ڈاکٹررادھا کرشنن ایک مثالی مدرس تھے، جنہیں فراموش نہیں کیا جاسکتا

Updated: September 05, 2022, 1:04 PM IST | Dr. Ghazanfariqbal

وہ طلبہ میں بہت مقبول تھے۔ جس وقت وہ میسور چھوڑ کر جارہے تھے، ان کے طلبہ بہت زیادہ جذباتی ہوگئے تھے۔ جب ان کے جانے کا وقت ہو ا تو ان کے طلبہ نے انھیں ایک گاڑی میں بٹھایا اور اسےخود ہی کھینچ کر ریلوے اسٹیشن تک لے گئے۔ اُس وقت تمام طلبہ کی آنکھوں سے آنسورواں تھے

A memorable photo of 1964 the visit to Moscow, at that time Radhakrishnan was the President of the country.Picture:INN
ء۱۹۶۴ءماسکو دورے کی ایک یادگار تصویر، اُس وقت رادھا کرشنن ملک کے صدر جمہوریہ تھے۔ تصویر:آئی این این

ڈاکٹر سروپلّی رادھا کرشنن کا نام، پیارے بچو ،آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ ۵؍ستمبر کویوم اساتذہ انہی کی یاد میں منایا جاتاہے کیوں کہ وہ بھی ایک استاد تھے۔ استاد کی قدر ومنزلت کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ان کی نگاہ میں استاد ایک عظیم الشان ہستی کا نام ہے۔ ایک بہترین رہنما، استاد، خدا کا ایک گراں قدر انعام ہے۔ ہندوستان میں قدیم دور ہی سے علم اور عالم دونوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہاہے۔ علم وادب فلسفہ وحکمت ہندوستانی تہذیب کی میراث رہی ہیں۔ ہندوستان میں عالم اور اُستاد کو دیوتا کا درجہ دیا جاتا رہا ہے۔
 ڈاکٹر رادھا کرشنن نے۵؍ستمبر۱۸۸۸ء کو تیروتانی ضلع چتور تمل ناڈو میں جنم لیا۔ سروپلی ان کے نام کا حصہ اسلئے ہے کہ وہ آندھر پردیش میں واقع سروپلی کے رہنے والے تھے۔ ان کے اجداد سروپلی سے تیروتانی منتقل ہوگئے تھے۔ ان کے والد سروپلی ویراسوامی ایک زمین داری میں بہت معمولی ملازم تھے۔ ان کی والدہ کانام ’ستیا ماتھا‘ تھا۔ ان کی ابتدائی تعلیم تروپتی میں ہوئی۔ وہ جب۸؍برس کے تھے، لوتھرن مشن ہائی اسکول میں داخل کئے گئے۔ یہاںوہ۴؍برس تک رہے۔ اس کے بعد وہ ویلور کے ’ووریس کالج‘ اور کرسچن کالج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔۱۹۰۸ء میں ایم اے کی ڈگری کیلئے ویدانت کے موضوع پر مقالہ لکھا۔ اس مقالے سے کالج کے پرنسپل پروفیسر ہیگل بے حد متاثر ہوئے۔۱۹۰۹ء میں ڈاکٹر کرشنن مدراس پریسیڈنسی کالج میں فلسفہ کے لکچرر مقرر ہوئے اور۱۹۴۸ء تک وہ تعلیم کے میدان ہی میں کام کرتے رہے۔ مدراس کے علاوہ میسور اور کلکتہ یونیورسٹی میں وہ فلسفہ کے پروفیسر رہے۔ آندھرا اور ہندو یونیورسٹی بنارس میں انھوںنے وائس چانسلر کی حیثیت سے کام کیا۔ کہاجاتاہے کہ ڈاکٹر رادھا کرشنن جس وقت میسور چھوڑ کر جارہے تھے، ان کے طلبہ جذباتی ہوگئے تھے۔ جب ان کے جانے کا وقت ہو ا توان کے طلبہ نے انھیں ایک گاڑی میں بٹھایا اور اسےخود ہی کھینچ کر ریلوے اسٹیشن لے گئے۔ اُس وقت تمام طلبہ کی آنکھوں سے آنسورواں تھے۔  ڈاکٹر کرشنن ایک مثالی مدرس تھے۔ وہ دوران تدریس حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار، اسباق کو آزادی وطن سے مربوط کرتے ہوئے آنے والے انقلاب کو بڑی خوب صورتی کے ساتھ اپنے شاگردوں میں منتقل کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب تحریک آزادی عروج پرتھی۔ ڈاکٹر کرشنن میں مثالی اُستاد کی تمام خوبیاں موجود تھیں۔ علاوہ ازیں استاد اور شاگرد کے پاکیزہ رشتے کی جو مثال انھوںنے قائم کی وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ قابل فخر بھی ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن کہا کرتے تھے کہ سماج میں استاد کا مقام بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ وہ نسل درنسل ذہنی روایات و فنی مہارت کی منتقلی میں بنیادی کردار ادا کرتاہے اور تہذیب و تمدن کی شمع فروزاں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ وہ نہ صرف قوم کی قسمت سنوارتا ہے بلکہ یوں کہئے کہ وہ قوم کی تقدیر بناتا ہے۔ہندوستانی سماج میں اُستاد اورشاگرد کا رشتہ بڑا مضبوط مانا گیاہے۔اُستاد کی صحیح تربیت اور رہنمائی شاگرد کو ذرّے سے آفتاب بنادیا کرتی ہے۔ ڈاکٹر کرشنن نے کئی ذرّوں کو آفتاب بنایا تھا۔ ان کا لکچر موضوع کی وضاحت، اختصار اور صفائی میں بے مثال ہوتا تھا۔ اسی لئے وہ جو کچھ پڑھاتے تھے طلبہ کو سمجھ میں آجاتاتھا۔ وہ کبھی کلاس روم میں کبھی سختی سے پیش نہیں آتے تھے مگر ان کی کلاس کا نظم وضبط بہت سخت ہوا کرتا تھا۔
 ڈاکٹر رادھا کرشنن کو دو وقت کی روٹی کیلئے سخت محنت کرنی پڑتی تھی۔ ایک بڑے خاندان کی ضرورتوں کو پوری کرنے کیلئے رقم کی ضرورت رہتی تھی۔ سب سے پہلے انھوںنے اپنے سونے کے وہ تمغے فروخت کردیئے جو انھیں امتحانات میں امتیازی کامیابی حاصل کرنے پر ملے تھے۔ پھر اپنے ایک خیر خواہ کے مشورے پر انھوں نے اپنے نفسیات پر دیئے تمام لکچروں کو جمع کیا اوراُنھیں’دی ایسنشیل آف سائیکالوجی‘ کے عنوان سے ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا۔ یہ کتاب طلبہ میں بہت پسند کی گئی مگرایک قرض کی ادائیگی سے مجبور ہو کر انھیں اس کتاب کی اشاعت کے حقوق سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے۵۰۰؍ روپوں میں محروم ہونا پڑا تھا۔
 ڈاکٹر رادھا کرشنن پر سوامی وویکا نند اور رویندرناتھ ٹیگور کا اثر سب سے زیادہ پڑاتھا۔ اسی لئے انھوںنے پہلی باضابطہ کتاب ٹیگور کا فلسفہ کے عنوان سے شائع کی تھی۔ ٹیگور نے کہا تھا کہ رادھا کرشنن کے مضامین نے مجھے سکون دیا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ کتاب میں اُن کیلئے سنجیدہ کوشش اور لگن سے اُن کی خدمات کا اعتراف کیا گیاہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے فلسفہ اور مذہب کے تقابلی مطالعہ کے سلسلے میں بہت تقریریں کیں۔ ہندوستان کے علاوہ انگلینڈ ، امریکہ اور چین میں بھی ان کی کتنی ہی اہم تقاریر ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ڈیڑھ سو سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے انھیں تعلیمی کمیشن کا صدر بنایا۔ ان کے یوم پیدائش کو ’یوم اساتذہ‘ منانے کا فیصلہ۱۹۶۲ء میں کیا گیا۔ پنڈت نہرو نے رادھا کرشنن کو۱۹۵۲ء میں ملک کے نائب صدر جمہوریہ کے عہدے کیلئے انتخاب کیاتو کانگریس پارٹی کے بہت سے اراکین کو خاصی حیرت بھی ہوئی مگر انھوںنے اس عہدے کا بھی مقام بلند رکھا۔ اس عہدے کے بعد وہ ملک کے دوسرے صدر جمہوریہ منتخب ہوئے۔ ان کا صدارتی دور تاریخی اعتبار سے بھی اہم تھا۔ ہندوستان اور چین کی پریشان کن لڑائی، نہرو جی کے دور کا خاتمہ، ہندوستان اور پاکستان جنگ میں ہندوستان کی جیت اوراس کے بعد اندراگاندھی کا وہ اختلافی دور شروع ہوا جو تاریخی بھی تھا اور اختلافی بھی۔اس ہلچل کے دور میں رادھا کرشنن کے خاموش اور پرسکون مشوروں اوررہنمائی نے ہندوستان کو ایک ہموار راستے پر لگائے رکھا۔مثالی مدرس، ڈاکٹر رادھا کرشنن کا ۱۷؍اپریل۱۹۷۵ءکو مدراس میں انتقال ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK