Inquilab Logo Happiest Places to Work

’آمین‘ والے دن گاؤں میں جشن کا ماحول ہوتا تھا، گھروں میں گلگلے بنتے تھے

Updated: March 16, 2025, 2:22 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

تراویح پڑھنے مسجد جاتے وقت لوگ ہاتھ میں لالٹین لے کر جایا کرتے تھے۔ آگے آگے بڑے بزرگ ہوتے تھے درمیان میں بچے اور سب سے پیچھے نوجوان چلتے تھے۔

Village mosques used to have no or very few facilities, but the passion among the worshippers was very high. Photo: INN.
گاؤں کی مساجد میں پہلے سہولیات نہیں تھیں یا بہت کم تھیں لیکن مصلیان میں جذبہ بہت زیادہ ہوتا تھا۔ تصویر: آئی این این۔

رمضان کا دوسر ا عشرہ چل رہاہے۔ گائوں کی مساجد میں تراویح جاری ہے۔ کچھ مساجد میں قرآن شریف کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے اور کہیں کہیں مکمل ہونے کے قریب ہے۔ بڑے بزرگوں کے ساتھ بچے بھی مساجد میں کثرت سے نظر آرہے ہیں۔ ہائی اسکول اور انٹر میڈیٹ کا امتحان دینے والےطلباء مسجد کے کونے کھدرے میں خصوصی دعا کا اہتمام کررہے ہیں، اس امید سے کہ رمضان میں روزے کی حالت میں پروردگار ان کی دعائوں کوقبول کرلے گا اور وہ اچھے نمبروں سے پاس ہوں گے۔ انہیں اپنی محنت پر بھروسہ تو ہے لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ .....اگر توفیق رب نہ ہو کسی سے کچھ نہیں ہوتا۔ 
اب تو زیادہ تر گائوں کی مساجد میں بجلی کا انتظام ہے، پنکھے لگے ہیں۔ آج سے ۶۰۔ ۵۰؍ سال پہلے تو گائوں میں بجلی کا تصور بھی نہیں تھا۔ مساجد اور گھروں میں روشنی کیلئے چراغ جلائے جاتے تھے اور گرمی دور کرنے کیلئے ہاتھ کے پنکھے کا ہی سہارا تھا۔ ۵۹۔ ۱۹۵۸ء کے رمضان کا کچھ اُسی طرح کا واقعہ ہے۔ بارہ بنکی ضلع کے سترکھ قصبے میں ایک گائوں ہے میہی۔ اُس وقت چھوٹا سا گائوں تھا لیکن اب کافی بڑا ہو گیا ہے۔ وہاں بجلی کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ تراویح پڑھنے مسجد جاتے وقت لوگ ہاتھ میں لالٹین لے کر جایا کرتے تھے۔ آگے آگے بڑے بزرگ ہوتے تھے درمیان میں بچے اور سب سے پیچھے نوجوان چلتے تھے۔ لالٹین کی روشنی سے جگمگ اُس قطار میں شامل ہونے والے ۷۵؍ سالہ رفیع اللہ صدیقی صاحب نے بتایا کہ بچوں اور بزرگوں کی سیکوریٹی کے مقصد سے نوجوانوں کو پیچھے رکھا جاتا تھا۔ اُس وقت گائوں کے باہر جنگلی جانوروں کے حملے کا خطرہ زیادہ ہوتا تھا۔ رات کی تاریکی میں لالٹین کی مدھم روشنی میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھتے تھے اور ساتھ ساتھ یہ نعرہ لگا تے تھے ...’’ رکھو روزہ، پڑھو نماز، یہ ہے محمد ؐکی آواز‘‘اُس وقت لوگوں کا جوش و جذبہ قابل دید ہوتا تھا۔ اُن دنوں گائوں تو کیا آس پاس کے علاقے میں بھی بہت مشکل سے کوئی حافظ قرآن ملتے تھے، لیکن اُس گائوں کے لوگوں کو تراویح میں قرآن سننے کا حد درجےکا شوق تھا، وہ تراویح میں زبانی قرآن پڑھنے کے مسئلے سے بھی نا واقف تھے۔ ایسی صورت میں وہاں تراویح میں قرآن شریف دیکھ کر پڑھا جاتا تھا۔ یہ ذمہ داری فضل علی صاحب انجام دیتے تھے۔ چونکہ مسجد میں روشنی کا انتظام نہیں تھا، اس کیلئے امام صاحب کے پاس تراویح کی جماعت میں ہی شامل شخص نیت باندھے ہوئے اپنے کندھے پر لالٹین رکھ کر کھڑا ہوتا تھا تو اس کی روشنی سے امام صاحب تلاوت کرتے اور اس طرح ایک پارہ پڑھ کر بیس رکعت مکمل کرتے تھے۔ لالٹین دیر تک لے کر کھڑے ہونے والے شخص کا جسم جب گرم ہونے لگتا تو کچھ دیر کیلئے تراویح روک دی جاتی تھی یا پھر یہ ذمہ داری کسی دوسرے شخص کے سپرد کر دی جاتی تھی۔ اُس وقت لوگوں میں ماہ رمضان میں  عبادت کا ایسا جذبہ تھا کہ مسجد میں تراویح پڑھنے والوں کی اتنی بڑی تعداد ہوتی تھی کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ تراویح میں  قرآن کا دور مکمل ہونے والے دن کو آمین کہا جاتا تھا۔ مجال کیا تھی کہ کوئی قرآن ختم ہونے کی بات کہہ دے۔ اس جملے پر بڑے بزرگ برہم ہو جاتے اور کہتے...قرآن ختم ہو رہا ہے، نہیں ہرگز نہیں، قرآن کا دور مکمل ہو رہا ہے بیٹا۔ کلام اللہ کبھی ختم نہیں  ہوسکتا۔ حالانکہ آج بھی لوگ تراویح میں قرآن کا دور مکمل ہونا ہی کہتے ہیں، غلطی سے کسی نے ختم ہونے کی بات کی تو اُسے ٹوک دیا جاتا ہے۔ 
ہاں تو آمین والے دن یعنی قرآن کا دور مکمل ہونے والے دن گائوں میں جشن کا ماحول ہوتا تھا۔ گھر میں خواتین گلگلے تیار کرتی تھیں ۔ شام کو ہر گھر سے بڑی سی طشتری میں گلگلا لے کر بچے اور بڑے مسجد میں  پہنچتے تھے اور عشا بعد مصلیان میں گلگلے تقسیم ہوتے تھے۔ 
تقریباً پندرہ سال پہلے کی بات ہوگی۔ ہمارے یہاں ایک رات میں قرآن شریف مکمل کرنے کی نشست تھی اور مسجد مقتدیوں بھری تھی کیونکہ چائے کافی کے ساتھ ہی بریانی کا بھی انتظام تھا۔ تین حفاظ کو دس دس پارے پڑھانے کی ذمہ داری دی گئی تھی، پہلے نمبر پرحافظ صاحب نے دس پارے اطمینان سے پڑھائے۔ دوسرے حافظ صاحب آئے تو انھوں نے پہلی دو رکعتیں مکمل کرنے کے بعد ہی محسوس کیا کہ مقتدی حضرات آرام سےچائے کافی پی رہے ہیں اور پہلی رکعت کےرکوع کے وقت جلدی جلدی نیت باندھ رہے ہیں، صرف دوسری رکعت میں شریک ہوتے ہیں۔ حافظ صاحب نے اگلی دو رکعتوں کی جیسے ہی نیت باندھی پہلی رکعت میں صرف ایک رکوع کی تلاوت کے بعد ہی تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے اور جیسے ہی سارے مقتدیوں نے نیت باندھ کر نماز میں شرکت کی دوسری رکعت میں حافظ صاحب نے ۹؍ پارے پڑ ھ دیئے۔ اس درمیان پانچ سات بزرگ اور دو چار نوجوان نماز ہی میں گر گئے۔ امام صاحب نے جیسے ہی سلام پھیرا، باقی رہ جانے والے مقتدی اُن پر ٹوٹ پڑے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK