کئی لوگ بلکہ اکثر لوگوں کو بھوک برداشت نہیں ہوتی ہے۔ جب انہیں کھانا ملنے میں تاخیر ہوجاتی ہے تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے اور وہ بھوک کی حالت میں چڑچڑانے اور غصہ کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 9:18 PM IST | Mumbai
کئی لوگ بلکہ اکثر لوگوں کو بھوک برداشت نہیں ہوتی ہے۔ جب انہیں کھانا ملنے میں تاخیر ہوجاتی ہے تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے اور وہ بھوک کی حالت میں چڑچڑانے اور غصہ کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔
کئی لوگ بلکہ اکثر لوگوں کو بھوک برداشت نہیں ہوتی ہے۔ جب انہیں کھانا ملنے میں تاخیر ہوجاتی ہے تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے اور وہ بھوک کی حالت میں چڑچڑانے اور غصہ کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب وہ شدید بھوکے ہوتے ہیں تو بغیر کسی وجہ کے غصہ میں آجاتے ہیں ، ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اس کی بنیادی وجہ
ہماری غذا میں شامل کاربو ہائڈریٹس، پروٹین، چکنائی اور دیگر عناصر ہضم ہونے کے بعد گلوکوز، امائنو ایسڈ اور فیٹی ایسڈز میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہ اجزا خون میں شامل ہو جاتے ہیں جس کے بعد ہمارے اعضاء اور خلیات ان سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ جسم کے تمام اعضاء مختلف اجزا سے اپنی توانائی حاصل کرتے ہیں لیکن دماغ وہ واحد عضو ہے جو اپنے افعال سر انجام دینے کیلئے زیادہ تر گلوکوز پر انحصار کرتا ہے۔ جب ہمیں کھانا کھائے بہت دیر ہوجاتی ہے تو خون میں گلوکوز کی مقدار گھٹتی جاتی ہے۔ اگر یہ مقدار بہت کم ہوجائے تو ایک خود کار طریقے سے دماغ یہ سمجھنا شروع کردیتا ہے کہ اس کی زندگی کو خطرہ ہے۔ اس کے بعد دماغ تمام اعضا کو حکم دیتا ہے کہ وہ ایسے ہارمونز پیدا کریں جن میں گلوکوز شامل ہو تاکہ خون میں گلوکوز کی مقدار میں اضافہ ہو اور دماغ اپنا کام سرانجام دے سکے۔
یہ بھی پڑھئے: بعض ممالک اور ان کے دار الحکومت کے نام یکساں ہوتے ہیں، کیوں ؟
اینڈرنلائن نامی ہارمون
ان ہارمونز میں سے ایک اینڈرنلائن نامی ہارمون بھی شامل ہے۔ یہ ہارمون کسی بھی تناؤ یا پریشان کن صورتحال میں ہمارے جسم میں پیدا ہوتا ہے۔ چونکہ اس میں شوگر کی مقدار بھی بہت زیادہ ہوتی ہے لہٰذا دماغ کے حکم کے بعد بڑی مقدار میں یہ ہارمون پیدا ہو کر خون میں شامل ہوجاتا ہے نتیجتاً ہماری کیفیت وہی ہوجاتی ہے جو کسی تناؤ والی صورتحال میں ہوتی ہے۔ جب ہم بھوک کی حالت میں ہوتے ہیں اور خون میں گلوکوز کی مقدار کم ہوجائے تو بعض دفعہ ہمیں معمولی چیزیں بھی بہت مشکل لگنے لگتی ہیں۔ اس حالت میں ہم سماجی رویوں میں بھی بد اخلاق ہوجاتے ہیں۔ ہم اپنے آس پاس موجود خوشگوار چیزوں اور گفتگو پر ہنس نہیں پاتے۔ ہم قریبی افراد پر چڑچڑانے لگتے ہیں اور بعد میں اس پر ازحد شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔یہ سب خون میں گلوکوز کی مقدار کم ہونے اور دماغ کے حکم کے بعد تناؤ والے ہارمون پیدا ہونے کے سبب ہوتا ہے۔
اس کا حل کیا ہے؟
اس کا فوری حل یہ ہے کہ آپ گلوکوز پیدا کرنے والی کوئی چیز کھائیں جیسے چاکلیٹ ۔