Inquilab Logo Happiest Places to Work

پنہالا قلعہ: قدیم تاریخی اوردلکش مقامات کی سیر کا مرکز

Updated: March 27, 2025, 10:45 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

کولہا پور سے ۲۰؍کلومیٹر دور واقع اس تاریخی اہمیت کے حامل قلعے سے چھترپتی شیواجی مہاراج سے متعلق کئی یادیں وابستہ ہیں، اردگرد کا ماحول دلکش ہے۔

The road to Panhala Fort. Photo: INN.
پنہالا قلعہ تک جانے کا راستہ۔ تصویر: آئی این این۔

پنہالاقلعہ مہاراشٹر کے کولہاپور شہر کے قریب واقع ایک شاندار پہاڑی قلعہ ہےجو اپنی تاریخی اہمیت اور خوبصورت مناظر کی وجہ سے مشہورہے۔ یہ دکن کے سب سے بڑے قلعوں میں شمار ہوتا ہے اور خاص طور پر چھترپتی شیواجی مہاراج سے جڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہ تاریخ کے شوقین، مہم جوئی پسند کرنے والوں اور فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک بہترین مقام ہے۔ 
تاریخی اہمیت
یہ قلعہ۱۲؍ویں صدی میں شیلاہارا سلطنت نے تعمیر کیا تھا، بعد میں یہ بہمنی سلطنت اور پھر مراٹھاحکومت کے قبضے میں رہا۔ یہ قلعہ شیواجی مہاراج کی حکمت عملیوں کا ایک اہم مرکز رہا، اور۱۶۶۰ءمیں انہوں نےیہاں سے ایک اہم فرار کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس قلعے نے مراٹھا اور مغل سلطنت کے درمیان کئی جنگوں میں اہم کردار ادا کیا۔ 
سیاحتی نقطہ نظر سے اہمیت
قلعہ تقریباً۳۱۷۷؍فٹ کی بلندی پر واقع ہے، جہاں سے اردگردکی وادیاں اور سرسبز پہاڑوں کا شاندار نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ خاص طور پربرسات کے موسم میں یہاں کا ماحول انتہائی دلکش ہوجاتا ہے۔ یہ جگہ ٹریکنگ کے شوقین افراد کے درمیان بھی مشہور ہے، کیونکہ یہاں کئی آسان اور دشوار گزار راستے موجود ہیں جو مہم جوئی کے شوقین لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ 
ایڈونچر اور سرگرمیاں 
قلعے کے اندر کئی تاریخی مقامات موجود ہیں، جن میں تین دروازہ (Triple Gateway)، اندھر باوڑی (Hidden Well)، امبرخانہ (Granary)، سجّا کوٹھی اور راجدنڈی بستیان شامل ہیں۔ اندھر باوڑی ایک تین منزلہ کنواں ہے جو قلعے میں پانی کی سپلائی کے لیےبنایا گیا تھا۔ سجّا کوٹھی وہ جگہ ہےجہاں شیواجی مہاراج نے اپنے بیٹےسمبھاجی کو قید کیا تھا، جبکہ راجدنڈی بستیان وہ خفیہ راستہ ہے جہاں سے شیواجی مہاراج نے دشمن کے محاصرے سے بچنے کے لیے فرار حاصل کیا تھا۔ یہاں ایک قدیم شیو مندر اور سومیشور ٹینک بھی موجودہے، جو روحانی سکون حاصل کرنے کیلئےبہترین مقام ہے۔ فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے بھی یہ جگہ انتہائی دلکش ہے، خاص طور پر طلوع اور غروب آفتاب کے مناظر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ 
پنہالاقلعہ جانے کا بہترین وقت برسات (جون تا ستمبر) اور سردیوں کا موسم (اکتوبر تا فروری) ہے، کیونکہ اس دوران موسم خوشگوار ہوتا ہے اور یہاں کی قدرتی خوبصورتی عروج پر ہوتی ہے۔ قلعہ کولہاپورسےتقریباً ۲۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور وہاں پہنچنے کے لیے آپ ٹرین، بس یا کار کا استعمال کر سکتے ہیں۔ 
کیسے جائیں ؟
اگر آپ ممبئی سےپنہالاقلعہ جانا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس سفر کے کئی متبادل موجود ہیں، جو آپ کی سہولت اور بجٹ پر منحصر ہیں۔ 
بذریعہ ٹرین :ممبئی سے کولہاپور کے لیے براہ راست کئی ٹرینیں دستیاب ہیں جن میں سہیادری ایکسپریس، مہالکشمی ایکسپریس اور کوئنا ایکسپریس شامل ہیں جو آپ کو تقریباً ۱۱؍ گھنٹے میں کولہا پور پہنچا دیں گی۔ کولہاپور اسٹیشن پہنچنے کے بعد، آپ بس، کیب یا آٹو رکشہ کے ذریعے ۲۰؍ کلومیٹر کا سفر طے کر کے قلعے تک پہنچ سکتے ہیں۔ 
بس کے ذریعہ:ممبئی سے کولہاپور کیلئےمہاراشٹر اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن(ایم ایس آر ٹی سی)اور پرائیویٹ بسیں دستیاب ہیں۔ اے سی، نان اے سی، سلیپر اور سیٹربسیں روزانہ چلتی ہیں، جو تقریباً ۸؍تا ۱۰؍گھنٹے میں کولہاپور پہنچتی ہیں۔ کولہاپور پہنچنے کے بعد، آپ وہاں سے لوکل بس، شیئر رکشہ یا ٹیکسی کے ذریعےقلعہ جا سکتے ہیں۔ 
بذریعہ کار یا ٹیکسی: اس کے علاوہ آپ پرائیویٹ کار یا ٹیکسی کے ذریعہ بھی کولہا پور پہنچ سکتے ہیں۔ ممبئی سےکولہاپورتقریباً ۳۷۵؍ کلو میٹردور ہے، اور یہ سفر ممبئی-پونے ایکسپریس وے اور قومی شاہراہ نمبر ۴۸؍کےذریعے ۶؍ تا ۷؍گھنٹے میں طے کیا جا سکتا ہے۔ کولہاپورپہنچ کر، آپ مزید ۴۵؍منٹ میں پنہالاقلعہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK