دہلی میں حکومت کے ذریعہ نویں تا بارہویں جماعت کے طلبہ کیلئے ’دیش کے مینٹر‘ نامی پروگرام کا آغاز

Updated: October 13, 2021, 8:23 AM IST | new Delhi

اس کے تحت سرکاری اسکولوں کے طلبہ کا کوئی ’مینٹر‘ بنے گا اور یہ مینٹر صرف دہلی کا نہیں بلکہ ملک کے کسی بھی حصے کا ہوگا، اس کی مدد سے ۹؍ سے۱۲؍ ویں جماعت کے بچوں کو اپنا کریئر بنانے میں مدد ملے گی

Delhi Chief Minister Arvind Kejriwal.
دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال

دہلی کی ریاستی حکومت نے تعلیم کے میدان میںایک اور انقلابی قدم اٹھایا ہے۔تعلیمی حلقوں میں اس پہل کی خوب پزیرائی ہورہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دہلی حکومت کے سابقہ تعلیمی فیصلوں کی طرح اس کے بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک دن قبل پیر کو دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے ذریعہ اس کا افتتاح  عمل میں آیا۔ اس کے تحت سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کیلئے ’ملک کے مینٹر‘  نامی پروگرام  جاری کیا جائے گا ، جس کے ذریعے۹؍ سے۱۲؍ ویں  جماعت کے بچوں کو  اپنا کریئر بنانے میں مدد ملے گی۔
 اس موقع پر پروگرام کا خاکہ پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ نویں کے بعد بچے کو ایسا بڑا بھائی ، دوست یا بہن ملے جس کے ساتھ وہ سب کچھ شیئر کر سکے۔  دہلی کے بچوں کے مینٹر صرف دہلی کے لوگ ہی نہیں بنیں گے بلکہ پورے ملک کے لوگ مینٹر بن سکیں گے۔ ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے والا شخص دہلی گورنمنٹ ایپ پر رجسٹر کر کے مینٹر بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بچہ آپ کی محنت سےاپنے خواب  پورے کرتا ہے تو آپ قوم کی تعمیر کا  ایک اہم کام کر رہے ہیں۔ جب ملک بھر سے لوگ آکر  بچوں کی رہنمائی کریں گے ، تب ہمارا پورا ملک ایک خاندان بن جائے گا اور مذہب اور ذات کی تمام دیواریں ٹوٹ جائیں گی۔ ایک ہندوستانی دوسرے ہندوستانی کے ساتھ جڑے گا اور ہم سب ہندوستان کو ایک خاندان اور ایک ٹیم کے طور پر آگے  بڑھائیں گے۔
 انہوں نے کہا کہ دہلی میں تعلیمی میدان میں کچھ حیرت انگیز ہو رہا ہے۔ ہمارے دہلی کے سرکاری اسکولوں میں کل۱۶؍ لاکھ بچے پڑھتے تھے۔ برسوں تک یہ تعداد تقریباً  ایک جیسی رہی۔ ہر سال کچھ بچے آتے تھے اور کچھ بچے پاس آؤٹ کرکے  چلے جاتے تھے لیکن اس سال ان اسکولوں میں۱۸؍ لاکھ۷۰؍ ہزار بچے ہوگئے ہیں۔ اس سال دہلی کے پرائیویٹ اسکولوں کے۲؍ لاکھ۷۰؍ ہزار بچوں کے والدین نے ان کا  نام کٹوا کر اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کروایا ہے۔ یہ حیرت انگیز اور شاندار ہے۔ اب تک آزاد ہندوستان کی تاریخ میں، ہم نے سنا تھا کہ یہاں اتنے سرکاری اسکول بند  ہوگئے تھے ، اس ریاست میں اتنے سرکاری اسکولوں کے بچے کم ہو گئے تھے ، لیکن اگر ۲؍ لاکھ۷۰؍ ہزار بچوں نے پرائیویٹ اسکولوں سے اپنے نام کٹواکر سرکاری اسکولوں میں داخلہ لیا ہے، تو یقینی طور پر اسے شاندار کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلئے میں تمام اساتذہ ، تمام بچوں اور ان کے والدین کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔
 وزیراعلیٰ کیجریوال نے کہا کہ  چند دن پہلے ہم نے حب الوطنی کا کورس شروع کیا۔ پورے ملک کے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ یہ حب الوطنی کا کورس کیا ہوتا ہے؟ کیا حب الوطنی سکھائی جا سکتی ہے؟ پورا ملک تجسس سے دیکھ رہا ہے۔ دہلی کے سرکاری اسکولوں کے اندر ہم نے’’ ہیپی نیس کری کلم‘‘  شروع کیا، تو اس پر بھی لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا بچوں کو ہیپی  نیس بھی دی جا سکتی ہے؟ لیکن جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستان  آئے تھے تو ان کی اہلیہ دہلی حکومت کے سرکاری اسکولوں میں ہماری ہیپی نیس کلاس اٹینڈ کرنے کیلئے آئی تھیں۔ ہمارے اساتذہ کے کام کی مہک امریکہ کے صدر کے گھر  تک پہنچ گئی ہے۔ انٹرپرینیورشپ کلاسز چل رہی ہیں۔ بچوں کو انٹرپرینیوربننا سکھایا جا رہا ہے۔
 وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے اسکولوں میں تعلیم کا کام بچوں کو تین چیزوں کیلئے تیار کرنے کا ہوتا ہے۔پہلا ، اسکول یا کالج سے فارغ ہونے کے بعد  وہ اپنا پیٹ بھرنے  کیلئے تیار ہو، اپنے گھر کی کفالت کرسکے۔ آج ہماری تعلیمی دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم بڑی بڑی ڈگریاں لے کر نوکری کیلئے گھومتے رہتے ہیں اور نوکری نہیں ملتی ہے۔ ہم اپنے بچوں کو تیار کررہے ہیں کہ نوکری ڈھونڈنے والے  نہ بنیں بلکہ نوکری دینے والےبنیں۔اپنا کاروبار اور اپنا بزنس شروع کریں ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں یہ تعلیم نویں کلاس سے شروع ہوجاتی ہے۔ عوام کوخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہلی کے اسکولوں میں جاری  حب الواطنی کلاسیز ان کو ایک اچھا شہری بنائے گی اور ان کو سچا  محب الوطن بنائے گی۔
 خیال رہے کہ دہلی حکومت کے ذریعہ جاری حب الوطنی کلاسیز پر خوب تنقیدیں ہوئی ہیں۔ اسے ’عام آدمی پارٹی‘ کا بی جےپی بننے کی ایک کوشش کے طورپر دیکھا جارہا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK