اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف اقدام کرے جو بقول ان کے، ’’سکیوریٹی آپریشنز‘‘ کے نام پر فلسطینی سرزمین کے مسلسل انضمام میں مصروف ہے۔
EPAPER
Updated: April 04, 2025, 4:00 PM IST | New York
اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف اقدام کرے جو بقول ان کے، ’’سکیوریٹی آپریشنز‘‘ کے نام پر فلسطینی سرزمین کے مسلسل انضمام میں مصروف ہے۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف اقدام کرے جو بقول ان کے، ’’سکیوریٹی آپریشنز‘‘ کے نام پر فلسطینی سرزمین کے مسلسل انضمام (Annexation) میں مصروف ہے۔ ریاض منصور نے خبردار کیا کہ اگر اقوام متحدہ نے اس پر مؤثر اقدام نہ کیا تو فلسطینیوں میں مایوسی مزید گہری ہو جائے گی اور یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ دنیا نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔
انہوں نے کہا:’’اب فلسطینی عوام سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا کبھی احتساب ہوگا؟ کیا ان کی زندگیوں کی بھی کوئی اہمیت ہے جو کسی مناسب ردعمل کو جنم دے سکے؟‘‘انہوں نے ایک فلسطینی بچے کی بے بسی کا حوالہ دیا جس نے اپنے گھر پر بمباری کے بعد ایک کیمرہ مین سے چیخ کر کہا:’’تم کیا فلمبندی کر رہے ہو؟ کس لئے؟ کوئی ہمیں دیکھ بھی رہا ہے؟‘‘ منصور نے کہا کہ اسرائیل کا اصل مقصد یرغمالیوں کی رہائی نہیں بلکہ فلسطینی زمین پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ان بیانات کا حوالہ دیا جن میں انہوں نے ’’علاقہ قبضہ کرنے‘‘ اور غزہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ضم کرنے کی بات کی۔
ریاض منصور نے مزید کہا کہ’’اسرائیلی قیادت جان بوجھ کر ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو فروغ دیا جا رہا ہے، جسے وہ `رضاکارانہ ہجرت کا نام دے رہے ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: مسلم مخالف نفرت کے واقعات کی نگرانی کیلئے۱۰؍ لاکھ پاؤنڈ کا فنڈ قائم
’’قتل و غصب بند ہونا چاہئے‘‘
ریاض منصور نے کہا کہ عالمی برادری کی طرف سے اسرائیل پر مؤثر دباؤ نہ ڈالنا قابلِ افسوس ہے۔ ’’یہ ناقابلِ یقین بات ہے کہ اتنے سنگین جرائم کے اعترافات، جو لاکھوں فلسطینیوں پر مہیب اثر ڈال چکے ہیں، اب تک بغیر کسی جواب کے رہ گئے ہیں۔ ‘‘انہوں نے اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن کی اس بات کو بھی رد کیا کہ حماس ریڈ کریسنٹ (ہلال احمر) کی گاڑیاں استعمال کر رہی ہے۔ ڈینن نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کا غزہ میں رہنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اس کے جواب میں منصور نے نیتن یاہو کے حالیہ بیان کی طرف اشارہ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ’’اسرائیلی فوج اب علاقے پر قبضہ کرنے کیلئے سرگرم ہے۔ ‘‘منصور نے مزید کہا’’دوسری طرف کے مقرر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بہادری کے بارے میں دوسروں پر حکم چلائے۔ ان کی حکومت اور فوج کے ہاتھ ہزاروں فلسطینیوں، بشمول۱۷؍ ہزار سے زائد بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس کسی کو اخلاقیات کا سبق دینے کا اختیار نہیں۔ ‘‘ڈینن نے جواب دیا کہ اگر فلسطینی مزاحمت کرتے رہے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی: مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کے داخلے کی مذمت، کشیدگی میں اضافےکا انتباہ
اس پر منصور نے دوٹوک الفاظ میں کہا:’’جب تم ہمارے بچوں اور عوام کو اس بے مثال تعداد میں قتل کرنا بند کرو گے، اور جب۱۹۶۷ء سے اب تک ایک ملین سے زائد فلسطینیوں کو قید کرنا بند کرو گے، تب شاید میں تم پر یقین کروں۔ مگر تمہارے اعمال کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ ‘‘آخر میں انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’قتل اور قبضہ ختم کرنا ہوگا تاکہ دو ریاستی حل کی راہ ہموار ہو سکے، جہاں دونوں ریاستیں امن سے رہیں۔ مگر تمہارا طرزِ عمل تمہیں امن کا شراکت دار بننے کے قابل نہیں بناتا۔ تمہیں اپنے اعمال سے خود کو ثابت کرنا ہوگا، خالی باتوں سے نہیں۔ ‘‘