اقوام متحدہ کا افغانستان کیلئے ایک ارب ڈالر کی امدادکا اعلان

Updated: September 15, 2021, 9:05 AM IST | Geneva

انتونیو غطریس نے تباہ حال ملک کیلئے۰۰ ۶؍ ملین ڈالر کی اپیل کی تھی مگر مختلف ممالک نےمل کرایک ارب ڈالر جمع کئے۔ طالبان سے تعلقات استوار کرنے پر بھی زور

UN Secretary General Antonio Guterres addressing the meeting (Agency)
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس( ایجنسی)

) طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد  ہر چند کے ابھی عالمی برادری نے ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے لیکن افغان عوام کیلئے  انسانی بنیاد پر مختلف نوعیت کی امداد اکٹھا کرنے کی تگ ودو شروع ہو گئی ہے۔ اسی مقصد کیلئے پیر کو  عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس کی ایماپر ایک ’ڈونرس کانفرنس‘ منعقد کی گئی تھی جس میں افغان عوام کیلئے مالی امداد کی اپیل کی گئی تھی۔ اس کانفرنس کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا اور توقع سے زیادہ امداد جمع ہوئی۔ 
  واضح رہے کہ انتونیو غطریس نے فی الحال افغانستان کیلئے کوئی ۶؍ ملین ڈالر کے قریب رقم جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن وہاں موجود ممالک نے ۱۰؍ ملین ڈالر ( ایک ارب) ڈالر  جمع کر لئے۔  ا نتونیو غطریس نے اپنے خطاب میں کہا ’’ اس کانفرنس کا مقصد یہ طےکرنا نہیں ہے کہ ہم افغانستان کے لوگوں کو کیا دیں گے، بلکہ یہ کانفرنس اس بات پر غور کرنے کیلئے ہے کہ  افغانستان کے باشندوں کا ہم پر کتنا قرض ہے؟‘‘ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے اس سال کے باقی ماندہ مہینوں کیلئے ۶۰ء۶؍  ملین (۶۶؍ کروڑ) ڈالر کی امداد کی اپیل کی ہے جسے افغانستان میں ایک کروڑ ۱۰؍ لاکھ لوگوں کو خوراک کی فراہمی، صحت کی دیکھ بھال اور بنیادی ضروریات پر صرف کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ملک میں غربت کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوامی خدمات کے شعبے تباہی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس مہینے کے اختتام تک کھانے پینے کی اشیا بہت سے لوگوں کی پہنچ سے دور ہو جائیں گی جس کی وجہ قیمتوں میں مسلسل اضافہ، تنخواہوں کی بندش اور لوگوں کی بچت کا ختم ہونا ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سردیوں کی آمد قریب ہے اور موسم سرما شروع ہونے کے بعد بہت سے علاقوں تک رسائی محدود ہو جانے سے صورت حال مزید خراب ہو جائے گی۔
  اس دوران عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے نے کانفرنس کو بتایا کہ ایک کروڑ ۴۰؍ لاکھ افغان باشندے قحط کے دہانے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہر تین میں سے ایک شخص کو خوراک نہ ملنے کا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ انہیں اگلے وقت کا کھانا ملے گا بھی یا نہیں۔انہوں نے کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ اگر ہم نے بہت زیادہ احتیاط نہ کی تو صورت حال انتہائی تباہ کن ہو جائے گی اور حالات اس سے بھی کہیں زیادہ خراب ہو جائیں گے جو اب ہم دیکھ رہے ہیں۔
 یونیسیف کی ڈائریکٹر جنرل ہنریٹا فورے نے کانفرنس میں کہا کہ افغانستان میں تقریباً ایک کروڑ لڑکیوں اور لڑکوں کی زندگی کا انحصار انسانی ہمدردی کی امداد پر ہے۔ اس سال تقریباً ۱۰؍ لاکھ بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا اور علاج معالجے کے بغیر وہ مر سکتے ہیں۔اقوام متحدہ نے اپنے ہنگامی فنڈ میں سے فوری طور پر ۲؍ کروڑ ڈالر کی رقم جاری کی ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ملک میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس وقت اندرون ملک بے گھر افراد کی تعداد ۳۵؍ لاکھ ہے جن میں سے ۵؍ لاکھ افراد حالیہ مہینوں میں بے گھر ہوئے ہیں۔
 طالبان سے تعلقات استوار کرنے پر بھی زور
 کانفرنس میں انتونیو غطریس کا لہجہ طالبان کے تئیں نرم نظر آیا اور انہوں نے  قانونی طور پر نہ سہی زبانی طور پر طالبان کو ایک حکومت تسلیم کیا۔ غطریس نے کہا ’’ طالبان وہاں اقتدار میں ہیں  اور ان ڈی فیکٹو( لا محالہ) حکام سے گفتگو کئے بغیر افغان عوام کی امداد ممکن نہیں ہے۔ اس لئے تمام ممالک کو چاہئے کہ وہ طالبان سے تعلقات استوار کریں اور  وہاں امداد پہنچائیں۔‘‘  غطریس نے زور دے کر کہا’’ اس وقت طالبان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا نہایت اہم ہے۔‘ ‘اُنھوں نے تمام ممالک سے کہا کہ وہافغان معیشت کو رقم کا سہارا دینے کے طریقے ڈھونڈیںتاکہ معیشت کا انہدام روکا جا سکے جس کےافغانستان کے علاوہ پورے خطے پر تباہ کُن اثرات ہوں گے۔‘‘  غطریس کے علاوہ اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ جیف گریفتھ نے بھی کہا کہ طالبان نے امدادی کاموں میں تعاون دینے کا وعدہ کیا ہے ساتھ خواتین کے حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دی ہے ، اس لئے افغانستان پر پابندی یا دہشت گردی پر قدغن کے اقدامات  کے دوران امدادی کاموں کو الگ رکھا جائے یعنی ان میں کوئی رکاوٹ نہ پیداکی جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK