کسانوں کا احتجاج پھر نشانہ،۴؍ ریاستوں کو نوٹس

Updated: September 15, 2021, 9:45 AM IST | new Delhi

حقوق انسانی کمیشن سرگرم۔ احتجاج کی بنا پر۹؍ ہزار صنعتی اکائیوں  اورعوامی آمدورفت کے متاثر ہونے کا الزام۔ دہلی ، یوپی ،ہریانہ اور راجستھان سے جواب طلب کیا

Efforts to sabotage the successful farmers` movement are ongoing. (Photo: PTI)
کسانوں کی کامیاب تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ (تصویر:پی ٹی آئی )

کسانوں کی کامیاب تحریک کو کس طرح ختم کیا جائے اور کسانوں کی شبیہ کو کس طرح برباد کیا جائے اس سلسلے میں مسلسل تگ و دو جاری ہے لیکن اب تک مخالفین کو کامیابی نہیں ملی ہے مگر اب کسانوں کی تحریک کو حقوق انسانی کی خلاف ورزی بتانے کی کوشش شروع ہو گئی ہے۔ اس کے تحت حقوق انسانی کمیشن نے کسان تحریک کے سبب عوام، صنعتی یونٹس اور کمپنیوں کو ہونے والی مشکلات سے متعلق شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے دہلی،  ہریانہ، اترپردیش، راجستھان اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ کمیشن نے کہا  ہے کہ اس بابت انہیں کئی شکایات ملی ہیں جن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ تحریک کے سبب راستے بند ہونے سے چھوٹی بڑی  ۹۰۰؍ سے زیادہ صنعتی یونٹس پر اثر پڑا ہے۔ تحریک کے سبب سڑکیںبھی متاثر ہوئی ہیں جس سے عام لوگوں، مریضوں ،جسمانی طور پر معذور لوگوں اورمعمر افراد کو خصوصی طور پر پریشانی ہو رہی ہے۔
  کمیشن کو یہ بھی رپورٹ ملی ہے کہ تحریک کے مقامات کے پاس بیریکیڈنگ ہونے کے سبب عوام کو بہت لمبی دوری طے کرنی پڑتی ہے۔ شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے کمیشن نے اترپردیش، دہلی، ہریانہ اور راجستھان کے چیف سیکریٹریز اور پولیس ڈائریکر جنرل سے کہا ہے کہ وہ اس بابت کی گئی کاروائی کی تمام تفصیلات پیش کریں۔ کمیشن کو ملنے والی  شکایات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ تحریک کے مقامات پر کورونا پروٹوکال پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔ساتھ ہی آس پاس رہنے والوں کو راستے بند ہونے کے سبب اپنے گھروں میں قید ہونا پڑ رہا ہے۔ کمیشن کا ماننا ہے کہ احتجاجی مظاہرہ انسانی حقوق کا  مسئلہ ہے لیکن ساتھ ہی اس کے سبب دیگر لوگوں کے بنیادی حقوق کے متاثر ہونے کے بعد بھی توجہ دینےکی ضرورت ہے۔
 کمیشن نے اپنے  نوٹس میںانسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ (آئی ای جی ) سے کہا ہے کہ وہ کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے ملک کی مختلف  معاشی سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیں، انہیں سلسلہ وار درج کریں اور ایک تفصیلی رپورٹ  پیش کرتے ہوئے  بتائیں کہ اگر معاشی حالات پر کوئی اثر پڑا ہے تو اسے دور کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ کمیشن کے مطابق صنعتوں اور کمرشیل اداروں پر اس تحریک کا خاصا اثر ہوا ہے لیکن زمین پر اس کے کتنے اثرات ہیں اس بارے میں تفصیلی رپورٹ کے ذریعے ہی معلوم ہو سکے گا اس لئے ضروری ہے کہ انسٹی ٹیوٹ ان حالات کا تفصیلی جائزہ لے  اور رپورٹ پیش کرے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK