ناکارہ بیلوں کے ذبیحے پر۶؍ماہ میں فیصلہ کرنے کاحکم

Updated: September 15, 2021, 9:29 AM IST | Mumbai

القریش ہیومن ویلفئر اسوسی ایشن کی مفادعامہ کی عرضداشت پرعدالت نے حکومت کو حکم دیا ۔دستور میںدی گئی شہریوں کے حقوق کی ضمانت کی مختلف دفعات اور جانوروں کے جسم سے خارج ہونے والی انتہائی خطرناک گیس کو عرضداشت میں بنیاد بنایا گیاتھا ،حکومت کی جانب سے مثبت پیش رفت کی امید

Only buffalo and pada slaughter is allowed in the state. (File photo)
ریاست میں محض بھینس اور پاڑے کے ذبیحے کی ہی اجازت ہے۔(فائل فوٹو)

: جانوروں کے جسم سے خارج ہونےوالی انتہائی خطرناک اورصحت عامہ کے لئے مضرمتھائن گیس اور آئین میں دیئے گئےشہریوں کے حقوق کی ضمانت کے حوالے سے دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضداشت پر فیصلہ سناتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو حکم دیاہے کہ وہ ناکارہ بیلوں اورسانڈوں کے ذبیحہ کے تعلق سے ۶؍ ماہ میں فیصلہ کرے ۔اس تعلق سے القریشن ہیومن ویلفئراسوسی ایشن کی جانب سے ہائی کورٹ میںمفاد عامہ کی عرضداشت داخل کی گئی تھی ۔اس پر پیرکو شنوائی کرتے ہوئے چیف جسٹس بامبے ہائی کورٹ دیپانکر دتّا اور جسٹس گریش کلکرنی پر مشتمل ۲؍ رکنی بنچ نےمذکورہ حکم دیا۔
  القریش ہیومن ویلفئر اسوسی ایشن کی جانب سے یہ عرضی محمدعمر انصاری اورآصف عارف قریشی کی جانب سے داخل کی گئی تھی جبکہ اس کیس کی پیروی عرضی گزاروں کی جانب سےسینئر ایڈوکیٹ آصف علی صدیقی نے کی اور حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ ایم ایم مورے اور بی ایم سی کے وکیل کے ایس مستاکر عدالت میں حاضر تھے۔
 مفاد عامہ کی عرضداشت میںمذکورہ اہم بنیادوں کے ساتھ کسانوں کی بدحالی ،چمڑا تاجروں کانقصان اوراس پیشے سے جڑے لوگوں کی  بے روزگاری کوبھی اس کا حصہ بنایا گیا تھا۔ ساتھ ہی اس میںمدراس ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ایس پِتّہ سوامی کے ذریعے سپریم کورٹ میںدائرکردہ وہ عرضداشت کا بھی حوالہ دیا گیا  تھاجس میںدستورِہندکی دفعہ ۱۴؍ ۱۹؍ اور۲۱؍ کا حوالہ دے کررائٹ ٹو پرائیویسی ،رائٹ ٹوفوڈ اینڈ بزنس اوررائٹ ٹولبرٹی کی بات کہی گئی اور اس پر۲۴؍اگست ۲۰۱۷ءکو چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس جگجیت سنگھ کیہراور سپریم کورٹ کی لارجسٹ بنچ نےفیصلہ سناتے ہوئے عام آدمی کے حقوق پراپنی مہر لگائی تھی ، اسے بھی بطور نظیر شامل کیا گیا تھا۔
 اس کےعلاوہ مفاد عامہ کی عرضداشت میںاس بات پر مزیدزور دیا گیا تھا کہ طبی ماہرین کی تحقیقات کے مطابق جانوروں کے جسم ،ان کےگوبر اورلید وغیرہ سے جوگیس خارج ہوتی ہے وہ عام حالات میںصحت عامہ کیلئے تومضر ہے ہی ، موجودہ کورونا کی وباء میںاس کی خطرناکی اوربڑھ جاتی ہے اوراس کی وجہ سے عوام کی صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ کہیں زیادہ ہو جاتا ہے۔
 بامبے ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میںریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ۶؍ماہ میں جہاں میونسپل کارپوریشن کے ذریعے ذبیجے کا نظم کیا جاتا ہے ، وہاں ناکارہ بیلوں اورسانڈوں کے ذبیجے کےتعلق سے پالیسی میٹرکی بنیاد پرفیصلہ کرے ۔مفاد عامہ کی عرضداشت داخل کرنے کے ساتھ اس تعلق سے مذکورہ مطالبات پرمبنی مکتوب وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے ، وزیرداخلہ اور مویشی پالن کے وزیرکو بھی دیاگیا تھا لیکن ان کی جانب سے کسی قسم کی پیش رفت یا یقین دہانی نہ کروانے کے بعد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔
 مفادعامہ کی عرضداشت داخل کرنے والے محمدعمر انصاری اور آصف عارف قریشی کے ساتھ کیس کی پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ آصف علی صدیقی نے اس فیصلے پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئےکہاکہ عدالت نے یہ واضح کردیا ہے کہ آئین میں دیئےگئے عام آدمی کے حقوق کا تحفظ اورضمانت سب سے بنیادی عمل ہے ، اس سے صرف نظر نہیںکیاجاسکتا ۔ اس لئے اس فیصلے سے امید ہے کہ ریاستی حکومت بھی مثبت پیش رفت کرے گی اورعدالت کے حکم کی تعمیل کی جائے گی ۔ اس طرح کسانوں کو،اس کاروبار سے جڑے لوگوں کو اورعوام الناس کو اس سے یقیناً راحت ملے گی۔
 واضح ہوکہ اس وقت ریاست میںمحض بھینس اوراس کی نسل کےجانور یعنی پاڑے کے ذبیحے کی ہی اجازت ہے ،ناکارہ بیلوں اورسانڈوں کے ذبیحے پر مکمل پابندی عائد ہے ۔ اس پابندی کا نتیجہ یہ ہےکہ کسانوں کی بدحالی میںزبردست اضافہ ہوا ہے کیونکہ کھیتی باڑی میںاستعمال کے قابل نہ رہنے والے بیلوں کوپابندی سے قبل کسان اچھی قیمت پرفروخت کردیاکرتے تھے اوروہ کھیتی باڑ ی کیلئے دوسرا بیل خریدلیتے تھےاورجانوروں کی نگہداشت بھی آسان تھی لیکن اس پابندی سے وہ بے دست وپا ہو گئے ہیں اورکسانوں کی بدحالی میںزبردست اضافہ ہواہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK