تہذیبی ارتداد، افراد و اقوام کو فطری و اعتقادی ارتداد کی طرف لے جاتا ہے

Updated: November 18, 2022, 1:07 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

بیشتر مسلمان نہیں جانتے کہ ارتداد کیا ہے اور کس طرح اعتقادی ارتداد سے پہلے، تہذیبی ارتداد زمین ہموار کرتا ہے۔ یہ مضمون انہی نکات کو واضح کرتا ہے۔

 Cultural apostasy creeps in and creeps in imperceptibly .Picture:INN
تہذیبی ارتداد دبے پاؤں آتا ہے اورغیر محسوس طریقہ پر داخل ہوتا ہے۔ تصویر:آئی این این

ایمان کچھ حقیقتوں کو ماننے کا نام ہے، جن میں سب سے اہم اللہ پر، رسول پر ، اللہ کی کتاب پر اور آخرت پر ایمان لانا ہے لیکن رسولؐ اللہ  نے صرف ایمانیات ہی پر زور نہیں دیا بلکہ عبادات، معاملات اور زندگی کے تمام شعبوں میں اپنی ہدایات سے سر فراز فرمایا اورپوری قوت اور تاکید کے ساتھ اُمت ِمسلمہ کو ان تعلیمات پر کار بند رہنے کی تلقین فرمائی؛ کیوں کہ کسی قوم کے لئے اپنے تشخص کو بر قرار رکھنا صرف عقیدہ کے ذریعہ ممکن نہیں؛ بلکہ تہذیب و معاشرت کو بھی اس میں بڑا دخل ہے۔ ہندوستان میں کتنی ہی قومیں ہیں، جو آج ہندو قوم کا حصہ بن چکی ہیں، وہ اعتقادی اور نظریاتی اعتبار سے اپنا الگ وجود رکھتی ہیں؛ لیکن انھوں نے دوسری قوموں سے سماجی اور تہذیبی فاصلہ قائم نہیں رکھا ، رہن سہن، لباس و پوشاک، خور د و نوش، شادی بیاہ ، خوشی اور غم کی تقریبات وغیرہ میں انھوں نے اپنا رنگ برقرار نہیں رکھا، اس کانتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ انھوںنے اپنے تشخص کو کھودیا ۔ اس وقت پوری دُنیا میں اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کو ان کے مذہبی تشخص سے محروم کر دیا جائے کیوں کہ جب کوئی قوم اپنی سماجی انفرادیت سے محروم ہو جاتی ہے تو وہ آہستہ آہستہ دین و مذہب ہی سے اپنا رشتہ توڑ لیتی ہے اور اگر وہ کسی دوسرے مذہب کے دائرہ میں داخل نہ ہو، تب بھی الحاد و انکار کا راستہ اختیار کر لیتی ہے، یا کم سے کم وہ مذہب کے بارے میں غیر سنجیدہ رویہ اپنا  لیتی ہے۔ غیر سنجیدہ رویہ سے مراد یہ ہے کہ مذہب سے اس کی کوئی ذہنی اور فکری وابستگی نہیں ہوتی؛ البتہ وہ اسے ایک خاندانی روایت سمجھ کر ڈھوتی رہتی ہے، مذہبی اقدار پر اس کا کوئی یقین نہیں ہوتا؛ البتہ خاندانی روایت کے تحت خاص خاص مذہبی تقریبات اور تہواروں میں اس کی شرکت ہو جاتی ہے اور گاہے گاہے کچھ عبادت کی توفیق میسر آجاتی ہے؛ لیکن حلال و  حرام ، معاملات ، کسب ِمعاش اور سماجی زندگی میں مذہب کے لئے کوئی خانہ نہیں ہوتا، اسی کیفیت کو میں نے ’’تہذیبی ارتداد‘‘ سے تعبیر کیا ہے ۔
یہ ارتداد دبے پاؤں آتا ہے، غیر محسوس طریقہ پر داخل ہوتا ہے اور ایسا میٹھا زہر بن کر حلق سے اتر تا ہے کہ زہر کھا کر بھی انسان تحسین وآفریں کے کلمات کہہ اُٹھتا ہے، یہ ارتداد نہ سوئے ہوؤں کو جگاتا ہے، نہ غافلوں کو متوجہ کرتا ہے، نہ فکر مند دِلوں میں تلاطم پیدا کرتا ہے، نہ قلب وذہن کو جھنجھوڑتا ہے اور نہ اس کی وجہ سے سماج میں کوئی ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ یہ اس بیماری کی طرح ہے، جو بظاہر ہلکی ہو لیکن انسان کو بتدریج موت کی طرف لے جائے اور یہ ایسا نشہ ہے کہ مقتول خود قتل کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے، اس لئے اس ارتداد کو خوب سمجھنے، اس کے اسباب پر نظر رکھنے اور اس کے نتائج و عواقب پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس وقت پوری دنیا جو بنیادی طور پر یہودی دماغ اور یہودی منصوبہ بندی کی آلۂ کار  بنی ہوئی ہے اور اس کے اشارۂ چشم و ابرو پر رقصاں ہے، اس بات کے لئے کوشاں ہے کہ اگر مسلمانوں کو کھلے عام مرتد نہیں کیا جاسکتا، تو ان پر ایسی زبر دست تمدنی یلغار کردی جائے کہ وہ خوشی خوشی تہذیبی ارتداد کو قبول کر لیں۔ اس مقصد کے لئے اتنے طاقتور حربے استعمال کئے جار ہے ہیں کہ بظاہر اس سے زیادہ دور رس اور قوی و مؤثر کوئی اور ذریعہ نہیں۔ ٹی وی نے اس رفتار کو بہت تیز کر دیا ہے اور ڈش انٹینا کی وجہ سے مسلم ملکوں اور مشرقی ملکوں میں ایسے فحش پروگرام کا ایک طوفان سا آگیا ہے کہ جن کا اسلام اور مسلم سماج میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، اب انٹر نیٹ نے اس تہذیبی یلغار کو مزید طاقتور بنا دیا ہے اور ایک ایسی چیز جو بہترین تعمیری اورتعلیمی مقاصد کے لئے استعمال ہو سکتی تھی، انتہائی تخریبی اور غیر اخلاقی مہم جوئی کا آلۂ کار بنی ہوئی ہے۔ نئی معاشی اصلاحات کا عمل پوری دنیا میںجاری ہوا اَور ’’عالمیانے ‘‘ نے پر پُرزے پھیلائے تو  اس کے نتیجہ میں مغربی صحافت، مغربی لٹریچر اور مغربی کمپنیوں کے وساطت سے مخرب اخلاق غذائی اور غیر غذائی اشیاء کی آمد کا ایک سیل بلا خیز جاری و ساری ہوگیا۔اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ مغربی ممالک نے عرب اور اسلامی ممالک اور مختلف علاقوں میں بسنے والے تارکین وطن مسلمانوں کے لئے فراخ دلی کے ساتھ اپنا دامن دل کھول رکھا ہے، انہیں شہریت دی جاتی ہے، انہیں ملازمت اور مزدوری کے مواقع ملتے ہیں اور انہیں اپنے ملکوں سے بڑھ کر شہری حقوق دے دیئے جاتے ہیں۔ تارکین وطن خوش ہیں کہ ا نہیں پھلنے  پھولنے اور آگے بڑھنے کے بھر پور مواقع ہاتھ آ رہے ہیں ؛ لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ ان ممالک کے ہاتھوں اپنی اگلی نسلوں کا سودا کر رہے ہیں  چنانچہ لاکھوں عرب اور فلسطینی جو پچاس سال پہلے امریکہ گئے، اب ان میں اپنے مسلمان ہونے کی پہچان بھی باقی نہیں رہی، مذہبی شعور رخصت ہوا، رہن سہن بدل گیا، زندگی کے طور و طریق تبدیل ہو گئے، یہاں تک کہ ان کے نام میں بھی مسلمانیت کی کوئی بو باقی نہیں رہ گئی؛ حالاں کہ ان کے آباء و اجداد راسخ العقیدہ مسلمان اور عرب تہذیب کے علمبردار بن کر یہاں آئے تھے۔ اگر آج ان گزری ہوئی روحوں کو دوسری زندگی دے دی جائے تو شاید ہی وہ خود اپنی نسل اور اپنی اولاد کو پہچان سکیں۔ یہ ہے اس تہذیبی ارتداد کا اثر، جو بتدریج افراد و اقوام کو فطری اور اعتقادی ارتداد کی طرف لے جاتا ہے !ایسے ہی پس منظر میں رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اورمماثلت اختیار کی  وہ ان ہی میں سے ہو گیا۔ اس روایت کو امام ابو داؤد نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور امام طبرانی ؒنے حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ سے روایت کیا ہے اور علامہ سیوطیؒ نے اس حدیث کو ’’ حسن ‘‘ یعنی مقبول قرار دیا ہے، ( الجامع الصغیر، حدیث نمبر : ۸۵۹۳)۔ رسول اللہ  کے اس ارشاد میں عقیدہ و ایمان میں غیر مسلموں سے مماثلت مراد نہیں ہے؛ کیو ںکہ جو شخص عقیدہ کے اعتبار سے غیر اسلامی فکر اختیار کرلے، وہ تو پہلے ہی سے مسلمان نہیں ہے، اس کے غیر مسلموں سے مشابہت اختیار کرنے کے کیا معنی؟ لہٰذا اس حدیث میں عملی اور سماجی زندگی میں غیر مسلموں کے تشبہ (مشابہت) سے منع فرمایا گیا ہے اور مختلف مسائل میں حضورؐ  کی تشریح و توضیح نے اس نکتہ کو مزید واضح کیا ہے، مثلاً آپؐ نے سورج نکلنے، ڈوبنے اور نصف آسمان پر ہونے کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، اس کا سبب یہی ہے کہ یہی اوقات عام طور پر مشرک اور آفتاب پرست قوموں کی عبادت کے رہے ہیں، جو قومیں سورج کی پرستار ہیں، وہ ان ہی اوقات میں سورج کی پوجا کرتی ہیں  اس لئے ان اوقات میں مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے منع فرمایا گیا۔ روزہ میں حکم دیا گیا کہ افطار جلدی کیا جائے، افطار میں تاخیر نہ کی جائے ؛ کیوںکہ افطار میں تاخیر اہل کتاب کا طریقہ ہے، یومِ عاشوراء کے ساتھ مزید ایک روزہ رکھنے کا حکم ہوا ؛ کیونکہ اس دن یہود بھی روزہ رکھا کرتے تھے؛ تاکہ مسلمان اپنی عبادت میں ان سے ممتاز رہیں ، حج میں بہت سے ایسے افعال جن کو مشرکین بہت اہمیت دیتے تھے، اسلام نے ان کو ختم کیا یا ان میں تبدیلی پیدا کی، پھر یہی ہدایات آپؐ نے وضع قطع اور لباس و پوشاک کے بارے میں بھی دیں، مجوسی داڑھی منڈایا کرتے تھے، آپؐ نے اس سے منع فرمایا، اہل ایران اظہار فخر کیلئے ٹخنوں سے نیچے کپڑے پہنتے تھے، آپؐ نے اس پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا، اہل مکہ سر میں مانگ بھی نکالا کرتے تھے؛ چنانچہ مکی زندگی میں آپؐ نے سیدھے بال رکھنے کو پسند فرمایا تاکہ مسلمان ان سے ممتاز رہیں،  مدینہ میں یہود سیدھے بال رکھتے تھے ، تو وہاں آپؐ نے مانگ نکالنے کو پسند فرمایا ۔
پھر جب تمام عرب نے اسلام قبول کر لیا، تو آپؐ نے دونوں طرح بال رکھنے کی اجازت مرحمت فرمادی، اسی طرح عرب یا تو صرف ٹوپی پہنتے تھے یا صرف عمامہ باندھتے تھے، رسولؐ اللہ نے صحابہ کو ابتداء ً ہدایت دی تھی کہ وہ ٹوپی اور عمامہ دونوں کا استعمال کریں تاکہ ان کے اور مشرکین کے درمیان امتیاز باقی رہے، بعد کو جب اہل عرب ایمان لے آئے، تو آپؐ نے صرف ٹوپی یاصرف عمامہ کے استعمال کی بھی اجازت مرحمت فرمائی ۔
دین کے اس  مزاج کو، کہ مسلمانوں کو قومی اعتبار سے دوسری اقوام سے ممتاز اور مشخص رہنا چاہئے، فقہاء نے بھی اپنے اجتہاد و استنباط اور قانون شرع کی تشریح و توضیح میں ہمیشہ ملحوظ رکھا ہے اور لباس و پوشاک، خور د و نوش، عبادات، یہاں تک کہ عبادت گاہوں کے طرزِ تعمیر وغیرہ ہرمرحلہ پر ایک بنیادی اُصول کی حیثیت سے اس بات کو پیش نظر رکھا ہے کہ مسلمان ایک امتیازی شان کے ساتھ نیز اپنے دین و مذہب اور تہذیب و تمدن میں دوسری قوموں سے ممتاز اور مشخص رہیں؛ کیونکہ جب کوئی قوم اپنی تہذیب سے محروم ہوجاتی ہے اور تمدن وثقافت کے میدان میں در یوزہ گری پر اتر آتی ہے تو  اپنے فکر و عقیدہ سے ہی ہاتھ دھونے لگتی ہے ۔ ہندوستان میں اس وقت سنگھ پریوار کی جانب سے اس بات کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمان نماز پڑھیں، مسجدوں کو جائیں، عید بقرعید وغیرہ کر لیا کریں لیکن اسلامی تہذیب کو خیر باد کہہ دیں،  اس کے لئے بظاہر معمولی؛ لیکن نتائج کے اعتبار سے دور رس اقدامات کئے جارہے ہیں، نصاب تعلیم میں تبدیلی لائی جا رہی ہے، نصاب سے مسلم دورِ حکومت کو نکالا جارہا ہے، ہندو ازم کو ایک نظریہ و عقیدہ کے بجائے قومی ثقافت کے روپ میں پیش کیا جارہا ہے، اسکولوں میں دیویوں، دیوتاؤں کی مورتیاں رکھی جاتی ہیں، ہندو مذہبی تقریبات میں مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے اور انہیں شریک کیا جاتا ہے اور مسلم نوجوان دیوالی اور ہولی کی  سماجی اہمیت کو پیش نظر رکھنے اور اسی تک محدود رہنے کے بجائے مذہبی اُمور میں بھی شریک ہو رہے ہیں، کئی علاقوں میں مسلمان عورتیں ہندوانہ رسم و رواج کے مطابق سِندور لگاتی، یا کالی پوت کے ہار پہنتی ہیں، بین مذہب شادی بیاہ کا رواج بھی بڑھ رہا ہے،  ٹی وی نشریات کا ہندو کرن کیا جارہا ہے، ہندو دیوتاؤں اور فرمانرواؤں کو قومی ہیرو کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو ہمارے معاشرہ  میں دبے پاؤں در آرہی ہیں، آج ہم ان کی آہٹ سننے سے قاصر ہیں لیکن اگر حالات کو محسوس نہیں کیا گیا تو مستقبل میں اس سے ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہے، اس لئے تہذیبی ارتداد کی طرف بڑھتے ہوئے قدم کا پوری قوت کے ساتھ روکا جانا   ضروری ہے۔ یہ محض سیاسی و ثقافتی مسئلہ نہیں؛ بلکہ اپنے دور رس اثرات کے اعتبار سے ہماری ملی بقا اور دینی تحفظ کا مسئلہ ہے۔ اس کی فکر نہیں کی گئی تو پچھتانے کا شعور بھی باقی نہیں رہے گا!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK