طالبان کی امداد جاری رہے گی مگر حکومت کو منظوری نہیں

Updated: October 12, 2021, 8:25 AM IST | Doha

دوحہ میں ہونے والے ۲؍ روزہ افغان۔ امریکہ مذاکرات کے بعد دونوں ہی جانب سے مثبت بیانات مگر سفارتی تعلقات کا کوئی اعلان نہیں۔ طالبان کا ورلڈ بینک میں منجمد کردہ افغانستان کی رقوم کو ریلیز کرنے کا مطالبہ ۔ امریکہ کا حکومت کو تسلیم کئے بغیر افغان عوام کی فلاح کے اقدامات کو یقینی بنانے کا وعدہ

Afghan Foreign Minister Amirullah Khan speaks to the pious media (Photo: Agency)
افغانستان کے وزیر خارجہ امیراللہ خان متقدی متقی میڈیا سے بات کرتے ہوئے( تصویر: ایجنسی)

 امریکہ اور افغانستان حکومت کے درمیان دوحہ میں ہونے والے ۲؍ روزہ مذاکرات  ختم ہو گئے۔   اطلاع کے مطابق امریکہ نے طالبان حکومت نے انسانی بنیادوں پر کی جانے والی مدد کو جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے لیکن حکومت کو منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔   سنیچر اور اتوار دو دنوں تک چلنے والے ان مذاکرات میں مختلف موضوعات زیر بحث آئے جن  میں سے بعض پرطرفین پر اتفاق بھی ہوا جبکہ بعض معاملات پر مزید گفتگو کی امید ظاہر کی گئی ۔ واضح رہے کہ امریکہ نے بھی اس گفتگو کو مثبت قرار دیا ہے۔ 
 دوحہ میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے بتایا کہ افغان حکومت کے وزیر خارجہ امیراللہ خان متقی نے امریکی وفد کو باور کروایا کہ طالبان اپنے اس موقف پر اب بھی قائم ہیں کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔  نہ ہی کسی دہشت گرد تنظیم کو اپنے یہاں پنپنے دیں گے۔ البتہ انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ورلڈ بینک میں منجمد کئے گئے افغان حکومت کے فنڈ کو ریلیز کرے۔  یاد رہے کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ تو کیا تھا لیکن  اس کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا ۔ ساتھ ہی افغان حکومت کی ورلڈ بینک میں جمع رقم کو منجمد کر دیا تھا جس کی وجہ سے حکومت چلانے کیلئے درکار فنڈ طالبان کو حاصل نہیں ہے۔ 
 حالانکہ ان مذکرات میں امریکہ نے طالبان کے ساتھ ’ ایک نئے باب ‘ کے آغاز پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اور یہ یقین دلایا ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کئے بغیر کوئی راستہ نکا لا جائے گا جس کے ذریعے افغانستان کی ترقی اور عوام کی فلاح کے کاموں میں کوئی رکاوٹ درپیش نہ ہو۔ امریکہ عالمی برادری کی جانب سے دی جانے والی امداد کیلئے بھی ہر ممکن اقدام کی یقین دہانی کروائی۔ 
 ملاقات مثبت اور پیشہ ورانہ تھی
طالبان کی طرح امریکہ نے بھی اس ملاقات کو خوش آئند ہی قرار دیا۔ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ طالبان سے ہونے والی گفتگو’’ واضح اور پیشہ وارانہ‘‘ تھی۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بھی سہیل شاہین کے اس بیان کی تصدیق کی کہ امریکہ افغانستان کی امداد کیلئے ہر ممکن امداد کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان  افغانستان میں امن کےقیام اور دہشت گردی پر قدغن جیسے اہم امور پر گفتگو ہوئی جس  میں طالبان کی جانب سے مثبت رد عمل دیکھنے کو ملا۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان کو ان کے قول سے نہیں فعل سے آزمایا جائے گا ۔ واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے پہلے ہی یہ کہا گیا تھا کہ دوحہ میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کیلئے نہیں ہیں بلکہ افغانستان  میں موجود امریکی اور افغان باشندوں کے انخلا کے تعلق سے ہے جو کہ افغانستان میں رہنا نہیں  چاہتے۔ ساتھ ہی ایک امریکی شہری مارک فریزر کی رہائی کے تعلق سے بھی اس میٹنگ میں بات ہوئی جو کہ طالبان کی قید میں ہیں۔ 
 حالانکہ دونوں ہی طرف سے اس بات کو واضح نہیں کیا گیا کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پایا ہے ؟ یا آئندہ باہمی تعلقات کیلئے کوئی لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے؟  طرفین نے امداد کو یقینی بنانے کے معاملے پر ہی واضح بیان دیا ہے۔ یاد رہے کہ ایک روز قبل یعنی سنیچر کو امریکہ نے طالبان سے مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان میں داعش کا خاتمہ کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ مشترکہ آپریشن کرے لیکن امریکہ نے یہ کہتے ہوئے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا کہ وہ تنہا ہی داعش کے خلاف آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

taliban Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK