آج انڈسٹری میں پروڈکشن ہاؤس ہمیں اپنا بجٹ کم کرنے پر زور دے رہے ہیں

Updated: January 23, 2023, 5:06 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

اداکارہ صبوحی جوشی کا کہنا ہے کہ کورونا کے بعد کے ماحول میں ذریعہ معاش کیلئے ایک ہی کریئر پر انحصار نہیں کیا جاسکتا، اداکاروں کو بھی دیگر شعبوں میں کام کرنا چاہئے

Sabuhi Joshi, who has been performing in the field of acting since the age of three
تین برس کی عمر سے اداکاری کے شعبے میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والی صبوحی جوشی

ڈی  جے کی خواہش رکھنے والی ٹی وی اداکارہ صبوحی جوشی نے کمسنی سے ہی اداکاری کے شعبے میں قدم رکھا تھا۔ انہوں نے ۳؍برس کی عمر میں دوردرشن کے ایک شو میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس کے بعد وہ ایم ٹی وی کے شوز میں بھی نظر آئیں اور انہوں نے اسی شعبے میں آگے بڑھتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ انہوںنے ۲۰۱۴ء میں ایک ویڈیو  البم میں کرکٹر ہربھجن سنگھ کے مقابل کام کیا تھا۔ صبوحی جوشی کو ان کی زندگی میں کئی مسائل کا سامنا بھی رہا اور انہوں نے اس کا بخوبی مقابلہ بھی کیا۔ آج وہ ایک بارپھر کامیابی سے اپنے کام میں مصروف ہیں۔انقلاب نے اداکارہ صبوحی جوشی  سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جارہاہے 
س:اس وقت آپ کس شو میں کام کررہی ہیں ؟ 
ج:اس وقت میں اوٹی ٹی کے چینل ووٹ کے ایک شو میں کام کررہی ہوں جس کا نام ’بگ باز‘ ہے۔یہ شو دراصل بگ باس کی توسیعی شکل ہے۔ جیسے کہ اگر کوئی امیدوار بگ باس کے گھر سے باہر ہوجاتاہے تو وہ ہمارے شو میںآتاہے اورہم ان سے بات چیت کرتے ہیں۔اس امیدوار کا انٹر ویو لیتے رہتے ہیں ۔ یہ ایک طرح کا مزاحیہ شو ہے۔
س:آپ پہلی بار ایسا کوئی شو کررہی ہیں ، آپ کے تاثرات کیسے ہیں ؟ 
ج:یہ ایک مزاحیہ شو ہے اور اس میں ہم بگ باس کے گھر سے باہر ہونےوالے افرادسے مذاق مستی کرتے ہیں۔ اس شو میں کرشنا میرے ساتھ ہیں ، ان کے ساتھ میں نے ۲۰۱۴ء میں بھی ایک کامیڈی شو کیا تھا۔ جب آپ کسی پرانے ساتھی کے ساتھ کام کرتے ہیں توآپ کیلئے کوئی بھی شو آسان ہوجاتا ہے۔ کرشناکے ساتھ کام کرنے میں زیادہ دقت پیش نہیں آتی۔ دوسری طرف ہمارے شو میں جو افراد آتے ہیں  ان کے ساتھ ہنسی مذاق میں ہی کافی کچھ سیکھنے کومل جاتاہے۔ کامیڈی میں ٹائمنگ اہم ہوتی ہے اور یہ شو کرنے کے بعد مجھے اس فن کو سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ میں  اس طرح کا شو پہلی بار کررہی ہوں اس لئے کافی کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔
 س: آپ نےپہلی بار اوٹی ٹی پر کام کیاہے تو اس  تعلق سے کیا تاثرات ہیں؟
ج:میں نے پہلی باراو ٹی ٹی پر کام کیا ہے اور اس کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے۔ ٹی وی کیلئے آپ اگر کوئی شو کرتے ہیں تو اس کیلئے مسلسل ۱۲؍گھنٹے کام کرنا ہوتا ہے، اس کی وجہ سے آپ اپنی فیملی سے بھی دور ہو جاتے ہیں اوروہ بھی آپ سے ملنے کیلئے انتظار کرتے رہتے ہیں۔لیکن اوٹی ٹی کے شوز میں ایسا نہیں ہوتا ہے، آپ کو زیادہ وقت شوٹنگ میں مصروف نہیں رہنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف ٹی وی پرایک جیسے ہی شوز دکھائے جاتے ہیں۔ جیسے ساس، بہو اور ان کے درمیان ایک ویلن ، مسلسل ایک ہی طرح کی چیزیں کرنے کے بعد میں اکتا ہٹ محسوس کرتی ہوں  اور مجھے بھی ایک بریک کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس لئے میری نظرمیں او ٹی ٹی ٹی وی سے بہتر ہے۔ 
 س:آپ مسائل میں گھری تھیں اور پھر کووڈ نے دستک دی، مشکل حالات سے خود کو کیسے نکالا؟
