ست پڑا کے دامن میں آباد قصبہ مارول زبان و ادب اور تہذیب کا قلعہ ہے

Updated: August 02, 2021, 12:23 PM IST

جلگائوں ضلع کے بیاول تعلقہ کا گائوں مارول مہمانوں کی خاطر تواضع، مشاعروں اور ادبی نشستوں کے انعقاد ، تعلیم و تربیت اور عام زندگی میں اردو کے رواج کیلئے قابل ذکر ہے۔ پیش ہے

 District Parishad Urdu School in Marwal.Picture:Shah Faisal Marwali and Javed Farooqi.
مارول میں واقع ضلع پریشد اردو اسکول تصویر: شاہ فیصل مارولی اور جاوید فاروقی

ردو کی ترویج و ترقی اور اردو تہذیب کو اب تک برقرار رکھنے والے گائوں یا قصبوں  کے تعارف کی  ۵؍ قسطوں کی  سیریز میں گزشتہ ہفتے ان کالموں میں آپ نےخطہ برار کےمسلم اکثریتی آبادی والے ضلع بلڈانہ کےقصبے دیول گھاٹ کا ذکر پڑھا   جسے’ اساتذہ کا گائوں‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس ہفتے ہم علاقہ ٔخاندیش کے اردو نوازضلع جلگائوں کے  بیاول تعلقہ کے چھوٹے سے قصبے ’مارول‘ کاذکر کریں گے۔ یہ  پُرفضا گائوں ست پڑا پہاڑی سلسلےکے دامن میں آباد ہے۔مہاراشٹر کی شمالی سرحد جو مدھیہ پردیش سے ملتی ہے اسی پر جلگائوں ضلع میں یہ آخری گائوں  ہے لیکن  اردو زبان و ادب اور تہذیب کے حوالے سے اسے ہم مہاراشٹر کا پہلا قلعہ قرار دے سکتے ہیں ۔  مارول تاریخی قصبہ ہے کیوں کہ یہاں پر اورنگ زیب عالمگیر کے  زمانے سے  یا اس سے  بھی قبل مسلمان آباد ہیں۔ اس دو ر سے ہی یہاں اردو و فارسی تہذیب کے اثرات ہیں اور آزادی کے بعد سے اب تک یہاں کے لوگوں نے اپنی تہذیب و ثقافت کو محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔  ۱۵؍ سے ۱۶؍ ہزار کی آبادی والے اس قصبے میں اردو کے  پرائمری اسکولوں کے علاوہ  مولانا آزاد ہائی اسکول اور جونیئر کالج  اور آئیڈیل ہائی اسکول ہیں۔ اس کے علاوہ طالبات کے لئے ۱۹۱۶ء سے ہی علاحدہ اسکول موجود ہے۔  یہاں کے اسکولوں میں مجموعی طور پر ۲؍ ہزار کے قریب طلبہ اردو ذریعہ تعلیم سے فیض حاصل کررہے ہیں۔  خاندیش کا پہلا اردو ڈی ایڈ کالج بھی اسے قصبے میں قائم کیا گیا تھا جو اب بھی جاری و ساری ہے اور یہاں سے سیکڑوں اساتذہ نکل کر درس و تدریس سے وابستہ ہوئے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد تو جلگائوں ضلع میں ہی ہے جبکہ ممبئی، ناسک ، مالیگائوں اور پڑوسی اضلاع میں بھی مارول کے ڈی ایڈ کالج سے تعلیم حاصل کرنے والے اساتذہ طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کررہے ہیں۔ مارول میںڈاکٹر ذاکر حسین سے منسوب ایک لائبریری ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں مختلف کتابیں تو موجود ہیں لیکن ادبی رسائل کی بھی ایک بڑی تعداد ہر ماہ آتی ہے جس سے یہاں کے لوگوں کے ذوق کا اندازہ ہو تا ہے۔ ان رسالوں میں آج کل ، قرطاس ، شاعر، مکتبہ جامعہ کے ادبی رسائل ،تکمیل  اورمالیگائوں و جلگائوں سے شائع ہونے والے متعدد رسائل شامل ہیں۔ 
