کورونا بحران اور بچوں کا بدلتا مزاج، کیا کریں؟

Updated: September 14, 2021, 3:44 PM IST | Sonakshi Gupta | Mumbai

ایک وہ وقت تھا جب بچے ہم عمر دوستوں کے ساتھ تفریح گاہ میں کھیلنے جاتے تھے، کھیلتے ہوئے لڑتے جھگڑتے اور گر پڑتے تھے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں انہیں سماجی بناتی تھیں جو کووڈ کے سبب عام زندگی سے غائب ہوگئی ہیں۔ کووڈ کے ماحول میں پلنے والے بچوں کیلئے ان کے والدین ہی ان کی پوری دنیا بنتے جا رہے ہیں

Do not talk to your child directly about illness or infection.Picture:INN
بچے سے براہِ راست بیماری اور انفیکشن کے بارے میں بات نہ کریں، بلکہ ان سے بات کرنے کا انوکھا انداز تلاش کریں۔ تصویر: آئی این این

چند روز قبل مَیں اپنے اپارٹمنٹ میں جانے کے لئے لفٹ کا انتظار کر رہی تھی، اچانک میری نظر ایک تین سے چار سال کے بچے پر پڑی، جو اپنی ماں کے ساتھ لفٹ کا گراؤنڈ فلور پر آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر موبائل فون میں دیکھنے کے بعد جب میری نظر اس بچے سے ٹکرائی تو مَیں نے اسے ’ہیلو ڈیئر‘ کہا۔ بس اتنا کہنا تھا کہ وہ بچہ اپنی ماں سے لپٹ گیا اور میری جانب حیرانی سے دیکھنے لگا، جیسے مَیں نے کچھ غلط کہہ دیا۔ بچے کے بجائے اس کی ماں نے ہیلو کا جواب دیا اور بچے کا نام بھی بتایا۔ ہم لفٹ میں گئے اور تھوڑی دیر میں مَیں اپنے گھر پہنچ گئی، لیکن اس دوان بچے کے چہرے پر مسکراہٹ تک نظر نہیں آئی۔ یہ دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور ذہن میں سب سے پہلے یہی خیال آیا کہ شاید بچہ شرمیلا ہوگا، جلدی دوسروں سے گھلتا ملتا نہیں ہوگا۔ اس لئے اس طرح برتاؤ کر رہا تھا، لیکن کچھ دن بعد ایک اسٹڈی میں پڑھا کہ تقریباً ڈیڑھ سال سے گھروں میں قید رہنے کو مجبور ہوئے یہ بچے اب سوشلائزنگ (میل جول) سے ڈر محسوس کرنے لگے ہیں۔
ریسرچ کیا کہتی ہے؟
 نیشنل سینٹر فار بائیوٹیکنالوجی انفارمیشن کے ذریعے جاری کی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ۳؍ سے ۶؍ سال کے چھوٹے بچّوں میں سب سے زیادہ کلینگ نیس (Clinginess) یعنی والدین سے چپکے رہنے کی عادت بن گئی ہے۔ انہیں اپنے گھر کے لوگوں کے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ ڈر رہتا ہے اس لئے وہ انہیں تنہا نہیں چھوڑتے، جبکہ ۶؍ سے ۱۸؍ سال کے بچوں میں بیماری کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی ہے۔ وہیں چائلڈ اور یورپین پیڈیاٹریک اسوسی ایشن کی اسٹڈی میں بتایا گیا ہے کہ طویل عرصے تک آئسولیشن میں رہنے کے بعد چھوٹے بچوں کو سب سے زیادہ توجہ مرکوز کرنے میں دقت پیش آرہی ہے، وہ کلینگ نیس اور چڑچڑے پن سے پریشان رہتے ہیں۔ اس لئے اجنبیوں سے ملنا پسند نہیں کرتے۔
 کورونا کے قہر میں جیسے جیسے اضافہ ہو رہا ہے سوشل ڈسٹینسنگ، آئسولیشن اور لاک ڈاؤن جیسے الفاظ ہماری زبان میں شامل ہوتے جارہے ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ آگے چل کر اینٹی سوشلائزنگ اور انٹروورٹ (اپنی ذات کی طرف توجہ مرکوز رکھنے والا ) جیسے الفاظ بھی ہمارے لئے عام ہو جائیں۔ چار دیواری میں سمٹ کر رہنا ہماری مجبوری نہیں بلکہ پسند بن جائے اور بچے سوشل ڈسٹینسنگ کرتے کرتے اینٹی سوشل (سماج دشمن) بن جائیں۔ موجودہ صورتحال میں والدین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ انہیں کورونا بحران کے اثرات سے محفوظ رکھیں، ساتھ ہی ان کے بدلتے رویے پر بھی توجہ دیں۔
دوستوں سے دوری کا اثر
 ایک وہ وقت تھا جب بچے ہم عمر دوستوں کے ساتھ تفریح گاہ میں کھیلنے جاتے تھے، کھیلتے ہوئے لڑتے جھگڑتے اور گر پڑتے تھے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں انہیں سماجی بناتی تھیں جو کووڈ کے سبب عام زندگی سے غائب ہوگئی ہیں۔ جس کا اثر بچوں کے رویے پر بھی پڑ رہا ہے، کووڈ کے ماحول میں پلنے والے بچوں کے لئے ان کے والدین ہی ان کی پوری دنیا بنتے جا رہے ہیں۔ بچے، والدین کے ساتھ زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ آس پاس کا ماحول اور اپنے والدین کا ڈر دیکھ کر اتنا سہم گئے ہیں کہ جلد ہی گھبرا جاتے ہیں۔ انہیں اپنے جیسا کوئی شخص نظر نہیں آتا، جس سے اپنی بات کہہ سکیں، کیونکہ اس بحران نے انہیں اپنوں سے بھی دوری بنانا سکھا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بچوں کے رویے میں چڑچڑا پن نظر آنے لگا ہے۔ وہ کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے ہیں، انہیں انجان چہروں سے میل جول بڑھانے میں ڈر محسوس ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ بچے دادا دادی یا کسی رشتہ دار کے گھر جانے سے بھی گھبرانے لگے ہیں۔ اس سے والدین کی پریشان بڑھ گئی ہے۔
والدین اس طرح بچے کی مدد کرسکتے ہیں
ز اگر بچہ بول نہیں رہا ہے تو اس کے دل کی بات جاننے کے لئے اسے ڈرائنگ اور پینٹنگ کی جانب راغب کریں۔
ز بچے سے براہِ راست بیماری اور انفیکشن کے بارے میں بات نہ کریں، بلکہ ان سے بات کرنے کا انوکھا انداز تلاش کریں۔
ز گھر کا ماحول خوشگوار بنانے کی کوشش کریں۔
ز اگر گھر میں مالی پریشانی ہے تو اس بارے میں بچوں کے سامنے بات نہ کریں، تاکہ ان پر ذہنی دباؤ نہ پڑے۔
ز دنیا سے جوڑنے اور لوگوں سے متعارف کرانے کیلئے چھوٹے بچوں کو ویڈیو کال کے ذریعے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملواتے رہیں۔ اس طرح انہیں اپنوں سے ملنے جلنے میں دشواری پیش نہیں آئے گی۔ 
ز اگر ضرورت محسوس ہو تو اپنے بچّے کی کاؤنسلنگ کروائیں۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK