اونٹ قربانی کا

Updated: August 16, 2022, 11:42 AM IST | Babu RK | Amaravati

چونکہ عیدقرباں قریب تھی اس لئے شہر میں ہر طرف قربانی کے چرچے تھےاور قربانی کے جانوروں کے تذکرے تھے۔ اس دوران اپنے گھر میں بیٹھے بیٹھے ہم نے بھی قربانی کیلئے جانوروں کے ناموں پر غوروخوض کیا،

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

 چونکہ عیدقرباں قریب تھی اس لئے شہر میں ہر طرف قربانی کے چرچے تھےاور قربانی کے جانوروں کے تذکرے تھے۔ اس دوران اپنے گھر میں بیٹھے بیٹھے ہم نے بھی قربانی کیلئے جانوروں کے ناموں پر غوروخوض کیا، اس موقع پر بکرے نے سب سے پہلے لبیک کہا۔ مہنگائی اور بکروں کی چڑھی قیمتوں نے ناممکن کہا۔ پھر ممکنات کی تلاش کے مشن نے بیل کا نام سجھایا، اس مبارک نام پر ہم اتفاق کرنے ہی والے تھے کہ اس میں سات شیر ہولڈرس کی قباحت نظر آئی کیونکہ ہم نے سن رکھا تھا کہ روز محشر قربانی کا جانورقربانی دینے والے کو اپنی پیٹھ پر سوار کرکے پل صراط سے بخیر وعافیت گزاردے گا۔ اس روایت کے پس منظر میں ہم نے سوچا کہ ایک سواری سات سوار اور اس پہ سفرِ پل صراط… یعنی ایک سواری سات سواروں کولئے عین پل صراط پہ ہانپنے کانپنے لگ جائے او رگرا پڑادے تواللہ کی پناہ! دوزخ کے ناگ اورجہنم کی آگ سے سامنا ہوگا۔ بس یہ سب سوچ کر اور خوفِ پل صراط نے قربانی کے لئے بیل جیسی کمزور سواری کو مسترد کیا اور اونٹ جیسی شہ زور سواری کو منتخب کیا۔ اونٹ کا نام سنتے ہی قربانی دینے والے بقیہ چھ شیرہولڈرس نے یہ کہہ کر حیل وحجت کی کہ اونٹ کی سواری ، سواروں کی نشست کے معاملہ میں اطمینان بخش نہیں ہوتی ہے۔ ان کی منطق تھی کہ جب اونٹ کی پیٹھ پر ایک سواری کی گنجائش بڑی مشکل سے نکل سکتی ہے تو پھر سفر پل صراط کے دوران سات سوار اس کی کوہان پہ کہاں اورکیسے بیٹھ پائیں گے؟
 بہر حال یہ طے پایا کہ اونٹ ایک لحیم وشحیم طاقتور و توانا جانور ہوتا ہے اس لئے پلک جھپکتے ہی پل صراط کو لمبے لمبے ڈگ بھر کرپار کرواہی دے گا۔تو صاحب شہ زوری کی بناء پر قربانی کے لئے اونٹ کے نام پر سب نے اتفاق کرلیا گویا قر بانی کے لئے جانور کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ ہی گیا۔ پھر جناب گھوم پھر کر ایک راجستھانی شخص سے اونٹ کا سودا طے پایا۔ اونٹ کو ہمارے حوالے کرتے وقت وہ شخص سرگوشی میں بولا، دیکھئے اونٹ کی قربانی کا معاملہ ہے اس لئے اس کی تشہیرکم اور احتیاط زیادہ کرنا۔خیراس شخص کی سنی ان سنی کرکے ہم اونٹ کی نکیل تھامے خوشی خوشی جنگل سے شہرکی طرف لوٹے ۔ شہر میں داخل ہوتے ہی دھوم مچ گئی۔ سڑک پہ بچے جوان بوڑھے، جوق درجوق اونٹ کی جانب لپکے۔ تھوڑی دیر بعد اونٹ کو ساتھ لئے ایک عظیم الشان جلوس کے ساتھ ہم اپنے گھر پہنچے۔ اب ہمارے سامنے مسئلہ اونٹ کو اپنے گھر کے اندر لانے کا تھا۔ کیوں کہ اگر ہم اسے گھر کے باہر ہی باندھ دیتے تو بچوں کی شرارتیں اس کی بچی کچھی ایک آدھ سیدھی کل کو ٹیڑھی کرکے رکھ دیتیں۔ بہرکیف اس موقع پر اونٹ کے گھر کے اندر قدم رنجہ فرمانے کے متعلق بحث مباحثے اور صلاح ومشورے ہونے لگے۔ بہت جلد یہ معاملہ ہمارا نہ ہوکر اہل محلہ کا مسئلہ اور والیانِ شہر کا قضیہ بن گیا۔ کسی نے دروازہ گرادینے کی تجویز سجھائی تو کسی نے دیوار شہید کرنے کا مشورہ دیا۔ ایک صاحب تو مجمع کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور خالص افلاطونی انداز میں بولے، میں توکہتا ہوں دروازہ گراؤ نہ دیوار ہلاؤ، بس اونٹ کو دوڑاتے ہوئے لاؤ اور دیوار پر سے چھلانگ لگواؤ۔  یہ باتیں سن سن کر ہمارے اوسان خطا ہوئے ۔ان حالات میں ہم بار بار اس کی بے تر تیب کلوں کو دیکھتے جاتے اوراس کے قدوقامت پہ کڑھتے جاتے۔ بہرحال مزید تماشہ بننے کے خوف سے ہم نے دروازہ گراکر دیواریں ہلاکر اسے اپنے گھر کے اندر کرہی لیا۔ صحرا کے اس جہاز نے ہمارے گھر کے آنگن کو واقعی بھردیا۔ تھوڑے توقف کے بعد ہم نے اپنے درودیوار کی ہلتی ہوئی چولوں کو حسرت سے دیکھتے ہوئے قربانی کے جملہ شیر ہولڈرس سے کہا۔ اب آپ لوگ بھی ایک ایک دن اس مبارک ہستی کو اپنے گھر میں رکھ کر میزبانی کا شرف حاصل کریں۔ یہ سنتے ہی سبھی نے فوراً ایک زبان میں نہ کہہ دیا۔ الغرض اونٹ کی میزبانی کا شرف حاصل کئے ابھی ایک ہی دن گزرا تھا کہ دوسرے دن ایک نئی مصیبت آپڑی۔ ہمارے دوست خاں صاحب ہانپتے کانپتے ہمارے گھرآئے اور پھٹی پھٹی آنکھیں گھماکر اکھڑی اکھڑی سانسوں کے ساتھ بولے، غضب ہوگیا پولیس سا رے گھروں میں جھانکتی پھر رہی ہے ،اونٹ چوری کا ہے اب ہم ساتوں بھی گئے کام سے۔ یہ کہتے ہوئے وہ اونٹ کی جانب آئے اور اسے نفرت سے دیکھتے ہوئے بولے ارے اس کم بخت کو کم از کم نیچے بٹھاؤ توسہی اور پھر وہ عجیب وغریب حر کتیں کرنے لگے یعنی واقعی وہ اسے بٹھانے کی کوشش کرنے لگے ۔ اونٹ کو بٹھانے کی کوشش میں وہ وظیفے کے ورد کے ساتھ ساتھ اسے چاٹیں بھی مارنے لگے لیکن وہ تھا کہ ٹس سے مس نہ ہوا اورکھڑے کھڑے دیوار کے اوپر سے گلی والوںکو منہ اور گردن دکھانے لگا۔ جب اونٹ کو نیچے بٹھانے میں ہر طرف سے ناکامی ہاتھ آئی تب وہ بولے ، اچھا اب ایک اور ترکیب آزما کردیکھتے ہیں۔ ہم نے کہا جلدی بتاؤ، ترکیب کیا ہے؟ بولے، اس نامرادکو کہیں چھپادیتے ہیں۔ ہم نے چڑکرکہا، خاں صاحب آپ نے تو حد کردی۔ یعنی آپ زمین کو لپیٹنے اورآسمان کو گرانے کی بات کہتے تو ہم مان جاتے لیکن آپ تو بات کررہے ہیں اونٹ کو چھپانے کی، ارے یہ اونٹ ہے اونٹ ، کوئی ماچس کی ڈبیہ تھوڑی ہے کہ لیا اور چھپادیا۔یہ سن کر وہ بولے تو یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’’مسٹر اوبڑکھابڑ‘‘ ہمیں جیل بھجواکر ہی رہیں گے۔ پھر کچھ دیر بعد قدرے سمجھانے کے انداز میں وہ بولے، میری تجویزپہ عمل کرو،آنا کانی مت کرو، جلدی سے گھر میں موجود تمام کپڑے لتے آنگن میں جمع کردو۔ پھر یہ ہوا کہ پلک جھپکتے ہی آنگن میں کپڑوں کا ڈھیر لگ گیا۔ اب خاں صاحب نے کھڑے ہوئے اونٹ کے منہ اور دم کی جانب دودولمبے لمبے بانس آنگن میں گاڑ دیئے پھر ان بانسوں سے دومتوازی رسیاں تان دیں،پھر کپڑوں کے ڈھیر میں سے وہ ایک ایک کپڑا اٹھاتے جاتے رسیوں پہ ڈالتے جاتے اوراس طرح اونٹ کو دھانپتے جاتے۔ تھوڑی دیر میں یہ ہوا کہ تمام کپڑے تو ختم ہوگئے لیکن اونٹ پھربھی بچا کا بچا رہا۔ بہرحال بچے ہوئے اونٹ کی پردہ پوشی کے لئے انہوں نے کھڑکیوں اور دروازوں کے پردے بھی نوچ ڈالے، تب کہیں جاکر اونٹ کی نقاب پوشی ہوسکی۔ اس کام کی انجام دہی کے بعد سب نے اطمینان کی سانس لی۔  خصوصاً اس کارنامے کے بعد خاں صاحب تو پولیس کی آمد کے انتظار میں خوشی خوشی چہل قدمی بھی کرنے لگے تھے۔ بعدازاں لوگوںکے ہجوم کے ساتھ پولیس انسپکٹر واقعی ہمارے آنگن میں چلا آیا اورآتے ہی ڈنڈا لہراتے ہوئے کرخت لہجہ میں بولا۔ لاؤ نکالو،حوالے کرو، چوری کا اونٹ۔ یہ سن کر ہم تو خاموش رہے لیکن خاں صاحب کہاں چپ رہنے والے تھے بول پڑے، انسپکٹر صاحب آپ تو اونٹ کو لانے، نکالنے اور حوالے کرنے کا یوں کہہ رہے ہیں جیسے اونٹ اونٹ نہ ہوا کوئی کیڑا مکوڑہ ہوا۔ دیکھئے واقعی اگر اونٹ ہمارے پاس ہوتا تو ہم آپ کے حکم کی تعمیل میں اسے لاتے بھی نکالتے بھی اورآپ کے حوالے کرتے بھی لیکن جب سرے سے اونٹ ہمارے پاس ہے ہی نہیں تو پھر اتنے سارے کام ہم کریں تو کیسے کریں؟  اس دوران انسپکٹر واپس جانے کے لئے پلٹا ہی تھا کہ کپڑوں میں ہلچل ہوئی۔ کپڑوں میں ہلچل کو دیکھتے ہوئے انسپکٹر نے در یافت کیا ،یہ کیا ہے؟ جی کپڑے ہیں، اتنے سا رے کپڑے آنگن میں کرکیا رہے ہیں؟ جی سوکھ رہے ہیں ، عید کی تیاری ہے، تو کیا تمہارے گھر میں بقرعید کے موقع پر بجائے قربانی کے کپڑے ہی سوکھتے ہیں؟  ابھی انسپکٹر مزید کچھ کہنے ہی والا تھا… کہ اس مرتبہ کپڑوں میں زبردست ہلچل کے ساتھ ساتھ دہاڑ بھی سنائی دی۔ مارے خوف کے انسپکٹر اچھل کر دوربھاگا... یعنی ابھی ابھی کپڑے سوکھ رہے تھے اور اب کپڑے چلا بھی رہے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ کپڑوں کو سمیٹنے لگا اور پھر کچھ ہی دیر میں اس نے کپڑوں میں سے صحیح سالم اونٹ کو نکال لیا ... اوراس طرح سفرپل صراط کو ہنستے کھیلتے پارکرجانے کی چاہ میں قربانی کے اونٹ نے ہمیں جلوس کے ساتھ حوالات پہنچا دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK