کوریوگرافر اور ہدایتکار ریمو ڈی سوزا نے کہا ہےکہ سیاہ رنگت کی وجہ سے انہیںنسل پرستی کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ایک انٹر ویو میں ریمو نے بتایاکہ ان کی جلد کی سیاہ رنگت کے سبب ان کا نام بہت رکھا جاتا اوراس صورتحال کا انہیں ملک وبیرون ملک میں بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
ریمو ڈی سوزا۔تصویر:آئی این این
کوریوگرافر اور ہدایتکار ریمو ڈی سوزا نے کہا ہےکہ سیاہ رنگت کی وجہ سے انہیںنسل پرستی کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ایک انٹر ویو میں ریمو نے بتایاکہ ان کی جلد کی سیاہ رنگت کے سبب ان کا نام بہت رکھا جاتا اوراس صورتحال کا انہیں ملک وبیرون ملک میں بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ ریمو نے بتایا کہ وہ ان سب باتوں کو نظرانداز کردیتے تھے لیکن اب انہیں اس کا پچھتاوا ہے کہ وہ اپنے لئے کوئی موقف اختیار نہیں کرسکے۔ ریمو نے کہا ’’ `میں نے اپنی سیاہ جلد کی رنگت کی وجہ سے بچپن سے ہی نسل پرستی کا مقابلہ کیا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا میں نے اپنے غیر ملکی سفر میں بہت قریب سے تجربہ کیا ۔جب میں چھوٹا تھا تب لوگ مجھے بہت سے مختلف ناموں سے پکارتے تھے۔ میں نے اسے صرف اس وجہ سے نظرانداز کیا کہ مجھے لگا کہ شاید وہ ایسا اس لئے یہ کہہ رہے ہیں کہ میں کچھ مختلف نظر آتا ہوں۔ بالآخر جب میں بڑا ہوا ، مجھے احساس ہوا کہ یہ غلط تھا اور یہ زیادہ غلط تھا کہ میں ان کو ان ناموں سے پکارنے دیتا تھا۔ لیکن اب میں اس کے لئے کھڑا ہوں اور کسی کو ایسا کرنے نہیں دوں گا۔ میری رنگت پرلوگوں کے تبصروں نےاس مقام تک پہنچنے میں میری حوصلہ افزائی کی جہاں میں آج ہوں تاکہ کوئی مجھے دوبارہ ان ناموں سے نہ پکار سکے۔‘‘ریمو ڈی سوزا۲؍ اپریل۱۹۷۴ء کو بنگلور میں پیدا ہوئے تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ، وہ سیدھے ممبئی چلے گئے اور وہاں وہ کوریوگرافر اور ہدایت کار بن گئے۔ انہوں نے `باجیراؤ مستانی ` ، `چھلانک ، جیسی متعدد فلموں میں کوریوگراف کیا ہے۔ نیز ، وہ کئی ٹی وی ریالٹی شوز میں جج کی حیثیت سے بھی پیش ہوئے ہیں۔