  متمول مسلمانوں کی آبادی والے قصبے مارول میں۲؍ عربی مدرسے بھی ہیں جن میں ایک مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ  طالبات کے لئے ہے ۔ موجودہ وقت میں یہاں ۳۰۰؍ سے زائد طالبات علم  حاصل کررہی ہیں جنہیں ابتدائی تعلیم سے لے کر عالمہ کورس تک کروایا جاتا ہے جبکہ طلباء کے لئے  مدرسہ عروج الاسلام بھی یہیں واقع ہے جو مہاراشٹر کے اہم اور موقردینی تعلیم کے اداروں میں سے ایک ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آج بھی یہاں طلبہ کو داخل کروانے کے لئے باقاعدہ قطار لگتی ہے۔ اس گائوں کو بھی ہم اساتذہ کا گائوں کہہ سکتے ہیںکیوں کہ یہاں ہر گھر میں ایک سے ۲؍ ٹیچر ہیں جبکہ کچھ گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں ۵؍ سے ۷؍ اساتذہ ہیں۔ اس کے علاوہ ہر گھر میں ایک حافظ قرآن بھی  ہے ۔  
 اس قصبے کی کچھ خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہاں کی ۹۸؍ فیصد آبادی تعلیم یافتہ ہے۔ ان میں خواتین کی بھی نصف تعداد ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مارول میں جو مشاعرے ہوتے ہیں ان میں خواتین کیلئے الگ سے  اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ وہ بھی اپنے ذوق کی آبیاری کرسکیں۔ مارول میں تعلیم حاصل کرنے والے اور یہاں ایک عرصہ گزارچکے افراد نے بتایا کہ مارول میں مہمان نوازی کی بھی اپنی تہذیب ہے۔ اگر کوئی مہمان گائوں میں آیا ہے تو پورے گائوں کو معلوم ہو جاتا ہے جبکہ جس محلے میں اس مہمان کو جانا ہے وہاں پر باقاعدہ منادی کی جاتی ہے کہ یہاں مہمان آئے ہیں۔اس کے بعد پورے محلے کے لوگ اپنی اپنی جانب سے اور اپنے اپنے ذوق کے اعتبار سے مہمان کی تواضع کرتے ہیں۔
 مارول کی وجہ تسمیہ کے بارے میں یہاں کی بزرگ  و علم دوست شخصیت اور اردو کےسینئر شاعر و ادیب قیوم راز ؔنے بتایا کہ’’ چونکہ یہاں اردو اور فارسی کا رواج رہا ہے اسی لئے اس گائوں کا نام پہلے ’ ماہ رو ‘ تھا  جو بگڑتے بگڑتے مارول ہو گیا اور اب اسی طرح سے بولا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مارول کو اردو زبان و ادب اور تہذیب کا گڑھ بنانے میں کچھ شخصیات کا بہت بڑا تعاون رہا ہے جن میں سید حامد علی ، امیر الدین (خلیفہ)، سید ناظر علی ، سید جہانگیر علی، پروفیسر معین الدین  اورساجدؔ الفاروقی   کے نام شامل ہیں۔ ان شخصیات کے طفیل مارول  نہ صرف اردو تہذیب کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہے بلکہ یہاں کا بچہ بچہ اردو شعر و ادب کا وہ ذوق رکھتا ہے جو اس وقت ملک میں کم کم ہی ملے گا۔ قیوم راز صاحب نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مارول میں مشاعروں کا چلن ہے اور ان کی شہرت ہر جگہ ہے۔ اسی وجہ سے یہاں پر پورے ملک کے بڑے بڑے شعراء تشریف لاچکے ہیں جن میں راحت اندوری سے لے کر منور رانا اور وسیم بریلوی تک کے نام شامل ہیں ۔ قیوم راز کہتے ہیں کہ ان مشاعروں میں عام طور پر مقامی شعراء بہت سنبھل کر اپنا کلام پیش کرتے ہیں اوراپنے لہجے اور تلفظ کا بھرپور خیال رکھتے ہیں کیوںکہ یہاں پر سامعین میں موجود ۹؍ ویں دسویں کے طلبہ بھی تلفظ  غلط ادا کرنے پر بھری محفل میں ٹوک دیتے ہیں۔قیوم راز کے مطابق کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کے بچے بچے میں  ادب کا بہت اعلیٰ ذوق ہے جو عملی زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔ یہاں سیّد اور فاروقی خاندان (جن کا تعلق برہانپور اور مغلوں  کے خاندان سے رہا ہے)کے افراد کی اکثریت ہے اور ان دونوں خاندانوں نے اردو زبان و تہذیب کو ہر طرح سے محفوظ رکھنےکی کوشش کی  ہے۔   انہوں نے بتایا کہ مارول میں میلاد خوانی کی بھی بہترین روایت رہی ہے اور یہاں پر ہونے والی میلاد میں معیاری نعتیہ کلام پڑھا جاتا رہا ہے۔ایک زمانے میں مارول میں ایک وقت میں ۴۰؍ سے ۴۵؍ میلاد خواں تھے۔ آج بھی یہ روایت ہے مگر اس کا زور کچھ کم ہو گیا ہے۔ عزیز مارولی ، ممتاز مارولی ، رفیق مارولی ، انجم مارولی، اشفاق مارولی اورگردوں مارولوی جیسےشعراء کا تذکرہ قیوم  راز صاحب نے خصوصی طور پر کیا۔ 
  مارول کی ضلع پریشد میں برسرروزگار اور ادبی نشستوں و مشاعروں کے معروف ناظم، سید حیدر علی نے بتایا کہ ’’مارول میں ماہانہ ادبی و شعری نشستیں ہو تی ہیں جبکہ ہر گھر میں شاعری کا ذوق رکھنے والے موجود ہونے کی وجہ سے یہ نشستیں بہت کارآمد ثابت ہو تی ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت مارول  سے تعلق رکھنے والے ۴۰؍ شعراء کرام ہیں جن میں سے کچھ درس و تدریس سے وابستہ ہیں جبکہ کچھ دیگر شعبوں میں چلے گئے ہیں۔  سید حیدر علی کے مطابق اردو تہذیب یہاں کے  باشندوں کی نشست و برخاست سے لے کر دکانوں ، اسپتالوں ، دواخانوں ،اسکولوں اور گرام پنچایت تک کے سائن بورڈس پر نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر چند کہ مارول   کے اطراف  کے گائوں میں مراٹھی بولنے والوں اور اسی لہجے میں اردو بولنے والوں کی اکثریت  ہے لیکن مارول میں اردو کو اسی کے لہجے میں بولا اور برتا جاتا ہے۔ یہاں لہجے اور تلفظ میں کسی اور زبان کی ارادی یا غیرارادی طور پر آمیزش نہیں ہو تی ہے۔ 
 مولانا آزاد ہائی اسکول میں برسرکارمحمد جاوید فاروقی کے مطابق ’’مارول  میں زبان و ادب کا ذوق بہت اعلیٰ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگوں میں بردباری بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس گائوں کو اور علاقے کو یہ امتیاز حاصل رہا ہے کہ یہاں پر تعلیمی بیداری کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی ذوق بھی پروان چڑھا ہے۔ آزادی سے قبل بھی یہاں بڑے ادباء وشعراء گزرے ہیں  جبکہ آج بھی  ایک بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو شعر و ادب کا شوق رکھتے ہیں اور خود شعر کہتے ہیں۔‘‘ جاوید فاروقی کے مطابق یہاں اردو کے سائن بورڈس تو آپ کو ملیں گے ہی ساتھ ہی گرام پنچایت کا نام بھی اردو میں تحریر ہے۔ یہا ں دکانوں کے بورڈ تیار کرنے والے افراد بھی اچھی اردو جانتے ہیں جس کی وجہ سے وہ عام طور پر املا کی کوئی غلطی نہیں کرتے ہیں اور پھر جو لوگ یہ بورڈ بنواتے ہیں وہ بھی اس پر نظر رکھتے ہیں۔  جاوید فاروقی کے مطابق مارول کے ہر گھر میں ایک ٹیچر ملے گا بھلے ہی وہ برسرروزگار نہ ہو لیکن وہ تربیت یافتہ ضرور ہو گا۔اس کے علاوہ  حفاظ کی بھی بڑی تعداد ہے کیوں کہ یہاں پر دو مدرسے ہیں جہاں سے  بڑی تعداد میںطالبات عالمہ بن کر نکلتی ہیں  جبکہ طلباء حافظ بنتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK