سی بی ایف سی نے شاہانہ گوسوامی کی فلم ’’سنتوش‘‘ کے متعدد مناظر کاٹنے کے حکم دیا ہے جس کے بعد فلمسازوں کا کہنا ہے کہ تجویز کردہ ترامیم کا نفاذ ناممکن ہے۔
EPAPER
Updated: March 27, 2025, 8:00 PM IST | Mumbai
سی بی ایف سی نے شاہانہ گوسوامی کی فلم ’’سنتوش‘‘ کے متعدد مناظر کاٹنے کے حکم دیا ہے جس کے بعد فلمسازوں کا کہنا ہے کہ تجویز کردہ ترامیم کا نفاذ ناممکن ہے۔
فلم ’’سنتوش‘‘ کی اداکارہ شاہانہ گوسوامی نے کہا کہ ’’سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی، یا، سینسر بورڈ) اور برطانیہ کی جانب سے آسکر میں شامل ہونے والی فلم ’’سنتوش‘‘ اب ہندوستان میں ریلیز نہیں ہوگی کیونکہ فلمساز سینسر بورڈ کی تجویز کردہ تبدیلیوں پر متفق نہیں ہیں۔‘‘ اس ضمن میں برطانیہ میں مقیم نیوز پورٹل دی گارڈین نے رپورٹ کیا ہے کہ سی بی ایف سی نے ہندوستانی تھیٹروں میں سنتوش کی ہندوستانی پولیس فورس کی تصویر کشی سے متعلق خدشات پر اس کی ریلیز روک دی۔
شاہانہ گوسوامی نے اس پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’سینسر نے ان تبدیلیوں کی فہرست دی ہے جنہیں کاٹ دینے سے فلم کا مقصد فوت ہوجائے گا۔ اس بطور ٹیم ہم ان کٹوتیوں سے متفق نہیں ہیں۔یہ افسوسناک ہے کہ جو چیز اسکرپٹ کی سطح پر سینسر کی منظوری سے گزری ہے اس کیلئے بہت زیادہ کٹوتیوں اور تبدیلیوں کی ضرورت ہے تاکہ اسے ہندوستان میں ریلیز کرنا ٹھیک سمجھا جائے۔‘‘
Santosh represents everything that the ruling party fears; that’s why they banned this film. https://t.co/9l5mUzmq6F pic.twitter.com/FqfjMfgJpC
— Nakshatra (@ghalibkakhayal) March 27, 2025
برطانوی ہندوستانی فلمساز سندھیا سوری کی تحریر اور ہدایتکاری میں بننے والی ’’ سنتوش‘‘ شمالی ہند کی کہانی پیش کرتی ہے۔ یہ فلم گہری جڑوں والی بدسلوکی، دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، اور پولیس فورس کے اندر بدسلوکی اور تشدد کو معمول پر لانے کی ایک غیر متزلزل تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ نچلی ذات کی خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور ملک میں مبینہ طور پر مسلم مخالف تعصب کے مسائل کو بھی حل کرتا ہے۔ عالمی سطح پر منعقد ہونے والے فلم فیسٹیول میں اسے متعدد اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ سندھیا سوری نے بھی سیسنر بورڈ کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیا ہے۔