 ج:  میری  زندگی میں بہت سے مسائل رہے ہیں لیکن کورونا کی لہر خطرناک تھا۔ آپ یقین نہیں کریں گےکہ اس وقت میں بلڈنگ میں اکیلی تھی، میرے تمام ساتھی اپنے وطن لوٹ گئے تھے۔ اس وقت میں نے ہار نہیں مانی تھی۔ میں نے خود کو ہمیشہ مثبت رکھا تھا اور اپنی صحت پر ہمیشہ دھیان دیا کرتی تھی۔ میرے لئے وہ مرحلہ بہت ہی تکلیف دہ تھا اس کے باوجود میں نے سبھی مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔   
س:کیاآپ بھی اب سوچتی ہیں کہ ذریعہ معاش کیلئے ایک ہی کریئر پر انحصار نہیں کرنا چاہئے؟ 
ج:کورونا کے بعد تو میرے خیال میں سبھی یہی کہہ رہے ہوںگے کہ ایک کریئر پر تکیہ نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے دیکھا ہے کہ جنہوں نے اداکاری کے کریئر پرتوجہ دی وہ لاک ڈاؤن میں زیادہ پریشان ہوئے تھے ۔حالانکہ میںپہلے ہی سے ایک کریئر کی حکمت عملی پر عمل نہیں کرتی۔میں دراصل پیشہ ور ڈی جے  بھی ہوں اور جب بھی میرے کسی شو کی شوٹنگ ختم ہوتی ہے تو میں کسی بھی پارٹی یا تقریب میں ڈی جے کے کام پر مامور ہوجاتی ہوں۔ کورونا نے یہ سبق سکھا دیا ہے کہ آپ کے پاس کم سے کم سے ۲۔۳؍ ہنر ہونے چاہئیں ورنہ آپ کا جینا مشکل ہوجائے گا   ۔  
س:اس وقت کوئی خاص ویب سیریز دیکھنا پسند کررہی ہیں؟
ج:ہندی  ویب سیریز میں تو ایسی کوئی ویب سیریز نہیں ہے جو مجھے متاثر کرتی ہو۔کہا جاتاہے کہ ویب سیریز میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی پوری آزادی ہے لیکن ہمارے ہاں ہندی میں اس آزادی کا غلط فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ آزادی کے نام پر ہدایتکار اور پروڈیوسر کچھ بھی دکھارہے ہیں اور عوام کے سامنے فحاشی پیش کررہے ہیں۔ میں ان سب چیزوں سے گریز کرتی ہوں کیونکہ یہ ہمارا کلچر نہیں ہے۔ میں صاف ستھرے شوز کرنے میں یقین رکھتی ہوں۔ میں انگریزی کی ویب سیریز زیادہ دیکھنا پسندکرتی ہیں کیونکہ ان کے وی ایف ایکس اور گرافکس قابل دید ہوتی ہیں اور اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتاہے۔   
س:کورونا کے بعدکتنی تبدیلی محسوس کررہی ہیں؟
 ج :ہماری ہی کیا سبھی کی انڈسٹری میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے۔ آج بھی ہم شوٹنگ کے دوران کافی احتیاط سے کام لیتے ہیں اور ماسک وغیرہ کا باقاعدہ  استعمال کرتے ہیں۔ دوسری طرف پروڈکشن ہاؤس  اب مالی خسارے کی بات کررہے ہیں اور بجٹ کے تعلق سے ہمیں کہا جارہا ہے۔ ٹی وی انڈسٹری کے اکثر پروڈکشن ہاؤس یہی بات کہہ رہے ہیں کہ ہم نے بجٹ کم کردیا ہے اس لئے آپ بھی بجٹ کم کریں۔ ہماری انڈسٹری میں بجٹ پر زیادہ بات چیت کی جارہی ہے جو کہ ہمارے لئےاچھا نہیں ہے۔
س:کیاآپ کسی فلم میں بھی کام کررہی ہیں؟
 ج :میں نے ایک فلم کی شوٹنگ حال ہی میں ختم  کی ہے اور یہ اگلے ایک یا ۲؍ماہ میں ریلیزہوجائے گی۔ یہ فلم اوٹی ٹی پرریلیز ہونے والی ہے۔ اس فلم کے بارےمیں زیادہ بات چیت نہیں کرسکتی ، اتنا کہہ سکتی ہوںکہ ایسا کردار میں نے پہلی بار ہی ادا کیا ہے۔ یہ رومانوی کہانی پر مبنی فلم ہے۔ 
س:انڈسٹری کے تعلق سے آپ کے کیا تاثرات ہیں؟
ج:  اچھے برے افراد ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور آپ کا سابقہ ان سے پڑتا رہتاہے۔ میرے خیال میں یہ انسان پر انحصار کرتا ہے کہ وہ دیگر افراد سے کس طرح  روابطہ رکھے۔  میں نے ایسے کئی ٹیچر دیکھے ہیں جن کا استحصال کیا جاتا رہا ہے لیکن یہ سبھی معاملات میڈیا میں نہیں آتے۔ ہماری انڈسٹری کے معاملات میڈیا میں آجاتے ہیں اسلئے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مثال کے طورپر انڈسٹری پر کچھ برس قبل نشہ اور ڈرگس کے الزامات عائد کئے گئے تھے، میرے خیال میں اداکاروں سے زیادہ نشہ آور چیزیں آج کل کے طلبہ استعمال کرتے ہیں لیکن یہ سبھی چیزیں میڈیا  میں نہیں آتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ میرا سابقہ  ایسے افراد سے نہیں پڑا۔ اگر کسی نےغلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے تو میں نے اسے اپنے انداز میں نمٹایاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK