فن اخبار نویسی مولانا ابوالکلام آزاد مجاہد آزادی

Updated: November 11, 2022, 12:33 PM IST | Agency | Mumbai

مولانا ابوالکلام آزاد مجاہد آزادی  ہونے کے ساتھ قلم کے سپاہی  بھی تھے ۔ اخبار کی اہمیت کا اندازہ انہیں کس قدر تھا  یہ جاننے کے لئے ان کے ایک مضمون کے چند اقتباسات پڑھئے

Maulana Abul Kalam Azad .Picture:INN
مولانا ابوالکلام آزاد ۔ تصویر:آئی این این

اخبار کے فوائد 
ناظرین! کیا اخبار کے سوا دنیا میں کوئی بڑی سے بڑی ایسی دور بین ہے جس سے آپ دنیا کو اپنا منظر بنا سکیں؟ اور کیا اخبار کے سوا کوئی اونچے سے اونچا بلند مقام یا کوئی پہاڑ ہے جس پر بیٹھ کر آپ تمام دنیا کا مظاہرہ کر سکیں؟ نہیں! ہرگز نہیں! نہ دنیا میں کوئی ایسی دوربین ہے نہ کوئی ایسا بلند مقام ہے۔ یہ صرف اخبار ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ملاحظےسے آپ تمام دنیا کو ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ اور جس کے حاصل کرنے سے آپ تمام دنیا کے نظارے حاصل کر سکتے ہیں۔ پچھلے زمانے میں واقفیت اور معلومات حاصل کرنے کا، عجائبات عالم دیکھنے کا، سوائے سفر کے دوسرا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ مگر اس میں علاوہ صرف کثیر کے کہ جس کی وجہ سے غریب اور مفلس شخص اس سے مستفیض نہیں ہوسکتا، محنت، تکلیف اور پریشانی بہت تھی، اور بعض اوقات خود جان کا خطرہ تھا۔ علاوہ بریں اگر ایک شخص متعلقین کی جدائی اور پریشانیوں کا متحمل بھی ہوتا، اور تمام عمر سیاحی بھی اختیار کرتا، جب بھی تمام دنیا کی سیرنہیں کرسکتا تھا لیکن اخبار ایک ایسی چیز ہے کہ گھر بیٹھے بلامحنت و مشقت تمام دنیا کی سیر کرے اور معلومات اور عجائبات عالم کی سیر سے طبیعت کو محظوظ کرے۔ یورپ میں اخبار سلطنت کا ایک جزو اعظم سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ رعیت کے خیالات کی باگ فی الواقع اخبار کے ہاتھ میں ہے۔ پرنس بسمارک کی کیفیت یہ تھی کہ جب کبھی معاملات ملکی میں اسے کوئی خاص طرز اختیار کرنی ہوتی تھی تو اس سے قبل ہی وہ اخبار میں تاکیدی مضامین شائع کرا دیتا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ تمام ملک اس کا ہم زبان ہوکر اسی کا کلمہ پڑھنے لگتا تھا۔ یورپ کے اخباروں کو آج وہ طاقت حاصل ہے کہ جو چاہیں سو کریں، ایک سے دوسرے کی جنگ کرا دیں یا کسی جنگ میں صلح کرا دیں یا ایک کا ملک چھنوا کر دوسرے کو دلوا دیں۔ کسی عہدہ دار کو معزول کرانا اور کسی ادنیٰ شخص کو اعلیٰ عہدے دار بنانا ان اخبار ات کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ 
اخبار ایک قومی ہادی ہے 
اخبار در اصل ایک زندہ ہادی ہے جو ہر قسم کی باتوں میں ہدایت کرتا ہے، بری باتوں سے تنفر دلاتا ہے، اور عمدہ باتوں کی جانب مائل کرتا ہے، کیوں کہ انسان کی طبیعت میں اک ایسی زبردست قوت گمراہ کنندہ موجود ہے کہ راستے کو چھوڑ کر شقاوت کی تنگ و تاریک اور خوفناک و پیچ دار گھاٹیوں تک آنکھ بند کیے بڑھ جاتا ہے۔ اور اس بدبختی کے مقام پر خوش قسمتی کے راستے تلاش کرتا ہے، اورجب تک کوئی خضر صفت رہبر اس کا ہاتھ پکڑ کر منزل مقصود تک نہ پہنچائے، وہ یوں ہی پریشان و سرگرداں رہتا ہے۔  اس لیے قوم اور فرد کو ایک ہادی اور رہبر کی سخت ضرورت ہے اور بے اس کے کوئی بھی صراط مستقیم پر نہیں چل سکتا۔ پس حالت موجود کے اعتبار سے اخبار سے بڑھ کر قوم کا کوئی ہادی اور رہبر نہیں ہے۔ جو اسے سیدھی راہ پر چلانے میں مددگار اور ترقی کا بدل و جان خواستگار ہو۔ 
علامہ سید جمال الدین افغانی المصری اخبار کے فوائد میں یہ لطیف شعر پڑھتے ہیں:
لا سعادت لامۃ لیس لھا سائق=الی الفضائل و لا زاجر عن الرذائل
(یعنی جس قوم میں اچھی باتوں کی جانب ہدایت کرنے والا اور بری باتوں سے منع کرنے والا اخبار نہ ہو اسے نیک بختی اور سعادت نہیں مل سکتی۔)  مسٹر گلیڈاسٹون سابق وزیر اعظم انگلستان اخبار کے متعلق لکھتا ہے کہ پبلک اخبار کی کیوں شاکی ہوتی ہے۔ یہ تمہارے ہی فائدے کی بات ہے، اس کا وجود تمہارے لیے غنیمت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK