• Fri, 28 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work
Ramzan 2025 Ramzan 2025

فتاوے: مغرب کی اذان اور نماز میں وقفہ، رمضان مبارک کے پیغامات اور خواتین کی تراویح

Updated: February 28, 2025, 4:57 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) مغرب کی اذان کے بعد نماز کیلئے کتنی دیر ٹھہرنا مناسب ہے؟ (۲) عورتوں کے لئے تراویح (۳) بلا تحقیق اجادیث کو شیئر کرنا۔

Women can lead with the complete exception of the back veil. Photo: INN
خواتین پیچھے پردے کی کامل رعایت کے ساتھ اقتدا کرسکتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

 مغرب کی اذان کے بعد نماز کیلئے کتنی دیر ٹھہرنا مناسب ہے؟
عمران احمد، راجستھان
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: دوسری نمازوں میں اذان اور نماز کے بعد اتنا وقفہ کہ کھانے والا کھانے پینے سے فارغ ہوکر اور جسے قضاءے حاجت کی ضرورت ہو وہ فارغ ہوکر مسجد پہنچ جائے اور ضرورت ہو تو جماعت سے پہلے وضو کرلے لیکن مغرب میں تعجیل یعنی تاخیر سے بچتے ہوئے جلد پڑھ لینا مستحب ہے۔ اس کی مقدار یہ بتائی گئی ہے کہ اذان کے بعد موذن اپنی جگہ پہنچ جائے، اس کے بعد ایک بڑی یا تین چھوٹی آیتوں کے بقدر وقفے کے بعد جماعت کھڑی کر دی جائے، دو منٹ کے بقدر وقفہ ہو یہ مکروہ تنزیہی اور خلاف اولیٰ ہے، اس سے زیادہ اتنا وقفہ کہ آسمان پرہر طرف ستارے نظر آنے لگیں یہ مکروہ بکراہت تحریمی ہے۔ 
 نوٹ: رمضان المبارک، کی آمد آمد ہے، ممکن ہے سائل کا مقصد اس کے متعلق دریافت کرنا۔ ہو اس کا جواب یہ ہے کہ روزہ داروں کی سہولت اور افطار سے فراغت کی رعایت کرتے ہوئے علماء نے دس منٹ تک تاخیر کی اجازت دی ہے، اس سے زیادہ تاخیر نہ کی جانی چاہئے واللہ اعلم وعلمہ اُتم
عورتوں کے لئے تراویح 
 عورتوں کو جماعت سے تراویح میں قرآن پاک سنانا کیساہے؟ صحیح حدیث کی روشنی میں بتائیں۔ تابش حسن، بہار
 باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: رمضان المبارک میں نماز تراویح ہر عاقل بالغ مرد وعورت کے لئے مسنون ہے جبکہ باجماعت تراویح سنت علی الکفایہ ہے۔ اگر کچھ لوگ پڑھ لیں تو سب کی ذمے داری پوری ہوجاتی ہے لیکن کوئی نہ پڑھے تو سب پر ترک سنت کا وبال ہوگا۔ یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ مسجد میں جاکر باجماعت نماز صرف مردوں کے لئے ہے۔ جہاں تک عورتوں کا مسئلہ ہے تو عہد رسالت میں بعض عورتیں مسجد میں بھی آتی تھیں مگر ان کے لئے احتیاطی پابندیاں بھی تھیں اس کے علاوہ حضورﷺ کے فرمودات کے مطابق ان کے لئے یہ ہدایت تھی کہ عورت کے لئے نماز مسجد کے بجائے اسکے اپنے گھر میں افضل ہے اور گھر کے صحن کے بجائے اندرونی حصے میں زیادہ بہتر ہے۔ اس سے شارع کی منشا کا بھی علم ہوتا ہے کہ وہ گھر میں ہی پڑھیں۔ اس کے بعد اصل سوال کے مطابق عورت تراویح سننے کے لئے مسجد میں جائے یہ حضورﷺ کی منشا کے خلاف ہے۔ کسی اور جگہ جائے یہ بھی وہی صورت ہے۔ اپنے ہی گھر میں عورتیں با جماعت تراویح پڑھیں اور تراویح کوئی عورت پڑھا ئے عہد رسالت کے بعد سے اب تک امت کا متوارث عمل اسکے بھی خلاف ہے، البتہ گھر کا کوئی مرد تراویح پڑھائے اور پیچھے سب یا کچھ اس کی محرم بھی ہوں اور جو محرم نہ ہوں وہ پردے کی رعایت کے ساتھ اقتدا کریں، عورتیں سب امام کے پیچھے کھڑی ہوں اور وہ ان کی امامت کی نیت بھی کرے اس طرح وہ بھی تراویح سن سکتی ہیں۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ امام کے ساتھ کچھ مرد ہوں ان کی صف الگ ہو عورتیں پیچھے پردے کی کامل رعایت کے ساتھ اقتدا کریں۔ تاہم بہتر صورت بہرحال یہی ہے کہ عورتیں ان تکلفات کے بجائے انفرادی طور اپنی اپنی تراویح پڑھیں واللہ اعلم وعلمہ اُتم
 بلا تحقیق اجادیث کو شیئر کرنا
  کچھ عرصہ سے رمضان کی آمد سے پہلے خاص کر سوشل میڈیا میں حدیث پاک کے حوالے سے اس طرح کے میسج آنے لگتے ہیں کہ جس نے دوسروں کو رمضان المبارک کے آنے کی بشارت دی وہ جنت میں جائے گا اور کسی میں یہ ہوتا ہے کہ وہ جہنم سے محفوظ رہیگا اور یہ تاکید بھی ہوتی ہے کہ اس میسج کو زیادہ سے زیادہ دوسروں تک پہنچائیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی حدیث میں ایسا آیا ہے اور اسے شیئر کرنے کا کیا حکم ہے؟ لقمان علی، ممبئی 
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: رمضان کے بے شمار فضائل ہیں جو احادیث صحیحہ میں موجود ہیں لیکن سوال میں جس روایت کے متعلق پوچھا گیا ہے اس مضمون کی ضعیف تو کیا کوئی موضوع رو ایت بھی کتب احادیث میں نہیں پائی جاتی۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد میں فرمایا :جس نے جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کی وہ جہنم کو اپنا ٹھکانہ سمجھے، جبکہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جس نے میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے (یعنی جہنم اس کا ٹھکانہ ہے)۔ ان احادیث سے ظاہر ہے کہ جھوٹی روایت بیان کرنے والوں کے لئے جہنم کی وعید ہے۔ اس لئے اول تو جب یہ سرے سے بے اصل ہے تو اسے حدیث کہنا اور سمجھنا کسی طرح صحیح نہیں اس کو شییر کرنا حضور ﷺ کی طرف منسوب کرکے جھوٹ کو پھیلانا ہے اس لئے اسے شیئر کرنا بھی سراسرخسارے کا سودا ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اُتم


متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK