اتنا مزاح نہ ہو کہ دل ہی مردہ ہوجائے

Updated: August 05, 2022, 1:27 PM IST | Mujahid Nadvi | Mumbai

ہنسی وہ شے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے صرف انسانوں کے لئے خاص تحفہ بنایا ہے۔ ورنہ دیگر مخلوقات جانور، پرندے اور کیڑے مکوڑے وغیرہ  ہنسنے کی نعمت سے محروم ہیں۔

It is mentioned in the blessed hadith that too much laughter makes the heart dead.Picture:INN
حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کردیتی ہے۔ تصویر:آئی این این

ہنسی وہ شے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے صرف انسانوں کے لئے خاص تحفہ بنایا ہے۔ ورنہ دیگر مخلوقات جانور، پرندے اور کیڑے مکوڑے وغیرہ  ہنسنے کی نعمت سے محروم ہیں۔ چونکہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عبادتوں میں بھی غلو اور حدیں پار کرنے کو قبول نہیں کیا تو کیونکر ہنسی مذاق میں حدیں پارکرنے کی اجازت دے سکتا ہے! اسلامی تعلیمات میں ہمیں جہاں ایک طرف خوش و خرم رہنے اور مسکرانے کی تعلیم ملتی ہے، وہیں اس بات کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ زندگی کو قہقہوں کی بے ہنگم گونج بنا کر نہ رکھ دیا جائے۔ 
کس نے ہمیں ہنسایا؟
 سورۃ النجم، آیت ۴۳؍میں اللہ عزوجل نے ارشادفرمایا: ’’وہی (اللہ ہے جو) ہنساتا ہے اور رُلاتا ہے۔‘‘ اس آیت میں ایک طرف اللہ عزوجل نے انسان کو ہنسنے کی توفیق دینے کی نسبت اپنی جانب کی ہے تو دوسری جانب انسان کو رلانے کا تذکرہ کرکے اعتدال کی را ہ کی جانب اشارہ بھی کردیا جو اسلامی تعلیمات کا سب سے اہم خاصہ ہے۔ دراصل اسلام انسانی زندگی کو اک خشک اور اداس رنگ میں نہیں رنگنا چاہتا لیکن یہ بھی حق ہے کہ اسلام انسان کو صرف ہنسی مذاق کا رسیا نہیں بنانا چاہتا بلکہ وہ ان دونوں کے درمیان ایک معتدل راہ کی تعلیم دیتا ہے کہ ہماری زندگی میں سنجیدگی کا عنصر غالب رہے البتہ رہبانیت اور دنیا بیزاری نہ ہو۔ 
اسوۂ رسول اکرم ﷺ
 ہادیٔ انسانیت رسول اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ جس میں آپ ﷺ نے اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ مزاح فرمایا۔ لیکن آپ ﷺ کے مذاق میں بھی ایک سنجیدگی تھی، ایک متانت تھی۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی کی دل آزاری نہ تھی۔ حضرت ابو طلحہؓ کے ایک بیٹے ابو عمیر تھے جونہایت کمسن تھے۔ ان کے پاس ایک نُغَیر یعنی پرندے کا بچہ تھا، جو مرگیا تھا۔ آپ ﷺ جب ان کے گھر جاتے تو اس بچے سے از راہِ مزاح فرماتے: اے ابو عمیر! تمہارے نغیر کو کیا ہوگیا؟(بخاری و مسلم)۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک ضعیفہ نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ آپؐ میرے لئے جنت کی دعا فرمادیں۔ آپؐ نے فرمایا: بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔ وہ پریشان ہوکر رونے لگی، تو  آپؐ نے فرمایا: تم نے قرآن پاک میں نہیں پڑھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو جوان کرکے داخل کریں گے۔ اس پر وہ بڑھیا خوش ہو گئی۔ ایسی مثالیں سیرت  النبی ﷺ میں چیدہ چیدہ ہی نظر آئیں گی۔  روایات میں واضح طور پر یہ آیا ہے جب تک آپ ﷺ اس دُنیا میں موجود رہے، آپؐ نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا، مسکراہٹ ہی آپ ﷺ کی ہنسی تھی۔ 
زیادہ ہنسی دل کی مردگی
 جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا کہ اسلام ہنسی اور مذاق کی ایک دائرے اور ایک حد میں اجازت دیتا ہے لیکن اس میں غلو اور اس میں زیادتی کو انسانی دل کے لئے موت قراردیتا ہے۔ حضور ﷺ نے ایک صحابی کو وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’زیادہ مت ہنساکرو، زیادہ ہنسی دل کو مردہ کرتی ہے ۔‘‘ (ترمذی) الطبقات الصغریٰ کے مصنف امام مُناویؒ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں: یعنی ہنسی مذاق دل کو اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے تو اس کی حالت مردے جیسی ہوجاتی ہے کہ نہ وہ کسی چیز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، اور نہ کسی نقصاندہ چیز سے خود کی حفاظت کرسکتا ہے۔ اس لئے   بلا وجہ کے ہنسی مذاق سے خود کو بچانا ضروری ہے۔ عربی زبان کی ایک کہاوت میں ہنسی مذاق اور دل لگی کو کھانے میں نمک سے تشبیہ دی گئی ہے کہ نمک کے بغیر کھانے میں ذائقہ نہیں آئے گا، لیکن اس کی مقدار نہایت کم ہونی چاہئے۔ بس یہی حال ہنسی کا بھی ہے۔ 
دوسروں پر ہنسنے کا نقصان
 ہنسی اور مذاق میں اکثر انسان دوسروں کی دل آزاری پر اتر آتا ہے یا ددوسروں کا دل دکھا کر ہی وہ قہقہوں سے محظوظ ہوتا ہے۔  اسلام نے اسے  نہایت سنگین جرم مانا ہے اور نہایت سختی کے ساتھ منع کیا  ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشادفرمایا: ’’اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کی ہنسی نہ اڑائے، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کی ہنسی کریں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہترہوں۔‘‘ (سورۃ الحجرات:۱۱) آج کل ہماری ہنسی اور مزاح کا سارادارومدار اسی بات پر ہے کہ ہم کس طرح دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کس طرح ان پر طنز کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تو اس طرح کا طوفانِ بدتمیزی عروج پر ہوتا ہے جس میں ہم بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ ہمیں  آپﷺ  کے اس ارشاد مبارک کو یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے مسلمان بھائی کی کسی مصیبت اور مشکل پر خوشی کا اظہار مت کرو، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی اس پر رحم کرے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے۔ (ترمذی) 
انسانی معاشرے پر اس لعنت کا اثر
 قرآن وحدیث کی تعلیمات سے دوری  کے جو نقصانات ہیں  ان میں انسانی دلوں کی مردگی اور بے حسی بھی ہے۔ آج معاشرے کے  زوال کا یہ عالم ہے کہ کسی حادثہ کا شکار، درد سے تڑپتے، مدد کیلئے پکارتے یہاں تک کہ مرتے ہوئے لوگوں کی  مدد کے لئے دوڑ پڑنے کے بجائے لوگ ویڈیو بنانے پر توجہ مرکوز کردیتے ہیں۔ اس لئے کہ دوسروں پر ہنستے ہنستے اب ہمارے دل مردہ ہوچکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بے لگام ہنسی مذاق پر لگام کسی جائے۔ اس لئے کہ ان بے جا قہقہوں سے چند لمحوں کی تفریح کا سامان ضرور ہورہا ہے لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو ہم سنجیدگی سے دور ہو کر انسانی معاشرے کو وہ نقصان پہنچارہے ہیں جس کی تلافی آئندہ وقتوں میں مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آرہی ہے۔ n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK