سگ پرور

Updated: July 18, 2022, 12:56 PM IST | Salam Bin Razak | Mumbai

 وہ بستی میں اپنے کتوں کی وجہ سے بہت مشہورتھا۔ میں نے اسے کتنی ہی دفعہ ایک لمبی کار میں آتے جاتے دیکھا تھا۔ مگر اب تک اُس کے کتوں کو میں نہیں دیکھ سکا تھا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 وہ بستی میں اپنے کتوں کی وجہ سے بہت مشہورتھا۔ میں نے اسے کتنی ہی دفعہ ایک لمبی کار میں آتے جاتے دیکھا تھا۔ مگر اب تک اُس کے کتوں کو میں نہیں دیکھ سکا تھا۔ ویسے لوگوں کا کہنا تھا کہ اُس کے ساتھ ہمیشہ کوئی نہ کوئی کتا ضرور رہتا ہے۔ وہ تنہا کبھی باہر نہیں نکلتا۔ لوگ اُس کا نام سنتے ہی اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے۔ وہ جس طرف سے گزرتا لوگ مشکوک اورڈربھری نظروں سے اُسے دیکھتے۔ میں نے اُسے کبھی کسی کو سلام کرتے نہیں دیکھا مگر سبھی لوگ اُسے دیکھتے ہی سلام کے لئے ہاتھ اٹھاتے اور نظریں جھکالیتے۔ البتہ اُن کی آنکھوں میں عزت واحترام کی جگہ اکثر  خوف کی جھلکیاں نظرآتیں۔ غور سے دیکھنے پر کہیں دور گہرائی میں نفرت کے سوتے بھی اُبلتے نظرآتے مگراس کا اظہار کوئی نہیں کرتایا شاید کرنہیں سکتا تھا۔ ویسے میں نے اُسے ایک معمولی شخص ہی پایا۔ اُس کی شخصیت سے کوئی خاص رعب داب کا اظہار نہیں ہوتا تھا۔ نہ وہ غیرمعمولی طورپر طاقتور یا خطرناک نظرآتا تھا۔میں نے ایک دو دفعہ اُسے باتیں کرتے بھی سنا ہے۔ اُس کا لہجہ بالکل سپاٹ تھا۔ آواز میں بھی ایسی کوئی گرج نہیں تھی کہ سننے والوں کے دل دہل جاتے۔ وہ کسی معمولی آدمی کی طرح ہی بولتا تھا مگرایک بات میں نے محسوس کی تھی ۔ وہ جب بولتا تھا تو ایسا لگتا تھا اُس کا ایک ایک  لفظ سننے والوں کے دلوں پر نقش ہورہا ہے۔ اُس کی بات کاٹنے یا اُس سے بحث کرنے کی کسی میں بھی ہمت نہیں تھی۔ اصل میں لوگ اُس سے نہیں اُس کے کتوں سے خائف رہتے تھے۔ اُس کے کتوں کی درندگی کے بڑے بھیانک قصے مشہورتھے۔ وہ ساری بستی میں اپنے آقا کے دشمنوں کی بوسونگھتے پھرتے اورجہاں کہیں بھی انہیں اُس کے دشمن یا مخالف نظر آتے وہ ایسی دہشت پھیلاتے کہ لوگ خوفزدہ ہوجاتے اورکوئی اس کے خلاف ایک لفظ بھی  کہنے کی جرأت نہ کرتا۔
 اکثر یہ بھی دیکھا گیا کہ اُس سے بہت زیادہ دشمنی رکھنے والے کسی سڑک کے کنارے کسی اندھیری گلی میں  یا خود اپنے گھر کے سامنے مردہ پائے گئے۔ صاف معلوم ہوتا کہ یہ اُس کے کتوں کا کارنامہ ہے مگر کوئی ثبوت یا گواہ نہ ملنے کی وجہ سے کوئی گرفتاری عمل میں نہ آتی۔ ایک دفعہ کسی شامت کے بارے پولیس انسپکٹر نے اُس کے سامنے کچھ اکڑ دکھائی۔ انسپکٹر مہاشے کواپنے عہدے اوراختیارات کا گھمنڈ تھا۔ انہوںنے بھری پری سڑک پر اُس کی توہین کردی مگر اُس نے انسپکٹر کو ایک لفظ بھی الٹ کر نہیں کہا۔ پھر لوگوں نے دیکھا کہ صرف تین دن بعد اُن انسپکٹر مہاشے کی لاش پولیس تھانے سے قریب ایک گلی میں پڑی پائی گئی۔ کسی تیز دھاروالے ہتھیار سے اُن کی شہ رگ کاٹ دی گئی تھی۔ اس قتل سے پورے ضلع میں سنسنی پھیل گئی۔ محکمۂ سراغرسانی کے ڈی آئی جی تک کھنچے چلے آئے۔ مسلسل کئی  ہفتوں تک بڑے بڑے پولیس آفیسر بستی کا چکر لگاتے رہے مگر قاتل پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکا۔ اُس کے کتے ساری بستی میں اُسی آزادی کے ساتھ گھومتے رہے مگر کسی میں ہمت نہیں تھی کہ اُن کی طرف اُنگلی بھی اُٹھادیتا۔
 ایک دفعہ مجھے بھی اُسے اوراُس کے کتوں کو بہت قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ بات پچھلی دیوالی کی چھٹیوں کی ہے۔ میں شام کی چائے پی کر مسٹر چکرورتی کے گھر جانے کے لئے کپڑے بدل رہا تھا۔ آج وہاں ایک ادبی نشست تھی کہ اتنے میں باہر کسی نے کال  ہیل کا بٹن دبایا۔ میری بیوی نے دروازے کی درز میں سے جھانک کر پوچھا، ’’ کون ہے؟‘‘ جواب میں آنے والے شخص نے پوچھا، ’’پرنسپل صاحب اندرہیں؟‘‘بیوی نے دوبارہ پوچھا، ’’مگرآپ کون ہیں۔‘‘’’ پرنسپل صاحب کو یہ لفافہ دے دیجئے۔‘‘ ایک  لفافہ بڑھاتے ہوئے کہا گیا۔  جب میں کپڑے بدل کرآیا تو بیوی نے وہ لفافہ میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، ’’ جانے کون تھا اپنا نام تک نہیں بتایا۔ ‘‘
  میں نے لفافہ ہاتھ میں لے لیا۔ پشت پر میرا ہی نام لکھا تھا میں نے اُسے چاک کیا۔ صرف دوسطریں لکھی تھیں۔ ’’ آپ سے ایک ضروری مسئلہ پر گفتگو کرنا ہے۔ آج شام کی چائے آپ میرے ساتھ پیجئے۔ ‘‘ نیچے اُس کا نام لکھا تھا۔ ایک ہلکی سی خوف کی لہر میرے بدن کو کپکپاگئی۔ میں سوچنے لگا، آخر وہ مجھ سے کیا بات کرنا چاہتا ہے۔ یہ دعوت مجھ پر کیوں نازل ہوئی۔ مجھے متفکر دیکھ کر بیوی نے پوچھا، ’’کیا بات ہے میں نے چونک کر گردن اٹھائی اور چٹھی بیوی کی طرف بڑھادی۔ بیوی بھی اُس کے کتوں کی نیک نامی کے قصے سن چکی تھی۔ اس نے گھبرا کر پوچھا، ’’تو کیا آپ جائیں گے؟‘‘
  اب تک میں سنبھل چکا تھا۔ مسکرا کر بولا!، ’’انکار کرنے کی وجہ نظرنہیں آتی۔‘‘’’مگر وہ تو…‘‘بیوی اچانک رُک گئی۔ میں نے اُس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا،’’ وہ دوسروں کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے۔ ہماری اس سے دشمنی ہی کیا ہے؟آخر دیکھیں تو وہ کس مسئلہ پر مجھ سے گفتگو کرنا چاہتا ہے۔ فکر مت کرو۔‘‘ میں باہر نکل آیا۔ برآمدے میں رکھی ہوئی سائیکل نکالی اور اُس کے بنگلے کی طرف چل پڑا۔ ہرچند کہ میں باہر سے مطمئن تھا مگر ذہن میں بار بار ایک ہی سوال ابھررہا تھا۔ آخر وہ کس مسئلہ پر مجھ سے گفتگو کرنا چاہتا ہے ۔ آخر میں اُس کے بنگلے کے سامنے پہنچ گیا۔ گیٹ پر ایک خونخوار پٹھان پہرہ دے رہا تھا۔ میں نے اُسے اپنا نام بتایا۔  وہ فوراً دروازہ کھول کر ایک طرف ہٹ گیا۔ میں سائیکل لے کر اندر چلا گیا۔ بنگلے سے لگا ایک بہت بڑا پائین باغ تھا۔ ہوا میں گلاب اور موگرے کے پھولوں کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ ایک ملازم تیزی سے میری  طرف بڑھا اور میرے ہاتھ سے سائیکل لے کر ایک کنج کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا، ’’ صاحب اُدھر ہیں۔ ‘‘ میں نے مڑ کر دیکھا۔ وہ ہری ہری گھاس پر ایک آرام کرسی میں لیٹا لائپ پی رہا تھا۔ میں اسی طرف بڑھ گیا۔ اس نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور آرام کرسی میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ میں قریب پہنچ گیاتھا۔ اس نے بیٹھے بیٹھے ہی دایاں ہاتھ میری طرف بڑھادیا۔ میں نے سلام کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ ’’تشریف  رکھیے۔‘‘اُس نے سامنے رکھی ہوئی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اتنے میں ایک ملازم چھوٹے چھوٹے پہیوں والی ٹرے سرکاتاہوا آیا اورمیز پر چائے اورناشتے کا سامان چننے لگا۔
 ’’لیجئے پرنسپل صاحب!‘‘ اُس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ چائے پیجئے، نوکرنے چائے بناکر میری طرف بڑھائی ۔ میں چائے کو آہستہ آہستہ سیپ کرنے لگا۔ چائے ختم کرکے میں نے رومال سے اپنے ہونٹ خشک کئے ۔ اُس نے پانچ سو پچپن کا،ٹن میری طرف بڑھادیا۔ میں نے ایک سگریٹ لے لی۔ سگریٹ کو ہونٹوں میں دباکررکھے ہوئے لائٹر کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اس سے پہلے ہی اُس نے لائٹر اٹھاکر جلایا اورمیری طرف بڑھادیا۔ میں نے سگریٹ سلگاکرایک کش کھینچا۔ میں منتظر تھا کہ دیکھیں وہ کیا کہنا چاہتا ہے! اُس نے اپنا پائپ جلایا۔ پھر آرام کرسی میں نیم دراز ہوتا ہوا بولا۔ ’’ ہاں تو پرنسپل صاحب! بات یہ ہے کہ میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا، آپ سے ملاقات کروں۔ میرا بیٹا سدھیر آپ کی بہت تعریف کیا کرتا ہے۔‘‘
 ’’اوہو!‘‘ میں ذرا مسکرادیا۔’’کہاں ہے سدھیر؟‘‘ میں اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میرا یہ جملہ رسمی طورپر ہی ادا ہوا تھا۔ ورنہ اُس خبیث لڑکے کو دیکھنے کی میری ذرا بھی خواہش نہیں تھی۔’’ وہ تو دیوالی منانے اپنی نانی کے ہاں مہابلیشور گیا ہے۔‘‘ ’’ اچھا‘‘ میں نے سگریٹ کا ایک کش کھینچا۔ یہ سدھیر گیارہویں جماعت کا انتہائی بدتمیز اورشریرلڑکا تھا۔ سارا اسٹاف اُس سے نالاں تھا۔ آئے دن اُس کی کوئی نہ کوئی شکایت سنی جاتی تھی۔ گالی تو اُس کی زبان کی نوک پر رہتی تھی۔ میں اُسے بارہاں آفس میں بلا کر سمجھا چکا تھا، ڈانٹ بھی پلائی تھی، کئی بار جرمانہ تک کیا تھا۔ ہاں اتنا ضرور تھا کہ وہ میرے سامنے اُلٹ کر ایک لفظ نہیں کہتا اور جو سزادی جاتی چپ چاپ قبول کرلیتا۔’’  اچھا، وہ پڑھائی میں کیسا ہے؟‘‘ اُس نے اچانک پوچھا۔’’ جی ! بس ٹھیک ہے مگر ذرا شریرہے۔‘‘ میں نے جلدی سے کہہ دیا۔’’ ہاں میں جانتاہوں مگر وہ آپ سے ڈرتاہے اور یہ اچھا ہی ہے ورنہ وہ یہاں توکسی سے نہیں دبتا۔‘‘’’ اتنے میں چار خونخوار قسم کے اشخاص آئے اور قریب ہی بچھی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ اُس نے ایک نظر اُن پر ڈالی پھر میری طرف مسکرا کردیکھتے ہوئے بولا، ’’ ان لوگوں سے ملئے۔ یہ ہے کالو، اس نے اب تک پندرہ مرڈر کئے ہیں ۔تین دفعہ جیل جاچکا ہے۔ چاقوتو ٹھیک دل کے مقام پر مارتا ہے۔ بس ایک ہی وار میں قصہ تمام۔‘‘
  میں نے کالو کی طرف دیکھا۔ اُس کے ہاتھ میں ایک بڑا ساچاقو تھا جس سے وہ سیب کاٹ رہاتھا۔ اُس کی  آنکھیں سیب پرجمی ہوئی تھیں۔ اُس کے کالے چہرے پر سرخ آنکھیں  عجیب  ڈراؤنی لگ رہی تھیں۔ اُس نے آگے کہا، ’’یہ بھولا ہے ، اُس کی صورت پر جو بھول پن نظرآرہا ہے اس سے اکثر لوگوں کو دھوکا ہوتا ہے۔اس نے صرف گلا گھونٹ کر سات قتل کئے ہیں۔ ایک دفعہ کسی کی گردن اس کی گرفت میں آجائے، پھر اس کا چھٹکارا مشکل ہے، چاہے وہ گردن گینڈے کی کیوں نہ ہو۔‘‘ میں نے بھولا کو دیکھا۔ وہ انتہائی معصوم صورت بنائے چو ینگ گم کچل رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا، ’’ اوریہ  جانی ہے ، بہترین باکسر۔ آج تک ایسا نہیں ہوا کہ اس نے کسی کو مکا مارا ہو اور وہ بیہوش نہ ہوا ہو ۔ اس کا صرف ایک گھونسا کسی کے بھی چہرے کا بھرتہ بناسکتاہے۔‘‘
  میں نے دیکھا کہ جانی ایک بسکٹ کو آہستہ آہستہ کتررہا ہے اوراُس کی نظریں  ایک درخت کی شاخ پر ٹنگی ہوئی ہیں۔ وہ چوتھے کی تعارف کراتے ہوئے کہہ رہا تھا  ’’ اوراس کا  نام للن ہے۔ اس کا بایاں ہاتھ کلائی سمیت کٹاہوا ہے مگریہ اپنے دائیں ہاتھ سے بے خطانشانہ لگاتا ہے۔ اس نے تقریباً ایک درجن قتل کئےہیں مگر لطف یہ کہ صرف ایک بار پکڑا گیا تھا اور تین سال کی جیل ہوئی تھی۔ ‘‘ للن کی انگلیوں میں سگریٹ جل رہی تھی اور وہ اپنے منہ سے دھوئیں کے مرغولے بنارہا تھا۔ پھر وہ اُن چاروں کی طرف مڑ کر بولا،’’ اوریہ سدھیر کے پرنسپل صاحب ہیں۔ ‘‘  وہ مجھے گھورتے ہوئے گردن ہلانے لگے، منہ سے کچھ نہیں بولے۔ میں نے غور سے دیکھا اُن چاروں کے نتھنے شکاری کتوں کی نتھنوں کی طرح پھڑک رہے تھے اوراُن کے دانت بھیڑیے کے دانتوںکی طرح چمکیلے تھے۔ اُن کے کان اپنے آقا کی آواز پر لگے تھے۔ اچانک اُس نے اٹھتے ہوئے کہا ، ’’ اچھا پرنسپل صاحب! شکریہ  اورہاں، اگلے مہینے میں نے سنا ہے کہ آپ کے کالج سے فٹ بال کی ٹیم کلکتہ جارہی ہے جس کا کپتان سیٹھ جیٹھالال کا لڑکا اجیت ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں میں نے پچھلے الیکشن میں جیٹھالال کو کس بُری  طرح ہرایاتھا ۔ میں چاہتاہوں کہ اس ٹیم کا کپتان میرا لڑکا سدھیر ہو۔ میں جیٹھالال کو ہر جگہ شکست دینا چاہتاہوں۔ بس یہی کہنے کے لئے میں نے آپ کو زحمت دی تھی۔‘‘اتنا کہہ کر اُس نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھادیا۔ میں اُسکا منہ دیکھنے لگا۔ وہ ہاتھ ملاکراپنے  بنگلے کی طرف مڑ گیا اور میں سرجھکائے گیٹ کی طرف چلنے لگا۔ میں نے مڑ کر دیکھا، وہ اپنے بنگلے کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اور اُس کے چاروں کتے اُس کے پیچھے تھے۔ وہ اُن سے کچھ کہہ  رہا تھا اور چاروں اطاعت کے سے انداز میں آہستہ آہستہ اپنی دُم ہلارہے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK