الیکٹورل بانڈ، الیکشن فنڈنگ اور ہمارا غیر منظم انتخابی نظام

Updated: January 18, 2022, 4:32 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

بیشتر ممالک میں انتخابات شفافیت سے ہوتے ہیں اور رائے دہندگان کو ان کے متعلق معلومات تک آسانی سے رسائی ہوتی ہے تاہم، ہمارے ملک میں الیکٹورل بانڈز متعارف ہونے کے بعد انتخابات میں شفافیت ختم ہوگئی ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈا، گوا اور منی پور میں اسمبلی الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہوگیا ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابی مہموں میں مصروف ہیں اور سبھی مذکورہ ریاستوں میں حکومت بنانے کی پوری کوشش کررہی ہیں۔  دنیا کے چاہے کسی بھی ملک میں انتخابات ہوں، ان میں خرچ کرنے کیلئے رقم کی ضرورت پڑتی ہی ہے تاہم، ہر ملک میں فنڈ اکٹھاکرنے کیلئے مختلف نظام ہیں۔ بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں انتخابات مکمل شفافیت سے ہوتے ہیں اور رائے دہندگان کو ان کے متعلق معلومات تک آسانی سے رسائی ہوتی ہے تاہم، ہمارے ملک میں الیکٹورل بانڈز متعارف کروانے کے بعد انتخابات میں شفافیت ختم ہوگئی ہے۔ الیکٹورل فنڈنگ کے معاملے میں ہمارے ملک میں کوئی منظم نظام نہیں ہے جبکہ متذکرہ قانون متعارف کروانے کے بعد یہ نظام بالکل ہی ختم ہوچکا ہے۔   الیکٹورل بانڈ ۲۰۱۷ء میں متعارف کروایا گیا تھا۔ اس کے تحت سیاسی پارٹیوں کو کوئی بھی شخص یا ادارہ ہزاروں کروڑوں روپے کا عطیہ اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر انتخابی فنڈ کی شکل میں دے سکتا ہے۔ اس فنڈ کی معلومات ایس بی آئی کے ذریعے صرف بر سر اقتدار پارٹی ہی کو ہوگی۔ فنڈ کی معلومات تک پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن، اپوزیشن پارٹیوں اور عوام کی رسائی نہیں ہوگی۔ اس متنازع قانون کے تحت خسارے والی کمپنیاں بھی فنڈ دے سکتی ہیں نیز کارپوریٹ کی جانب سے ۷ء۵؍ فیصد کی حد کو بھی ختم کردیا گیا ہے یعنی کوئی بھی کمپنی کتنی بھی رقم دے سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس ضمن میں حق معلومات کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ الیکٹورل بانڈ نے ہندوستان کے انتخابی نظام سے شفافیت کو مکمل طور پر ختم کردیا ہے۔ کیا ایسی اس صورتحال میں تمام سیاسی جماعتیں برابری کی سطح پر الیکشن لڑ سکتی ہیں؟ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن ابھی زیر التواء ہے۔ یہ بھی جان لیں کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ووٹرس کی اس قسم کی معلومات تک رسائی ہوتی ہے۔   ۲۰۱۹ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان لوک سبھا انتخابات میں سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والا ملک بن گیا تھا۔ اس دوران تقریباً ۵۰۰؍ کھرب روپے خرچ کئے گئے تھے۔ یہ رقم دنیا کے کئی ممالک کی مجموعی جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی الیکشن بغیر سرمائے کے جیتنا ناممکن ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جو سیاسی پارٹی یا امیدوار سب سے زیادہ رقم خرچ کرتا ہے وہی فاتح ہوتا ہے۔   متعدد رپورٹس میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ انتخابات کے دوران پارٹیوں کو جو فنڈ دیا جاتا ہے اس میں ۹۲؍ فیصد کالا دھن ہوتا ہے۔ ایسا ہی ۲۰۱۹ء کے عام انتخابات میں بھی ہوا تھا۔خیال رہے کہ۲۰۱۶ء میں نوٹ بندی کے متعدد مقاصد میں سے ایک ’’کالے دھن پر قدغن لگانا‘‘ بھی تھا، لیکن ۲۰۱۹ء کی انتخابی مہم میں کالے دھن کی شکل ہی میں اتنی رقم جمع ہوئی کہ ہندوستان الیکشن میں سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والا ملک بن گیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ۲۰۱۴ء سے لے کر اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان میں سب سے زیادہ فنڈ بی جے پی ہی کو ملا ہے جبکہ اپنے اقتدار کے دوران پارٹی نے ایسے قانون بنا کر پاس بھی کروالئے ہیں جو محض اس کے اور اس کے کاروباری حامیوں کے حق میں ہیں۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اکٹھا ہونے والا فنڈ کا ۹۰؍ فیصد بی جے پی کے کھاتے میں گیا ہے جبکہ بقیہ ۱۰؍ فیصد دیگر پارٹیوں کو ملا ہے۔ ملک میں ہر نئے الیکشن کے ساتھ اس میں خرچ کی جانے والی رقم کی حد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ چند دنوں قبل ہی سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائے قریشی نے کہا ہے کہ ’’الیکٹورل بانڈ نے سیاسی جوابدہی کو کوم کردیا ہے۔ پہلے پارٹیوں کو ۲۰؍ ہزار روپے کا بھی حساب دینا پڑتا تھا لیکن اب ۲۰؍ ہزار کروڑ روپے خرچ ہورہے ہیں لیکن کوئی حساب نہیں دیا جارہا ہے۔ اگر الیکٹورل بانڈز پر فوری طور پر شنوائی نہیں ہوئی اور اس قانون کو منسوخ نہیں کیا گیا تو جمہوریت خطرے میں پڑجائے گی۔‘‘  کوئی بھی سیاسی جماعت انتخابات جیتنے اور حکومت بنانے کے بعد ووٹرس کی فلاح و بہبود کیلئے پالیسیاں بناتی ہیں مگر اب پارٹیاں اپنے فنڈرز یا ڈونرز کیلئے پالیسیاں بنانے لگی ہیں۔ اسی طرح انتخابات میں سیاسی جماعتوں اور لیڈران کے عقب میں ایسے افراد مثلاً بڑے تاجر اور ادارے، ہیں جو اپنے فائدے کیلئے انتخابات کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ متذکرہ قانون کے تحت انتخابات میں اب کارپوریٹ سیکٹر کی فنڈنگ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ یہ قانون ان کی شناخت کو مخفی رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔   دنیا بھر میں جمہوریت کو پیسوں کے ذریعے کمزور کیا جا رہا ہے، اور ایسا سب سے زیادہ ہمارے ملک میں ہورہا ہے۔ خیال رہے کہ سیاسی فنڈنگ ​​کی عدم مساوات جتنی زیادہ ہوگی، عوامی پالیسیاں اکثریت کے مفادات کو اتنی ہی نظر انداز کرکے مرتب کی جائیں گی۔ اور ہمارے ملک میں غریبوں اور کمزوروں کی اکثریت ہے لہٰذا یہی افراد سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ امریکی سپریم کورٹ کے جج لوئیس برانڈیز نے اپنے ایک فیصلے میں لکھا تھا کہ ’’ہمارے ملک میں جمہوریت ہو سکتی ہے یا چند لوگوں کے ہاتھ میں پوری دولت، لیکن دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں ہوسکتیں۔‘‘ قابل غور ہے کہ معاشی عدم مساوات میں اضافہ سیاسی عدم مساوات کو فروغ دیتا ہے، اور اسی طرح سیاسی عدم مساوات میں اضافہ معاشی عدم مساوات کو فروغ دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK