Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنیڈا: دوسرے ملک میں اپنے وجود کی جنگ لڑنے کی کہانی

Updated: March 30, 2025, 10:54 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

کینیڈا جہاں بڑی تعداد میں پنجابی حضرات بستے ہیں لیکن وہاں بھی ان کے حالات زیادہ اچھے نہیں اور کئی چیلنجوں کا سامنا ہے، یہ اس سیریز میں دکھایا گیا ہے۔

Parmesh Verma can be seen in a scene from the web series `Kanneda`. Photo: INN.
ویب سیریز’کنیڈا ‘ کےایک منظر میں پرمیش ورما کو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این۔

کنیڈا(Kanneda)
اسٹریمنگ ایپ :جیو ہاٹ اسٹار(۸؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: بھائو کھندن سنگھ رکھرا، انیرودھ سوریا، کرسٹوفر کوروس، پرمیش ورما، پائولو ریویرا، سیموئل ہوجسن، نتاشا پاویل
ڈائریکٹر: چندن ارورا
رائٹر: چندن ارورا، سندیپ جین، راجیو والیا
پروڈیوسر: موہت چھابرا، اجے رائے، دیویانشو نجھارا، کرشما بنگیرا
سنیماٹو گرافی: راجیو روی
ایڈیٹنگ: نکھل پریہار، سوربھ گور
اسسٹنٹ ڈائریکٹر: راہل کپور، راجیو والیا، اشیش گپتا
آرٹ ڈائریکٹر: سکشم، افضل خان
وژول افیکٹ: سنکیت چٹی، شیوم مالی، سبھدیپ رانا
ریٹنگ:***
’کنیڈا‘ویب سیریزکے تعلق سے اس کےنریٹر محمد ذیشان ایوب کے الفاظ میں کہیں تو اسے سمجھنے کے لیے کینیڈا ملک کو سمجھنا ہوگا، جہاں دوملک بستےہیں۔ ایک گوروں کاعالمی سطح کاملک ’کینیڈا‘اور دوسرا تیسری دنیا کے ممالک سے آئے ہوئے تارکین وطن کا’کنیڈا‘، جس کےباشندوں کو دوسرے درجے کے شہری سمجھا جاتا ہے۔ یہ کہانی اسی طبقےکے ایک ایسے شخص نمّہ (پرمیش ورما) کی ہے، جو کینیڈا اور کنیڈا کے درمیان کی اس دوری کو مٹانے کیلئے کچھ بھی کرنے پر آمادہ ہے۔ 
سیریز کی کہانی
۱۹۸۴ءکےفسادات کے بعد اپنا پنڈپنجاب چھوڑ کر وینکوور میں بسنے والا نمّہ پڑھائی، کھیل کود، موسیقی ہر چیز میں اول ہوتا ہے۔ اسکول میں وہ گوروں کے کھیل رگبی میں منتخب ہونے والا پہلا براؤن لڑکابن جاتا ہے، مگر گورے سازشاًاسے منشیات رکھنے کے جرم میں پھنساکر ٹیم سے نکال دیتے ہیں۔ اس کے بعد نمّہ کو یقین ہو جاتا ہے کہ وہ چاہے جتنی محنت کرے، کینیڈا والے اس کو وہ عزت نہیں دیں گے جو وہ چاہتا ہے۔ اس لیے وہ طاقت اور پیسہ حاصل کر کےعزت حاصل کرنے کا عہد کر لیتا ہے۔ 
اس کے لیے، ایک طرف نمّہ اپنے دوست دلجیت عرف ڈی جے(آدر ملک) کے ساتھ انڈرگراؤنڈ ریپ میں پنجابی موسیقی کا پرچم گاڑتا ہے، تو دوسری طرف وہ منشیات کے کاروبار میں سربجیت سنگھ رندھاوا (اروندودے سنگھ) کے ساتھ اس غیر قانونی دھندے میں بھی شامل ہو جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ، ایک طرف وہ بطور ریپر کامیابی کی بلندیوں تک پہنچتا ہے، تو دوسری طرف جرم کی دلدل میں دھنس جاتا جاتا ہے۔ اب اس کی یہ خواہشات اسے کہاں لے جاتی ہیں، کیا وہ ’کینیڈا‘ اور’کنیڈا‘کے درمیان کی دوری ختم کر پاتا ہے، یہ جاننے کے لیے آپ کو سیریز دیکھنی ہوگی۔ 
ہدایت کاری
چندن ارورا کے ڈائریکشن میں بنی اس سیریز کا بنیادی خیال دلچسپ ہے۔ ان دنوں جہاں غیر ممالک میں تارکین وطن کے ساتھ امتیاز کیا جا رہا ہے، اس کہانی کی اہمیت مزیدبڑھ جاتی ہے۔ کہانی غیر ملکی سرزمین پر دیسی لڑکوں کی اپنی شناخت اور عزت حاصل کرنے کی کوشش کو دکھاتی ہے، جو ابتدائی طور پر تو دلکشی پیدا کرتی ہے، لیکن جیسے ہی کہانی کا ہیرو نمّہ غلط راستہ اختیار کرتا ہے، ویسے ہی اسکرین پلے اپنی شدت کھو دیتا ہے۔ 
اسکرپٹ میں گہرائی کی کمی ہے۔ خاص طور پر موسیقی والے حصے کو تو چند ریکارڈنگز، میٹنگز اور انٹرویوز میں سمٹ دیا گیا ہے، حالانکہ یہ ایک بڑا اہم پہلو ہو سکتا تھا۔ منشیات کے کاروبار والے حصے میں بھی نمّہ کے اتار چڑھاؤ کے دور کو اچھی طرح پیش نہیں کیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کہانی کو جلدی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ اس کے باوجود، پرمیش ورما نے اپنے پہلے او ٹی ٹی شو میں جو کردار نبھایا ہے، آپ اس سے جڑاؤ محسوس کریں گے۔ 
اداکاری
نمّہ کے درد، غصے اور عزائم کو پرمیش نے بہت حقیقت کے ساتھ ادا کیاہے۔ وہ سیریز کی جان ہیں۔ ان کے دوست کے طور پر آدر ملک اور گرل فرینڈ کے طور پر جیسمن باجوا نے بھی اپنی کردار کو اچھے سے نبھایا ہے۔ ان نئے چہروں کی موجودگی سے سیریز میں تازگی محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح، منشیات کے مافیا کے لیڈر کے طور پر اروندودے سنگھ، کالے دھندے چلانے والے سفید پوش رنجیت کے کردار میں رنویر شواری اورپولیس والے کے طورپرمحمدذیشان ایوب کہانی کو ضرور سپورٹ کرتے ہیں، لیکن بطور اداکار یہ خود کو بار بار دہراتے ہوئے لگتے ہیں۔ ذیشان ایوب کی باڈی لینگویج میں پولیس کی تیزی نظر نہیں آتی۔ اسی طرح، منفی کرداروں میں اروندودے سنگھ ٹائپ کاسٹ ہو گئے ہیں۔ سیریز کے میوزک کے حوالے سے کافی باتیں کی گئیں تھیں، مگر ٹائٹل ٹریک’دیسیاں دا دور چلے‘ کے علاوہ کوئی اور گانا یاد نہیں رہتا۔ باقی یہ ہےکہ تقریباً ۲۵؍منٹ کے یہ ایپیسوڈز اتنی تیزی سے آگے بڑھتے ہیں کہ آپ اسے ایک نشست میں پورا دیکھ سکتے ہیں۔ 
نتیجہ
پرمیش ورما کی اداکاری کیلئے آپ اسے دیکھ سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK