یہ ویب سیریزانگریزوں کے دور حکومت میں جلیاں والا باغ قتل عام کے بعدرونما ہونے والے ان واقات کوپیش کرتی ہے جومنظر عام پر نہیں آسکے۔
EPAPER
Updated: March 16, 2025, 12:10 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
یہ ویب سیریزانگریزوں کے دور حکومت میں جلیاں والا باغ قتل عام کے بعدرونما ہونے والے ان واقات کوپیش کرتی ہے جومنظر عام پر نہیں آسکے۔
دی ویکنگ آف اے نیشن
(The Waking of a Nation)
اسٹریمنگ ایپ: سونی لیو(۶؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: تارک رائنا، ساحل مہتا، بھائوشیل سنگھ سہنی، نکیتادتا، کارل وھارٹن، رنجیت سنگھ، نکھل، ایڈروبنسن
ڈائریکٹر: رام مادھوانی
رائٹر: رام مادھوانی، شتروجیت ناتھ، شانتنو شریواستو
پروڈیوسر: رام مادھوانی، امیتا مادھوانی
سنیماٹو گرافی: کاویا شرما
ایڈیٹنگ: ابھیمنیو چودھری
آرٹ ڈائریکٹر: پردیپ نگم
کاسٹیوم ڈیزائن: انکنا اوستھی
ریٹنگ: ***
جلیانوالہ باغ قتل عام(۱۳؍ اپریل۱۹۱۹ء) ایک المناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ اس پر مبنی ویب سیریز ’دی ویکنگ آف اے نیشن‘ قتل عام کے ان چھپے ہوئے پہلوؤں، خاص طور پر کانتی لال سہنی کی کہانی بیان کرتی ہے، جس کے بارے میں لوگوں کو بہت کم معلومات ہے۔ سیریز قتل عام کے بعد کے واقعات کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہے، خاص طور پر قتل عام کے بعد برطانوی حکومت کے ردعمل اور ہنٹر کمیشن کی تحقیقات کو، جسے پنجاب میں اس وقت ہونے والی بدامنی کی جانچ کے لیے ڈس آرڈر انکوائری کمیٹی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیریز کا موضوع اسے دیکھنے کے لیے کشش پیدا کرتا ہے، لیکن اسے جس طرح پردے پر پیش کیا گیا ہے، وہ متاثر کن نہیں ہے۔
رام مادھوانی ایک قومی فلم ایوارڈ یافتہ ہدایت کارہیں، اس لیے ان سےتوقعات بہت زیادہ تھیں۔ مگر جس طرح وہ اس اہم تاریخی واقعےکو مؤثر انداز میں پیش کرنے سے چوک گئے، وہ حیران کن ہے۔ مادھوانی نے سیریز میں تاریخ، ڈرامے اور ایکشن کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن کہانی کی سست رفتار، تاریخی واقعات کی کمزور پیشکش اور کمیٹی کی انتہائی سست بحثوں کے درمیان یہ سیریز الجھ کر رہ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ سیریز آپ کو جذباتی طور پر جوڑنے میں ناکام رہتی ہے۔
سیریز کی کہانی
یہ ویب سیریز تاریخ کے صفحات میں دفن وکیل کانتی لال سہنی (تارُک رینا) کی کہانی ہے، جنہوں نے جلیانوالہ باغ قتل عام کے بعدانصاف کی مانگ کرتے ہوئے برطانوی راج کی سازش کو بے نقاب کیا تھا۔ یہ سیریز ہندوستان میں برطانوی حکمرانی سے جڑے دھوکے اور جبر کی پرتیں کھولتی ہے۔ شو میں تاریخ کے کئی اہم واقعات کوایک ساتھ پرویا گیاہے، جن میں بدنام زمانہ امرتسر قتل عام بھی شامل ہے، جہاں کرنل ریجنالڈ ایڈورڈ ہیری ڈائر (ایلیکس ریس) نےرولیٹ ایکٹ کے خلاف پرامن مظاہرہ کرنے والوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا۔ رولیٹ ایکٹ نے برطانوی حکام کو بغیر کسی ٹھوس وجہ کے لوگوں کو گرفتار کرنے کا اختیار دیا تھا۔
ہدایت کاری
عدالت کے وہ مناظر، جو اس سیریز کی جان بن سکتے تھے اور ناظرین کو جذباتی طور پر جوڑ سکتے تھے، اپنی سست رفتاری کی وجہ سے بکھرتےمحسوس ہوتے ہیں۔ ہنٹر کمیشن کی تحقیقات اس کہانی کو مضبوط بنا سکتی تھی، مگر وہ بھی ایک قانونی ڈرامے کے طور پر گھسٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
اداکاری
کانتی لال سہنی کے کردار میں تارُک رینا نے پوری ایمانداری سے کام کیا ہے، مگر ان کے کردار میں ایسی اہم شخصیت کے لیے ضروری جذباتی گہرائی کی کمی جھلکتی ہے۔ کمیٹی کے سامنے ان کے طویل بیانات گہرائی میں ڈوبنے کے بجائے حد سے زیادہ ڈرامائی محسوس ہوتے ہیں۔
نکیتا دتہ، ساحل مہتا اور بھاوشیل سنگھ اپنی محدود کرداروں میں اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے کرداروں کو مزید نکھارنے کی ضرورت تھی۔ اداکاروں کے لہجے اور طور طریقے آزادی سے پہلے کے دور کو حقیقت کے قریب تر پیش کرتے ہیں، مگر اس کا اثر زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔
تکنیکی پہلو
سینماٹوگرافر کاویا شرما نے اس دور کے ماحول کو اپنے کیمرے سےمؤثر انداز میں قید کیا ہے۔ برطانوی راج کی زنجیروں میں جکڑےہندوستان کو انہوں نے پردے پرزندہ کر دیا ہے۔ ۱۹۱۹ء میں امرتسر اور قتل عام کے مناظر شاندار ہیں، جو ناظرین کو اس تاریخی ماحول میں لے جاتے ہیں۔ سمیر الدین کا بیک گراؤنڈ میوزک تاریخی لمحات میں خوف اور سنجیدگی کا احساس پیدا کرتا ہے، لیکن یہ سیریز کی جذباتی کمزوریوں کی تلافی نہیں کر پاتا۔
نتیجہ
اگر آپ کی تاریخ میں گہری دلچسپی ہے اور آپ کوئی غیر معروف کہانی جانناچاہتے ہیں تو یہ سیریز آپ کو پسند آ سکتی ہے، مگر باقی ناظرین کیلئے۶؍ گھنٹے کاوقت مایوس کن ثابت ہو سکتا ہے۔