احمد کلیم فیض پوری ایک دریا جو منجمد ہوگیا

Updated: May 02, 2022, 1:02 PM IST | Mushtaq Karimi | Jalgaon

؍۱۷؍مارچ ۲۰۲۱ء کی علی الصباح نیند کی مضبوط ڈور کے لئے موبائل کی مسلسل بجتی گھنٹی جیسے کوئی دھاردار کلہاڑی ثابت ہوئی۔

Ahmed Kaleem Faizpuri .Picture:INN
احمد کلیم فیض پوری۔ تصویر: آئی این این

؍۱۷؍مارچ ۲۰۲۱ء کی علی الصباح نیند کی مضبوط ڈور کے لئے موبائل کی مسلسل بجتی گھنٹی جیسے کوئی دھاردار کلہاڑی ثابت ہوئی۔میں نیند سے جاگ تو گیا مگر موبائل کے اسکرین کو دیکھنے کی ہمت نہیں ہوپارہی تھی۔موبائل پھر بج اٹھا،اسکرین پر احمد کلیم کی سرخی تھی۔دل دھک سے رہ گیا۔تھرتھراتے ہاتھوں سے فون اٹھایا دوسری جانب احمد کلیم فیض پوری صاحب کے پوتے آصف احمد تھے۔انھوں نے کہا’’دادا جان نہیں رہے‘‘یہ جملہ سنتے ہی میراوجودجیسے ساکت ہوگیا۔موبائل کی گھنٹی نے اہلیہ کی نیند میں بھی خلل ڈال دیا تھا۔انھوں نے راست سوال کیا’’کیا ہوااحمد کلیم صاحب تو ٹھیک ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا’’جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔‘‘ 
 احمد کلیم فیض پوری نے ریاست مہاراشٹر کے تاریخی شہر فیض پور میں ۲۱؍جولائی ۱۹۳۸ءکو آنکھیں کھولیں۔انتہائی غربت،نا مساعد حالات اورزندگی کی دشوار گزارپگڈنڈی پر چلتے ہوئے انھوں نے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔یہ اس زمانہ کی بات ہے جب چھوٹی  ڈگریاں بھی علمیت سے لبریز ہوا کرتی تھیں۔  احمد کلیم صاحب کو مطالعہ کا گہرا شغف تھا۔پھر یہی شغف انھیں لوح و قلم تک لے گیا۔اس طرح انھوں نے بچوں کے لیے کہانیاں بھی لکھیں اور نظمیں بھی۔افسانے بھی تحریر کیے اور مضامین بھی صفحہ قرطاس پر اتارے۔ایک زمانہ تھا جب آپ کی نظمیں اور کہانیاں ماہنامہ شمع،بانو،بیسویں صدی کے علاوہ مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے اشاعت پذیر ہوتی تھیں۔یہ سلسلہ برسوں تک جاری رہا  ۔
 احمد کلیم صاحب کا تخلیقی سفر کم و بیش پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے مگر آپ کے افسانوں کا پہلا مجموعہ’ ساگوان کی چھاؤں میں‘۲۰۱۲ء  میں منظر عام پر آیا۔اس ضمن میں وہ ہمیشہ پس و پیش سے کام لیتے نظر آتے مگر جب بر صغیر کے معروف افسانہ نگار شموئل احمدنے بارہا اصرار کیا تو پھر آپ نے اشاعت کا تہیہ کرہی لیا۔شموئل احمد کے قلم کے آپ معترف رہے۔ ساگوان کی چھاؤں میں کا انتساب آپ نے شموئل احمد کے نام ہی لکھا ہے۔انھیں اپنے والدین سے بے انتہا محبت اور لگاؤ رہا ہوگا جو کہ فطری امر ہے۔آپ نے اپنی کتاب میں اس کا بھی کھل کر اعتراف کیا ہے۔ احمد کلیم فیض پوری درس و تدریس سے وابستہ تھے۔بھساول کی اردو اسکولوں میں آپ نے تدریسی خدمات انجام دیں اور پھر ہمیشہ کے لیے یہیں کے ہو رہے۔حتیٰ کہ یہیں کی مٹی کا پیوند ہوگئے۔کم وبیش ساڑھے تین دہائیوں تک تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد۱۹۹۳ء میں بحیثیت صدر مدرس سبکدوشی پائی اور ایسی پائی کہ سبھی رشک کرنے لگے۔دوستوں نے انجمن اسکول کے میدان میں جشن برپا کردیا جس میں ضلع بھر کے قلمکاروں کے ہمراہ آپ کے شاگردوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی اور انھیں یادگار خراج تحسین پیش کیا۔سبکدوشی کے بعد کامران ایس ٹی ڈی واقع آزاد مارکیٹ،محمد علی روڈ بھساول ان کا تخلیقی و تصنیفی مسکن بن گئی۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی حیثیت اردو مرکز کی سی ہوگئی۔شاید ہی ضلع کا کوئی ایسا قلمکار ہوجو بھساول آیا ہو اور کامران ایس ٹی ڈی یعنی اردو مرکز پر حاضری دیے بغیر واپس لوٹ گیا ہو۔
 احمد کلیم صاحب کی ایک خوبی جو انھیں دیگر سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ آپ کے ملنے جلنے والوں میں بیشتر تو قلمکار ہی ہوتے مگر صرف ان کے ہم عصر نہ ہوتے بلکہ نو آموز بھی ہوتے،تازہ دم بھی ہوتے،کچھ ان سے جونیئر بھی ہوتے اور کچھ ادب نواز بھی۔ایک عجیب کشش آپ کے وجود میں محسوس ہوتی اور وہ کشش اکثر دامنِ دل کھینچتی رہتی۔یہی وجہ تھی کہ راقم اکثر رشید قاسمی اور قیوم اثر کے ہمراہ شام کی پسنجر سے بھساول روانہ ہوجاتا۔ آپ جوں ہی ہمیں دیکھتے ایک عجیب سی مسکراہٹ چہرہ پر رینگ جاتی اور بالوں کی لٹ نصف چہرہ کو ڈھانپ لیتی۔کبھی ایسا بھی ہوا کہ ہماری آمد سے پہلے رحیم رضا، ایم رفیق،ایس ایم  انور،شکیل احمد ،سلیم خان،رئیس فیض پوری اورسید ذاکر حسین  میں سے کوئی نہ کوئی وہاں موجود ہوتا۔اس وقت یہ گمان ہوتا جیسے دور دراز سے تشنگان ادب چلے آئے ہیں اور کنواں ہے کہ اپنی علمیت اور تجربہ سے سبھی کو سیراب کیا جارہا ہے۔
 احمد کلیم صاحب نے بچوں کے لئے پیاری پیاری نظمیں تحریر کیں اور پھر انھیں کتابی شکل دوستوں کے اصرار پر دی،نام رکھا ’چندا کے دیس میں‘۔ ساگوان کی چھاؤں میں‘ آپ کے کل ۱۹؍افسانے شامل ہیں جن میں سے چند ’ماہنامہ آج کل‘ میں مسلسل شائع ہوتے رہے مگرآپ اپنے افسانوں سے بالکل ویسے ہی مطمئن ہوتے جیسے ایک مصور اپنی پینٹنگ سے ہوتا ہے۔اپنی کتاب میں آپ نے اظہار تشکر میں تحریر کیا ہے ’’شموئل احمد جنھوں نے میرے افسانوں کو پسند بھی کیا ہے اور تنقید کی تیز دھار سے انھیں حلال کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے ہیں۔متعدد بار یہی کہتے رہے ہیں کہ آپ کی کتاب آجانی چاہیے،سچ تو یہ ہے کہ میں نے اپنی عمر کے آخری پڑاؤ پر بھی کبھی اپنے کو اس کا اہل نہیں پایا تھا،یہی سوچتا رہا تھا کہ میں نے ادب کو ایسا کیا دیا ہے...‘‘یہ چند جملے دل و دیوار پر رقم کرنے کے لائق ہیں۔اتنا سینئر قلم کار،زبان کا جاننے والا،لفظوں کا پارکھ،ایک ایک لفظ کو تحریر میں موتی کی طرح پِرونے والا اوریجنل افسانہ نگار جس کی تخلیقات  بر صغیر کے معتبر رسائل نے شائع کیں، میں ایسی منکسر المزاجی اور ایسی سادہ روی خال خال ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ آپ کی نظر  سوشل میڈیا پر بھی تھی لیکن  ان کی نظر میں وہ  افیون کی گولی کی مانند تھا۔ہر چند کہ وہ اس کی اہمیت سے انکار بھی نہیں کرتے تھے مگر معیار پر اصرار بھی کرتے تھے۔جب کبھی بھساول جانا ہوتا،کسی تقریب میں یا پھر عید کی خریداری کے لیے تو دل میں آپ سے ملاقات کا خیال گیند کی طرح اچھلتا رہتا۔اب سوچتا ہوں بھساول اگر کسی وجہ سے جاناپڑے تو کیا قدم بس اسٹینڈ یا ریلوے اسٹیشن کی جانب اٹھ پائیں گے؟بھساول پہنچ کر کیا آپ سے ملاقات کا جذبہ امڈ نہیں پڑے گا؟کیا ذہن کا پرندہ بار بار اڑ کر آپ کے مکان کا طواف نہیں کرے گا؟ان تمام سوالات کے بعد ایک جواب جو دل کو تسلی دیتا ہے وہ یہی ہے کہ ہر نفس کو بہر حال موت کا مزہ چکھنا ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ اردو کے اس سچّے سپوت کی قبر کو سدا نور سے منوّر رکھنا،ساگوان کی چھاؤں میں کے خالق کو اپنی رحمت کی چھاؤں میں رکھنا ۔(آمین)   n 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK