Inquilab Logo Happiest Places to Work

خاکی، دی بنگال چیپٹر: مغربی بنگال کے پس منظر میں جرائم پر مبنی کہانی

Updated: March 23, 2025, 11:29 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

اس کی کہانی تو دیگر کرائم تھریلرز کی طرح ہے لیکن مغربی بنگال کا پس منظر، وہاں کے دلکش مناظر اور وہیں سے تعلق رکھنے والے اداکاراسے خاص بناتے ہیں۔

Prosanjit Chatterjee and others can be seen in a scene from the web series `Khaki: The Bengal Chapter`. Photo: INN.
ویب سیریز’خاکی:دی بنگال چیپٹر ‘ کےایک منظر میں پروسنجیت چٹرجی اور دیگرکو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این۔

خاکی: دی بینگال چیپٹر
(Khakee: The Bengal Chapter)
اسٹریمنگ ایپ: نیٹ فلکس(۷؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ:جیت، پروسنجیت چٹرجی، پرمبرت چٹوپادھیائے، چترانگدا سنگھ، ساسوت چٹرجی، رتوک بھومک، آکانکشا سنگھ۔ 
ڈائریکٹر: تشار کانتی رے، دیباتما منڈل
رائٹر: نیرج پانڈے، سمراٹ چکربرتی، دیباتما منڈل
پروڈیوسر: شیتل بھاٹیا، دیپک گائوڑے
سنیماٹو گرافی: سووک باسو، تشار کانتی رے، تاراشری ساہو
ایڈیٹنگ: کوتھی کولوتھ پراوین
آرٹ ڈائریکٹر: کنال کندو
کاسٹیوم ڈیزائن: ورون گپتا اورکریتی ملہوترا
ریٹنگ: ***
’پریم کہانی یارو دیکھی، دیوداس کی پارو دیکھی، زردہ پان کا پتہ دیکھا، عجب غضب کلکتہ دیکھا، قصہ ہے گُردیو کا سُر تال کا، ایک اور رنگ بھی دیکھیے بنگال کا‘ — یہ خوبصورت بول ہیں فلم میکر نیرج پانڈے کی نئی ویب سیریز ’خاکی: دی بنگال چیپٹر‘ کے اوپننگ ٹریک کے، جو بنگال کا ایک الگ رنگ دکھانے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اپنی خاکی فرنچائز کےتحت بہار کے بعد نیرج پانڈے اب اس کی دوسری قسط ’دی بنگال چیپٹر‘ لائے ہیں۔ تاہم، دعوے کے برخلاف کہانی میں کوئی ایسا انوکھا پن نہیں ہے۔ سیاست، گینگسٹر اور پولیس کے نیکسس کی کہانیاں پہلےبھی کئی بار آ چکی ہیں، لیکن کولکتہ کی گلیوں میں دوڑتی اس چور- پولیس کی کہانی میں بنگال کی ثقافت، زبان اور بنگالی کے نامور فنکاروں کی شمولیت اسے دلکش بناتی ہے۔ 
سیریز کی کہانی
یہ کہانی ’سٹی آف جوائے‘ (City of Joy) کے ’سٹی آف بھائے‘ (City of Bhoy) بننے کی ہے، جسے بہتر بنانے کی ذمہ داری ایک ایماندار اور بہادر پولیس افسر پر آتی ہے۔ کہانی کا آغاز برسرِ اقتدار پارٹی کے ایک لیڈر کے پوتے کے اغوا سے ہوتا ہے، جسے ڈھونڈنے کے لیے ایماندار پولیس افسر سَپتَرشی سنہا (پرمورت چٹرجی)کو ایس آئی ٹی میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہاں سَپتَرشی کا سامنا مقامی ڈان شَنکر بروآ عرف باگھا (ساسوت چٹرجی) کے دہشت سے ہوتا ہے۔ باگھا اپنے دو آدمیوں — جے-ویرو، ساگور تلوک دار (رتوِک بھومک) اور رنجیت ٹھاکر (عادِل خان) کے ساتھ مل کر اسمگلنگ سے لے کر دن دہاڑے کسی کا گلا کاٹنے تک، سب کچھ بے خوف ہو کر کرتا ہے، کیونکہ اس کے سر پر برسرِ اقتدار پارٹی کے طاقتور لیڈر ورُن رائے (پروسنجیت چٹرجی) کا ہاتھ ہے۔ چونکہ انتخابات قریب ہیں اور حزبِ اختلاف کی لیڈر نیویدیتا بساک (چترانگدا سنگھ) شہر کی دگرگوں حالت کو انتخابی موضوع بناتی ہے، اس لیے حکمران پارٹی سَپتَرشی کے ذریعے باگھا پر لگام کسنے کا دکھاوا کرتی ہے۔ تاہم، اس جدوجہد میں جلد ہی سَپتَرشی اپنی جان گنوا دیتا ہے، اور تب کہانی میں ایک سپر کاپ، ارجن میترا (جیت) کی انٹری ہوتی ہے۔ ارجن قوانین اور اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر مجرموں کو سبق سکھانے والاافسر ہے۔ اب وہ کس طرح باگھا، ساگور اور رنجیت کے دہشت سے کولکتہ کو آزاد کراتا ہے، یہ جاننے کے لیے سیریز دیکھنی ہوگی۔ 
ہدایت کاری
پولیس تھرلر بنانے میں نیرج پانڈے کو مہارت حاصل ہے، اور اس سیریز میں بھی ان کا تجربہ نمایاں نظر آتا ہے۔ سیاست دانوں اور گینگسٹروں کی ملی بھگت، گینگ وار اور چور-پولیس کی آنکھ مچولی پر مبنی پہلے سے دیکھی ہوئی کہانی کے باوجود، یہ سیریز اپنی تیز رفتاری اور غیر متوقع موڑوں کی وجہ سے ناظرین کو جوڑے رکھتی ہے۔ 
ہدایت کارجوڑی دیباتما منڈل اور تشر کانتی رے نے ایک کرائم تھرلر کے لیے درکار تناؤ کو برقرار رکھا ہے۔ وہیں، بنگال کی لوکیشن، بنگالی مکالمے، اور جیت، پروسنجیت، ساسوت، پرمورت جیسے بنگالی فنکاروں کی موجودگی سیریز کو تازگی فراہم کرتی ہے۔ 
اداکاری
اداکاری کے معاملے میں بھی ان فنکاروں نے اپنے کرداروں میں جان ڈال دی ہے۔ تاہم، پرمورت چٹرجی اور ساسوت چٹرجی کےکردار کافی محدود محسوس ہوتے ہیں۔ وہیں، پروسنجیت کے کردار میں گہرائی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ دو دیگر اداکار جو خاص طور پر ابھر کر سامنے آتے ہیں، وہ ہیں ساگور کا کردار نبھانے والے رتوِک بھومِک اور رنجیت کے کردار میں عادِل خان۔ ’بندش بینڈِٹس‘ میں ستار پکڑنے والے رتوِک نے یہاں خنجر بھی پوری مضبوطی سے تھام رکھا ہے، جبکہ عادِل کو اس سیریز کی بہترین دریافت کہنا غلط نہ ہوگا۔ چترانگدا اور آکانکشا سنگھ کی اداکاری بھی مناسب ہے۔ 
نتیجہ
اگر آپ کرائم تھرلر کے شوقین ہیں، تو یہ سیریز آپ کو پسند آ سکتی ہے۔ بنگال کی ثقافت، لوکیشنز، اور عمدہ اداکاری اس کا پلس پوائنٹ ہے۔ تاہم، اس میں تشدد کی زیادتی ہے، جو کچھ ناظرین کو پریشان کر سکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK