل گئی، سچائی اور راستبازی کی کھیتیوں نے پامالی پائی اور انسانوں کے بے راہ گلے کا کوئی رکھوالا نہ رہا، خدا کی وہ زمین جو صرف خدا ہی کے لئے تھی، غیروں کو دے دی گئی اور اس کے کلمہ حق وعدل کے غمگساروں اور ساتھیوں سے اس کی سطح خالی ہوگئی:
 ’’زمین کی خشکی اور تری دونوں میں انسان کی پیدا کی ہوئی شرارتوں سے فساد پھیل گیا اور زمین کی صلاح وفلاح غارت ہوگئی۔ (روم:۴۱) پھرآہ! تم اس کے آنے کی خوشیاں تو مناتے ہو، پر اس کے ظہور کے مقصد سے غافل ہوگئے ہو اور وہ جس غرض کے لئے آیا تھا، اس کے لئے تمہارے اندر کوئی ٹیس اور چبھن نہیں۔ یہ ماہ ربیع الاول اگر تمہارے لئے خوشیوں کی بہارہے، تو صرف اس لئے کہ اس مہینے میں دنیا کی خزانِ ضلالت ختم ہوئی اور کلمہ حق کا موسم ربیع شروع ہوا۔ پھر اگر آج دنیا کی عدالت سموم ضلالت کے جھونکوں سے مرجھاگئی ہے تو اے غفلت پرستو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ بہار کی خوشیوں کی رسم تو مناتے ہو،مگر خزاں کی پامالیوں پر نہیں روتے؟
(بحوالہ: ـ ’’رسول رحمتؐ‘‘ از مولانا غلام رسول مہر مرحوم)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK