آہِ سحرگاہی: وہ چند رکعات جو آدھی رات میں ادا کی جاتی ہیں

Updated: September 16, 2022, 1:23 PM IST | Maulana Hamadullah | Mumbai

متعدد احادیث میں بھی نماز تہجد کی فضیلت وارد ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: اے لوگو! سلام پھیلائو اور کھانا کھلائو اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو۔ (اگر ایسا کرو گے) تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائو گے۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

رات کے گھپ اندھیروں میں جب پورا عالم محوِ استراحت ہوتا ہے اور ہر طرف ہُو کا عالم ہوتا ہے، انسان، چرند، پرند، درند، غرض ہرمخلوق اپنے آشیانے میں دبکی پڑی ہوتی ہے کہ کچھ دیوانے نرم و گرم بستر چھوڑ کر محبوب حقیقی کی محبت سے سرشار یکلخت اُٹھ بیٹھتے ہیں۔ یہ وہ برگزیدہ مخلوق ہے جس کے دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے معمور ہیں۔ یہ لوگ زمین کی کور باطن مخلوق کی نگاہوں سے اوجھل مگر آسمانی مخلوق کے سامنے روشن اور تابناک یوں جگمگاتے ہیں جیسے زمین والوں کی نظر میں تارے۔ ان کے دلوں میں ایک سوز ہوتا ہے، ایک درد ہوتا ہے، جو ہر دم انہیں بے کل اور بے چین رکھتا ہے۔ ان کو اگر کوئی دھن ہے تو ایک ہی، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوجائے۔رات کا ایک بڑا حصہ گزر چکا ہے، تمام دنیا خوابِ غفلت میں مدہوش ہے اور یہ عاشق اپنے محبوب کے سامنے جھولی پھیلائے اس سے محبت کی بھیک مانگ رہے ہیں، آنسو بہا رہے ہیں۔ ادھر آسمانوں پر رحمت کے دروازے کھل رہے ہیں۔ ان کا منتہائے مقصود محبوب حقیقی کا وصال اوراس کی رضاجوئی ہے۔اب رات کا آخری پہر ہے، رحمتوں کی موسلادھار بارش شروع ہوچکی ہے، اللہ سوال کرنے والوں کو عطا فرما رہے ہیں،اعلان ہو رہا ہے: مانگو! کیا مانگتے ہو؟ جو مانگو گے عطا ہوگا۔ پھر    رضائے الٰہی کے پروانے جاری ہونے لگتے ہیں۔  یہی ان کا مقصدحیات اور یہی ان کی معراج ہے، جس کی خاطر یہ روزانہ اپنے نرم نرم بستر اور میٹھی میٹھی نیند قربان کرکے اُٹھ بیٹھتے ہیں، اور دربارِ الٰہی میں پروانہ وار حاضر ہوجاتے ہیں۔ ان کے اسی حال کو شاعرمشرق نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے   :
واقف ہو اگر لذتِ بیداریٔ شب سے
اُونچی ہے ثریا سے بھی یہ خاک پُراسرار
ان سعید روحوں کی سعادت کا اندازہ اس سے لگایئے کہ اللہ تعالیٰ ان کا تذکرہ قرآن مجید میں فرما رہا ہے، فرمایا:
’’ان کے پہلو اُن کی خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور امید (کی مِلی جُلی کیفیت) سے پکارتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔‘‘(السجدہ :۱۶)
علامہ فخرالدین رازی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یَدْعُوْنَ سے مراد یُصَلُّوْنَ ہے، یعنی رات کو نماز پڑھنا مراد ہے۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان کھپانے والے ان جواں ہمت لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں انعام و اکرام کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ تمہارے ناقص تصور اور تخیل سے بالا ہے:
’’سو کسی کو معلوم نہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ رکھی گئی ہے، یہ ان (اَعمالِ صالحہ) کا بدلہ ہوگا جو وہ کرتے رہے تھے۔‘‘(السجدہ:۱۷)پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزا میں ان کے لئے چھپا رکھا گیاہے اس کی کسی ’ذی روح‘ کو خبر نہیں ہے۔یہاں ان لوگوں کا انعام واضح طور پر بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے جس کو کوئی نفس نہیں جانتا۔ انعام کے اس اخفا میں اس کی عظمت کی طرف اشارہ ہے، نیز اس اخفا سے ان لوگوں کو شوق دلانا مقصود ہے جو اس عظیم عمل سے محروم ہیں۔ایک مقام پر اللہ تعالیٰ حضوؐر کو اور حضورؐ کے واسطے سے اُمت کو تہجد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اور رات کے کچھ حصہ میں (بھی قرآن کے ساتھ شب خیزی کرتے ہوئے) نماز تہجد پڑھا کریں یہ خاص آپ کے لئے زیادہ (کی گئی) ہے، یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا ۔‘‘(بنی اسرائیل :۷۹) 
مجدد الف ثانی ؒتعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اوّل نماز تہجد کا حکم دیا گیا اور پھر مقامِ محمود، یعنی شفاعت کبریٰ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز تہجد کو مقامِ شفاعت حاصل ہونے میں خاص دخل ہے۔ (معارف القرآن، ج ۵)
اسی طرح متعدد احادیث میں بھی نماز تہجد کی فضیلت وارد ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: اے لوگو! سلام پھیلائو اور کھانا کھلائو اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو۔ (اگر ایسا کرو گے) تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائو گے۔(ترمذی)عام طور پر لوگ ان اعمال کو بالکل معمولی سمجھتے ہیں لیکن قدر شناسوں سے پوچھئے کہ یہ کیسی دولتِ بے بہااور انمول خزانے ہیں اور پھران پر کوئی زیادہ محنت بھی خرچ نہیں ہوتی، بس ذرا سی ہمت چاہئے۔ خود حضور علیہ السلام کی شان یہ تھی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تہجد میں قیام کرتے کرتے آپؐکے پائوں مبارک میں سوجن آجاتی تھی۔  میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپؐ کے لئے بخشش لکھ دی گئی ہے۔ پھر آپؐ کیوں اتنی مشقت برداشت فرماتے ہیں تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟یہ اس ذات اقدسؐ  کا حال ہے جس کے لئے سب سے پہلے جنت میں داخلے کا وعدہ ہے۔ ایک ہم ہیں کہ گناہوں کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں، پھر بھی آخرت کی فکر نہیں،اعمال کا شوق نہیں۔ ہم میں سے کون ہے جو جنت کا طلب گار نہ ہوگا لیکن کبھی ہم نے اپنے اعمال کا موازنہ کیا؟ کیا وہ (اعمال) اس قابل ہیں کہ ہمیں جنت کا حق دار ثابت کرسکیں؟ کیا ہی خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی راتیں نورانی ہیں اور کیا سعادت مند ہیں وہ نوجوان جو اس جوانی میں لذتِ بیداریٔ شب سے آشنا ہوتے ہیں۔ یہی نوجوان روزِ قیامت ربِ ذوالجلال کے عرش تلے ہوںگے جس دن اس کے عرش کے سوااور کوئی سایہ نہ ہوگا۔اے جوانانِ سعادت مند! یہ نعمت اتنی سستی نہیں، اس کے لئے آہ سحرگاہی کو اپنانا ہوگا، راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر مالک کو منانا ہوگا، اس کے سامنے جھولی پھیلا کر گڑگڑانا ہوگا، تب جاکر   رضاے الٰہی کا گوہر مقصود حاصل ہوگا۔حضرت جنید بغدادی ؒکی وفات کے بعد کسی نے ان کو خواب میں دیکھا اور ان سے ان کا حال دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: ’’عبارات اُڑ گئیں، اشارات سب فنا ہوگئے اور ہمیں نفع نہیں دیا مگر ان چند رکعات نے جو ہم نے آدھی رات میں ادا کی تھیں۔‘‘ (تفسیر عزیزی) اللہ تعالیٰ ہمیں اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کی اور ان کے اعمال کو اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK