Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہاتھ کے روئیں نظر آنے لگتے تو سمجھا جاتا تھا کہ سحری کا وقت ختم ہوچکا ہے

Updated: March 23, 2025, 2:30 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

رمضان کا آخری عشرہ چل رہا ہے۔ گائوں کے بزرگ اپنے بچپن کے رمضان کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُن دنوں کا رمضان ہمارے لئے سمجھو مہینے بھر کا جشن ہوتا تھا۔

After the afternoon prayers, fasting people in the village are seen strolling around the fields until the time for breaking the fast approaches. Photo: INN.
نمازِ عصر کے بعد گائوں میں  روزہ دار، افطار کا وقت قریب ہونے تک کھیتوں کے آس پاس ٹہلتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ تصویر: آئی این این۔

موسم بہار ختم ہوا۔ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ رمضان بھی رخصت ہونے کو ہے۔ رواں سال ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف ہریالی تھی۔ پیلے پیلے سرسوں کے پھول رمضان میں چلنے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ فضا میں لہرا رہے تھے، گویا ماہ مبارک کا خوشی خوشی استقبال کررہے ہوں۔ اب رمضان رخصت ہونے کے قریب ہے تو تاحد نگاہ کھیتوں میں سرسوں کی بالیاں ایک دوسرے سے ایسے گلے مل رہی ہیں جیسے ہم اپنے کسی عزیز کو الوداع کہتے ہوئےبغل گیر ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان بزرگوں کے چہروں پر بھی حزن و ملال ہے کہ جن پر یہ سوچ غالب ہے کہ شاید اُن کا یہ آخری رمضان ہو۔ وہ اپنے ہم عمروں کے ساتھ جب بیٹھتے ہیں تو کچھ اس طرح گفتگو کرتے ہیں : ’’رمضان شریف جارہے ہیں، اب پتہ نہیں اگلے سال نصیب ہو یا نہ ہو!‘‘ یہ جملہ مکمل ہونے کے ساتھ سب کے چہروں پرغم نمایاں ہو جاتا ہے۔ جی ہاں ہمارے بزرگوں کو رمضان سے کچھ ایسی ہی عقیدت اور محبت ہے۔ 
رمضان کا آخری عشرہ چل رہا ہے۔ گائوں کے بزرگ اپنے بچپن کے رمضان کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُن دنوں کا رمضان ہمارے لئے سمجھو مہینے بھر کا جشن ہوتا تھا۔ یوں تو اُس وقت بچے اسکول کیلئے جلدی نہیں اُٹھتے تھے لیکن رمضان شریف میں شب کےآخری پہر ڈھول پر تھاپ پڑتی تھی اور ہم بچے آنکھیں ملتے ہوئے بستر چھوڑ دیتے تھے۔ ہمارے یہاں ایک گائوں ہے دولہے پور اُس وقت وہاں سے سحری جگانے والوں کی ٹولیاں آتی تھیں جو آس پاس کے مواضعات میں سحری جگایا کرتی تھیں۔ وہ گائوں کے گھروں کے باہر پانچ چھ منٹ کھڑے ہوکر طرح طرح کے ساز بجاتے اور اپنی سریلی آواز میں نبیؐ کی شان میں کلام سناتے ہوئے گزرتے تھے۔ ان کی آواز ایسی مسحور کن تھی کہ گائوں کے بچوں کا ایک ہجوم ان کےپیچھے پیچھے چلتا اور اُن کی آواز میں آواز ملاتا تو فضا پربڑی روحانی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ یہ لوگ جس دروازے پر رُکتے توکہیں سے کھانے کو کچھ ملتا تھا اور کہیں سے پیسہ۔ کسی گھر سے کوئی چھوٹا سا بچہ اپنے ننھے سے ہاتھ میں ایک یا دو روپئے یا ایسا ہی کوئی سکہ تھامے ہوئےدروازے پر آتا، ساز بجانے والا اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتا، سکہ قبول کر لیتا اور قافلہ آگے بڑھ جاتا۔ 
 اِدھر گھروں میں خواتین روٹی پکانے اور سالن گرم کرنے کیلئےگیلی لکڑیوں پر پھونکیں مارکر آگ جلاتیں۔ چولہے سے اُٹھنے والے دھویں کے سبب اُن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔ سحری تیارہوجاتی تو سب سے پہلے کھیتوں کی رکھوالی کرنے والوں کیلئے بھیجی جاتی تھی۔ سحری لے جانے والا وہاں کھیت میں گھر کے بزرگ کے ساتھ ہی سحری کرتا تھا کیونکہ گھر واپس آنے تک سحری کا وقت ختم ہونے کا خطرہ ہوتا تھا۔ گائوں سے دور کھیتوں میں نہ تو سحری جگانے والی ٹولیاں پہنچتیں نہ ہی اذان کی آواز چنانچہ وہاں سحری کے ختم ہونے کیلئے وقت کا پتہ لگانے کا اپنا ہی انداز تھا۔ وہاں موجود چچا میاں سحری کھانا اُس وقت بند کرتے تھے جب اِتنا اُجالا ہو جاتا تھا کہ ہاتھ کے روئیں نظر آنے لگتے۔ اندھیرے میں ہاتھ کے روئیں نظر آنا گویا سحری کے ختم ہونے کا اعلان ہوتا تھا۔ آج بھی گائوں کے بزرگوں کی زبانی یہ سننے کو ملتا ہے کہ ابھی کہاں سحری کا وقت ختم ہوا ہے ابھی تو ہاتھ کے روئیں نظر نہیں آرہے ہیں، گائوں کے لوگ مذاقاً کہتے ہیں پھر تو گھر کا کمرہ بند کیجئے اور دن بھر سحری کھاتے رہئے۔ 
یہاں، روزہ رکھنے والے بچوں کی شرارتوں کا ذکر بے محل نہ ہوگا۔ دن بھروہ ایک دوسرے سے پوچھتے پھرتے تھے کہ کس نے روزہ رکھا ہے اور سرگوشیوں میں یہ بھی بتاتے تھے کہ کون اسکول کے باہر مہوے کے درخت کے پاس چھپ کر پانی پی آیا ہے۔ شام ہوتے ہوتے افطاری تیار ہونے لگتی اورچولہے پر تیار ہونیوالے پکوانوں کی خوشبو سے روزے کی حالت میں چھوٹے بچوں کا دل مچلنے لگتا۔ افطار میں گھر کی تازہ دہی سے بڑی سی بالٹی میں لسی تیار کی جاتی جو گرمی کے دنوں میں بچوں اور بوڑھوں سب کی پہلی پسند تھی۔ گائو ں کے بزرگ گھر کے باہر چھپر میں چٹائی بچھا کر افطار کرتے تھے اور چھوٹے بچے گھر کی خواتین کیساتھ چوکیوں اور پیڑھیوں پر دائرہ بنا کر بیٹھتےتھے۔ خواتین چولہے کے پاس اپنی جگہ سنبھالتی تھیں۔ اُس وقت افطاری کی پوری تیاری گھر کی خواتین کے ذمہ ہوتی تھی، باہر سے کچھ منگوانے کا خیال تک کسی کو نہ آتا تھا۔ گھر کے پکوان گھر میں پکتے اور مہکتے تھے۔ کچھ یہی صورتحال پھلوں کی تھی۔ موسم کے مطابق باغ کے تازہ آم، امرود اور کٹہل توڑ کر لائے جاتے۔ رمضان کی مناسبت سے کھیتوں میں ترکاریاں بوئی جاتیں۔ کھیت کی تازہ دھنیا، مرچ اور ٹماٹر کی چٹنی بزرگوں کو خوب بھاتی۔ بڑے کسان تربوز، خربوز اور ککڑیاں کھیت سے توڑ لاتے اور پڑوس میں بھی بھجواتے۔ افطار کے بعد گائوں کے بزرگ بچوں کو ساتھ لئے مسجد تیز قدموں کیساتھ روانہ ہوتے کہ کہیں مغرب کی کوئی رکعت چھوٹ نہ جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK