Inquilab Logo Happiest Places to Work

نبی کریمؐ کی حیات ِمبارکہ بے مثال قائدانہ قابلیت اور مہارت سے منوّر ہے

Updated: February 14, 2025, 4:51 PM IST | Dr. Nabeel Azmi | Mumbai

ہرشعبے کو احسن طریقے سے سنبھالنا اور اس سے بہترین نتائج حاصل کرنا نبی کریمؐ کے قائدانہ کردار کی ایک اور اعلیٰ خصوصیت تھی، جس کی عملی مثالیں آپؐ کی حیات ِ طیبہ کے ہر ہر پہلو میں اور ہر دَور میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

Hazrat Sallallahu Alaihi Wasallam himself demonstrated exemplary discipline and urged Muslims to spend their time on positive and constructive activities. Photo: INN
حضوؐر مثالی ڈسپلن کا عملی مظاہرہ خود بھی فرماتے تھے اور مسلمانوں کو بھی تاکید کرتے تھے کہ وہ اپنے وقت کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں پر صرف کریں۔ تصویر: آئی این این

’قابلیت‘ وہ خوبی ہے، جو ایک لیڈر کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ عوام میں اپنا اعتبار قائم کرسکے۔ منظم انداز میں مکمل توجہ کے ساتھ بروقت اپنے فرائض انجام دینا قابلیت کی معراج ہے۔ ایک قابل لیڈر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دُور اندیش ہو، عمدہ حکمت ِ عملی تیار کرسکتا ہو اور پیشہ ورانہ انداز میں مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ 
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ایسے واقعات سے جگمگاتی ہے، جن کی بدولت زندگی کے ہر میدان میں آپؐ کی مہارت اُبھر کر سامنے آتی ہے۔ مثال کے طور پر لوگوں کو منظم کرنا، سفارت کاری، امن معاہدے، عسکری مہارت، اُمت کی تعلیم و تربیت، مذاکرات کا طریقہ، فن ِ تعمیر، شہسواری، تجارت، اندازِ گفتگو، گھریلو کام کاج جیسے کپڑوں کی سلائی اور جوتوں کی مرمت وغیرہ۔ 
نبوت سے پہلے بھی لوگ آپؐ کی معاملہ فہمی اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کے معترف تھے۔ آپؐ تقریباً پینتیس برس کے تھے جب قریشِ مکہ نے کعبہ کی تزئین و آرائش کا فیصلہ کیا، جس کے لئے حجرِاسودکو اس کی جگہ سے ہٹانے کی ضرورت پیش آئی۔ جب اسے واپس لگانے کا وقت آیا تو مختلف قبیلوں میں اختلاف پیداہوا کہ یہ سعادت کس کے حصے میں آئیگی؟ یہ جھگڑا چار دن تک جاری رہا اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ خوں ریزی کا اندیشہ پیدا ہوگیا۔ 
اس جھگڑے کو نمٹانے کے لئے پانچویں دن وہاں پر موجود بزرگ ترین سردار ابواُمیہ ابن مغیرہ نے تجویز دی کہ اگلے دن جو بھی شخص سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہوگا، اسی سے اس معاملے کا فیصلہ کروایا جائے گا۔ اگلے دن سب سے پہلے داخل ہونے والے انسان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے، جنہیں دیکھ کر سب پکار اُٹھے کہ ’امین‘ آگیا۔ آپؐ نے اپنی چادر زمین پر بچھائی، حجرِاسود کو اس پر رکھا اور تمام سرداروں سے کہا کہ وہ اس چادر کا ایک ایک کونا تھام کر اسے اُٹھا کرلے چلیں۔ اس کے بعد آپؐ نے اپنے ہاتھوں سے حجرِاسود کو اُٹھا کر اس کی جگہ پر نصب کردیا۔ جنگ کی جانب بڑھتی ہوئی صورتِ حال کو ایسی عمدگی سے حل کرنا، جس سے فریقین کا تنازع ختم ہوجائے اور وہ مطمئن ہوں، آپؐ کی دانائی اور معاملہ فہمی کا روشن ثبوت ہے۔ 
یہ آپؐ کی ایمان داری اور لوگوں کا آپؐ پر اعتبار ہی تھا جس کی بنیاد پر حضرت خدیجہؓ نے آپؐ کو اپنے کاروبار پر نگراں مقرر کیا، اور آپؐ کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مہارت سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ کچھ ہی عرصے بعد آپؐ کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔ رفتہ رفتہ آپؐ ایک کامیاب تاجر سے ایک پیغمبر بنائےگئے اور بالآخر ایک ایسے بااثر راہ نما بن کر دُنیا میں اُبھرے جنہیں ماننے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا گیا۔ مختلف ریاستی اُمور کی انجام دہی کیلئے موزوں ترین افراد کو نامزد کرنے کا معاملہ ہو یا ریاست ِ مدینہ کے پہلے آئین کی تشکیل، ریاستی اُمور میں آپؐ کی قابلیت و معاملہ فہمی اور تحمل و دُور اندیشی بے نظیر تھی۔ اسی قائدانہ مہارت کے نتیجے میں مدینہ میں ایسا منفرد معاشرہ وجود میں آیا، جہاں پر رنگارنگ ثقافتوں اور الگ الگ مذاہب کے ماننے والے لوگ رواداری اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگے۔ 
اسلام کے پہلے آئین کی نمایاں خصوصیات میں مساوات، عدل و انصاف، پس ماندہ طبقے کی مدد اور تحفظ، مذہبی رواداری، قتل و غارت کی ممانعت اور نبی پاکؐ کی اجازت کے بغیر جنگ کا اعلان کرنے کی ممانعت شامل ہیں۔ اسی آئین میں خارجہ پالیسی اور اس جیسے دیگر اہم ریاستی اُمور انجام دینے کیلئے باہمی مشاورت کا نظام قائم کیا گیا، جس میں مسلمان اور غیرمسلم بشمول یہودی قبیلے شامل تھے۔ آئین میں واضح کیا گیا کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے ساتھ ایک جیسا رویہ اختیار کیا جائیگا اور کسی یہودی کو محض اس کے مذہبی عقائد کی بناپر بدسلوکی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ یہ ایک ایسے معاشرے کی بنیاد تھی، جس میں الگ الگ قومیں اور مذاہب ہم آہنگی کے ساتھ پُرامن زندگی گزار سکیں اور اچھے اور بُرے وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ 
مکہ میں مسلمانوں کی قلیل تعداد اور انہیں پیش آنے والے خطرات اور تکالیف کے برعکس مدینہ میں حالات کافی مختلف تھے۔ مسلمان تعداد میں زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی اور عسکری لحاظ سے مضبوط تھے اور ان کی طاقت میں روز بہ روز اضافہ ہورہا تھا، لیکن ایک نئی ریاست کی تشکیل اوراس کا انتظام بخوبی چلانا بذاتِ خود ایک بڑا چیلنج تھا۔ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خائف ہوکر اکثر دشمن قبیلے ان پر حملہ آور ہونے اور ان کا نام و نشان مٹادینے کے درپے تھے۔ بدر، اُحد اور خندق کے غزوات ان کی ایسی ہی چند کوششیں تھیں جن میں آنحضورؐ کی عسکری مہارت، عزم اور قائدانہ صلاحیت کی بناپر، محدود وسائل کے باوجود مسلمانوں کو کامیابی نصیب ہوئی۔ 
مدینہ میں گزرے آخری برسوں کے دوران میں مذاکرات کے حوالے سے آپؐ کی قیادت میں مسلمانوں کی پوزیشن مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی۔ اور پھر صلح حدیبیہ کا مرحلہ وہ موقع تھا جب آپؐ نے اپنی اس مہارت کا دانشمندانہ استعمال کرتے ہوئے کمالِ حکمت کے ساتھ صلح نامے کی شرائط طے کیں، جس کے نتیجے میں بالآخر کسی قسم کی خوں ریزی کے بغیر مکہ فتح کرلیا گیا۔ آپؐ کی قائدانہ مہارت اور اعلیٰ ظرفی کا نتیجہ عام معافی کی صورت میں سامنے آیا اور وہی لوگ جو کبھی آپؐ کی جان کے دشمن ہوا کرتے تھے، نہ صرف آپؐ کے زیراقتدار امن اور آزادی سے زندگیاں گزارنے لگے بلکہ آنے والے دنوں میں اسلام کی عظیم الشان قوت بن کر اُبھرے۔ 
وقت کا بہترین استعمال (ٹائم مینجمنٹ) ایک ایسی مہارت ہے، جس سے انسان کے پیشہ ورانہ رویے اور قابلیت کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ حضوؐر مثالی ڈسپلن کا عملی مظاہرہ خود بھی فرماتے تھے اور مسلمانوں کو بھی تاکید کرتے تھے کہ وہ اپنے وقت کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں پر صرف کریں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ وقت ایک دولت ہے، لیکن آپؐ کی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو وقت خود زندگی ہے، اس لئے وقت ضائع کرنے کا مطلب زندگی کو ضائع کرنا ہے۔ وقت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ روزانہ کی پانچ فرض نمازوں کے اوقات مخصوص ہیں اور مسلمانوں کو تاکیدکی گئی ہے کہ وہ ہر نماز اپنے مقررہ وقت کے اندر اندر پڑھ لیں۔ گھڑی یا الارم کلاک ایجاد ہونے سے پہلے کے اس زمانے میں آپؐ نے مسلمانوں کو سورج کے ذریعے نماز کے وقت کا تعین کرنا سکھایا، جب کہ آج مختلف آلات اور ایجادات کے باوجود ٹائم مینجمنٹ بہت سوں کے لئے ایک مشکل مرحلہ ہے۔ اسی طرح آپؐ نے فارغ وقت کو فضول گفتگو اور گپ شپ میں برباد کرنے کی بھی حوصلہ شکنی کی اور اس کے بامقصد استعمال پر زور دیا۔ 
حضورؐ کے جانشینوں کی قابلیت کا معیار
صحیح مسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ مضبوط ایمان رکھنے والا، کمزور ایمان رکھنے والے سے بہتر ہے۔ یہ اصول انسانی زندگی کے جسمانی، ذہنی اور پیشہ ورانہ پہلوئوں پر لاگو ہوتا ہے۔ قیادت کیلئے مضبوط اُمیدوار درحقیقت وہی ہوتا ہے جو ہرلحاظ سے اس کے لائق ہو۔ دُنیا میں کئی مضبوط اور قابل راہ نما آئے، لیکن ان میں ایسے افراد بہت کم تھے جنھوں نے اپنے جانشین تیار کئے ہوں۔ حالانکہ ایک طاقتور اور لائق لیڈر کا فرض ہے کہ وہ قابل اور باصلاحیت افراد کی اس طرح تربیت کرے کہ وہ اس کے جانے کے بعد کامیابی سے نظام چلا سکیں۔ اس لحاظ سے آپؐ ایک حقیقی مربی یعنی سرپرست تھے، جنہوں نے ہر زاویے سے صحابہ کرامؓ کے اخلاق اور کردار کی تربیت کی اور انہیں ذمہ داریاں سونپتے وقت ان کی شخصیت اور اہلیت کو مدنظر رکھا۔ آج ہیومن ریسورس سے تعلق رکھنے والے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ فرد کی کامیابی کے لئے فنی مہارت کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیت کا ہونا بھی لازم ہے۔ لیڈرشپ محض ایک اندازِ فکر نہیں بلکہ ایک صلاحیت ہے، جس کی جامع مثال آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ پاک ہے۔ 
جب کبھی آپؐ کسی وجہ سے نماز کی امامت کروانے سے قاصر ہوتے تو یہ ذمہ داری حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حوالے کر دیتے تھے۔ پہلے امامت اور بعدازاں پہلے خلیفہ کے طور پر حضرت ابوبکرؓ کا انتخاب اسی لئے کیا گیا کیوں کہ ان کی قابلیت اور اہلیت اس منصب کے لئے موزوں ترین تھی۔ بطور سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ کئی معرکوں میں اپنی عسکری مہارت منوا چکے تھے، جس کی وجہ سے بہت سی جنگی مہمات ان کے سپرد کی گئیں حالانکہ اس پر چند بزرگ صحابہؓ کو اعتراض بھی ہوا۔ اسی طرح حضرت بلال حبشیؓ کی سُریلی آواز کی بنا پر انہیں اسلام کا پہلا مؤذن بننے کا شرف حاصل ہوا۔ پُراثراندازِ گفتگو اور سفارت کاری میں مہارت رکھنے والے حضرت جعفرؓ بن ابی طالب کو نمائندہ بناکر حبشہ بھیجا گیا۔ حضرت مصعب ؓ بن عمیر میں قدرتی طور پر معلّمانہ خصوصیات موجود تھیں، جس کی وجہ سے انہیں مدینہ بھیج دیا گیا تاکہ وہ وہاں پر لوگوں کو تعلیم دے سکیں۔ حضرت معاذؓ بن جبل میں معلّمانہ صلاحیت کے ساتھ ساتھ اجتہاد اور علمی بصیرت جیسی خوبیاں پائی جاتی تھیں، اس لئے انہیں یمن کی طرف روانہ کردیا گیا تاکہ وہ وہاں پر دین اسلام کو پروان چڑھا سکیں۔ 
یہ فہرست طویل ہے مگر آگے بڑھنے سے پہلے دو ایک مثالیں مزید ملاحظہ فرمالیں۔ حضرت سلمان فارسیؓ کی بہترین عسکری حکمت عملی کی وجہ سے جنگی معاملات میں ان سے مشورہ کیا جاتا تھا۔ حضرت حسانؓ بن ثابت عمدہ شاعری کیا کرتے تھے اور انہیں منبر رسولؐ سے بھی اپنے اشعار سنانے کا شرف حاصل ہوا۔ 
قابلیت کی بنیاد پر لوگوں کا انتخاب آپؐ کی قائدانہ خصوصیات کا ایک اہم پہلو ہے اور اس کی کئی مثالیں آپؐ کی زندگی میں موجود ہیں۔ اس ضمن میں آپؐ کی حضرت ابوذر غفاریؓ کو دی جانے والی ایک مشہور نصیحت ہے، جب اُنہوں نے آپؐ سے کوئی عہدہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا تو آپؐ نے ان کے کاندھے پر تھپکی دیتے ہوئے فرمایا: ’’اے ابوذرؓ! تم کمزور ہو اور یہ عہدہ عوام کی امانت ہے۔ جو انسان اس ذمہ داری اور اس سے وابستہ فرائض احسن طریقے سے پورے نہیں کرپائے گا اسے آخرت میں ندامت اُٹھانا پڑے گی۔ ‘‘ (مسلم) آپؐ کی ان باتوں کا مقصد حضرت ابوذرؓ کی دل آزاری نہیں تھا بلکہ یہ سمجھانا تھا کہ لیڈرشپ یا قیادت کے لئے صرف خلوص اور نیک نیتی کافی نہیں بلکہ اہلیت بھی انتہائی ضروری ہے۔ 
خلفائے راشدین بھی باصلاحیت لوگوں کی قدروقیمت سے بخوبی آگاہ تھے۔ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اپنی کوئی خواہش بیان کرو۔ ان کے ایک ساتھی نے کہا: میری خواہش ہے کہ یہ تمام جگہ سونے سے بھر جائے تاکہ میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر سکوں۔ 
ایک اور ساتھی بولے: میں چاہتا ہوں کہ یہ جگہ ہیرے جواہرات، موتیوں اور زیورات سے بھر جائے تاکہ میں انہیں اللہ کی راہ میں خیرات کرسکوں۔ 
اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: میری خواہش ہے کہ یہ جگہ ابوعبیدہؓ بن الجراح، معاذؓ بن جبل، سالمؓ اور حذیفہؓ بن یمان جیسے لوگوں سے بھر جائے۔ 
 ہرشعبے کو احسن طریقے سے سنبھالنا اور اس سے بہترین نتائج حاصل کرنا نبی کریمؐ کے قائدانہ کردار کی ایک اور اعلیٰ خصوصیت تھی، جس کی عملی مثالیں آپؐ کی زندگی کے ہر ہر پہلو میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ 
(نبیل الاعظمی کی کتاب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم: گیارہ قائدانہ اوصاف کا باب، انگریزی سے ترجمہ: رافعہ تحسین۔ ترجمان القرآن)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK