اکھلیش کا یوگی پر طنز،شکست کا احساس ہوتے ہی ’بابا‘ کی زبان بدلنے لگی

Updated: September 15, 2021, 9:17 AM IST | Lucknow

وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ کے ’ابا جان‘والے بیان پر سماجوادی سربراہ کا جوابی حملہ،بلڈوزر چلانے والےا فسران کو بھی متنبہ کیا، کہا: غریبوں کا گھر منہدم کرنے والوں کی فہرست تیار ہے،حکومت میں آنے پر ایسے کسی بھی افسرکو بخشا نہیں جائے گا، کمیونسٹ لیڈر راجہ مہندر پرتاپ سے یوینورسٹی کو منسوب کرنا بی جے پی کا ڈھونگ قرار دیا

Samajwadi Party chief and former Uttar Pradesh chief minister Akhilesh Yadav.Picture:INN
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اوراترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو تصویر آئی این این

ترپردیش کےوزیرا علیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کیلئے جی جان لگا ر ہے سماجوادی لیڈر اکھلیش یادو کے درمیان لفظی جنگ میں ہرگزرتے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔یوگی اب اکثر اپنے خطاب میں ’ابا جان‘ کے سہارے بالواسطہ طور پر اکھلیش پر طنز کرتے ہیں جس کے جواب میں اکھلیش بھی مسلسل تیکھے حملے کرنے لگے ہیں۔
  گزشتہ دنوں یوگی کے ذریعہ دیئے گئے ایسے ہی ایک بیان پر اکھلیش نےمنگل کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یوگی حکومت کے دن پورے ہوگئے اورآئندہ اسمبلی ا نتخابات میں شکست کا انہیں بھر پور احساس بھی ہونے لگا ہے جسے دیکھتے ہوئے ان کی زبان بدلنے لگی ہے۔انہوں نے علی گڑھ میں راجہ مہندر پرتاپ کے نام سے یونیورسٹی کے قیام پر طنز کرتے ہوئے اسے بی جے پی کا ڈھونگ قرار دیا۔اس کے ساتھ ہی، بلڈوزر کو یوگی حکومت کی ایک واحد حصولیابی بتاتے ہوئے افسران کو متنبہ بھی کیا کہ زمین دوز کی جانے والی عمارتوں کی فہرست بنانے والوں کی لسٹ بھی سماجوادیوں نے تیار کر لی ہے۔ حکومت میں آنے پر ان میں سے کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ 
 سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اب کھل کروزیرا علیٰ  یوگی آدتیہ ناتھ پر حملہ کر رہے ہیں ۔انہوں نےمنگل کو پارٹی ہیڈکوارٹرز پر لیڈروں کی ایس پی میں شمولیت کے موقع پر میڈیا سے خطاب میں وزیرا علیٰ کی عرفیت کے ساتھ کہا کہ شکست کا احساس انہیں ہوچکا ہے،اسلئے بابا کی زبان بدلنے لگی ہے۔آنے والے وقت میں بی جے پی کا صفایا طے ہے،ا س کا جانا طے ہے، سرکار کے ’مکھیا‘ کی زبان کا اس طرح بدلنا اس کاواضح ثبوت ہے۔  اکھلیش نے یہ تبصرہ یوگی کے ذریعہ ’ابا جان‘ کہتے ہوئے انہیں بالواسطہ نشانے بنائے جانے پر کیا ہے۔ 
 افسران کو متنبہ کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ جو لوگ نقشہ دیکھ دیکھ کر ، فہرست تیار کر رہے ہیں اور مکانات و دکانیں منہدم کروا رہے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ سماجوادیوں نے بھی ایسے افسران کی لسٹ بنا رکھی ہے۔حکومت میں آنے پر ایسے کسی  بھی افسرکو بخشا نہیں جائے گا،سب سے حساب لیا جائے گا۔ سابق وزیرا علیٰ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی رہائش بھی بغیر نقشہ ہی کے بنی ہے، اسے منہدم کیوں نہیں کیا گیا؟
 اکھلیش یادو نےکہا کہ بی جے پی سے ہر کوئی پریشان ہے۔ ان کے پاس اپنی حصولیابی دکھانے کیلئے کچھ بھی نہیں اسی لئے تو یہ کسی اور کی تصویر دکھانی پڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے کیا ہی کیا ہے جو دکھائے گی۔اکھلیش نے ہنستے ہوئے کہا کہ اب نوجوانوں کو بیوقوف نہیں بنا سکتے،ا ن کے جھوٹ کو انہوں نے سمجھ لیا اور آئینہ دکھادیا۔ایس پی سربراہ نے کہا کہ وزیرا علیٰ علی گڑھ میں اپنی سرکار کی کار گز ا ر یا ں شمار کرا رہے تھےاور جاٹ راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کے نام پر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد وزیرا عظم کے ہاتھوں رکھا جارہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’تا عمر فرقہ واریت اور تنگ ذہنی سیاست کے خلاف صف آرا رہنے والے اور بی جے پی کے پیشروئوں کی ضمانت ضبط کرانے والے  سے یونیورسٹی کو منسوب کرنا بی جے پی کا ڈھونگ نہیں تو اور کیا ہے؟انہوں نے کہا کہ یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ راجہ مہندر پرتاپ کے ذریعہ بنائی گروکل وشو ودیالیہ، ورنداون کو بی جے پی حکومت کے ذریعہ فرضی قرار دیا جارہا ہے۔
  خیال رہے کہ جس راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کے نام سے یونیورسٹی کھولی جارہی ہے، وہ نظریاتی طور پر کمیونسٹ تھے۔تنگ ذہن سیاست اور جن سنگھ کے شدید مخالف تھے۔انہوں نے ۱۹۵۷ءمیں متھرا سے اٹل بہاری واجپئی کو لوک سبھا الیکشن میں کراری شکست دی تھی۔ تب اٹل بہاری نے جن سنگھ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔  یہی پارٹی بعد میں بی جے پی کی شکل میں وجود میں آئی ۔ان کے نام پر یونیورسٹی کا قیام جاٹوں کو خوش کرنے کی ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھا جارہا ہےجو کسان تحریک کے سبب بی جے پی سے خاصے ناراض ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ راجہ مہندر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالبعلم رہے تھے، لیکن  تعلیم مکمل کئے بغیر ہی وہ جنگ آزادی میں کودگئے تھے، جس کے سبب انہیں برسوں وطن سے باہر رہنا پڑا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK