جنوری میں حماس اور اسرائیل کے درمیان ہوئے وقتی معاہدہ کے تحت ایک طرف حماس نے اور دوسری طرف اسرائیل نے یرغمالیوں اور قیدیوں کو رہا کیا تھا۔ تب عالمی برادری کو یہ امید بندھی تھی کہ شاید فلسطینی عوام کو راحت ملے گی مگر ٹرمپ کی واپسی اور آمرانہ فکر نے اس جنگ کو از سرنو شروع کرایا ہے۔
فلسطین میں ایک بار پھر بم وبارود کی فضا تیار ہوگئی ہے اور اسرائیل نے معصوم فلسطینیوں کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے۔ ایک طرف حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو چھوڑنے سے انکار کیا ہے تو دوسری طرف اسرائیل نے انتقامی جذبے سے ہزاروں فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیاہے۔ ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے اسرائیل فلسطینی عوام پر قہر برپا کر رہاہے اور اب تک پچاس ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور دو لاکھ سے زائد معذور ہیں جب کہ ہزاروں لا پتہ ہیں۔ حالیہ غزہ میں جو صورت حال ہے وہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگی پابندی کے معاہدہ کے ٹوٹنے کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے لیکن تلخ سچائی تو یہ ہے کہ نیتن یاہو شروع سے اب تک فلسطین کو برباد کرنے اور اس پر قابض ہونے کی شطرنجی چال چل رہاہے اور مسلمانوں کی نسل کشی کو محض اس لئے جائز قرار دے رہا ہے کہ حماس نے اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا اور اب بھی کچھ اس کے قبضے میں ہے۔ واضح رہے کہ جنوری میں جب حماس اور اسرائیل کے درمیان وقتی معاہدہ ہوا تھا او ر حماس نے بھی یرغمالیوں کو چھوڑنا شروع کیا تھا اور اسرائیل نے بھی فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا تو عالمی برادری کو یہ امید بندھی تھی کہ شاید فلسطینی عوام کو کوئی راحت مل سکے۔ لیکن امریکہ میں ٹرمپ کی واپسی اور پھر ٹرمپ کی آمرانہ فکر نے اس جنگ کو نئے سرے سے شروع کرایا ہے۔ حماس کے ذریعہ صد فیصد یرغمالیوں کو نہیں چھوڑ نے کا بہانہ بنا کر جس طرح اسرائیل نے غزہ میں تباہی شروع کی ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی ضد پر ہے اور امریکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے وہ فلسطین کے وجود کو ختم کرنا چاہتا ہے ورنہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں کی تمام کوششوں کا ناکام ہونا اشارہ ہے کہ عالمی برادری بھی اس جنگ بندی کے تئیں ایماندارانہ طورپر سنجیدہ نہیں ہے بلکہ محض خانہ پُری کے لئے آواز بلند کی جاتی رہی ہے اور وہ صدا بہ صحرا ثابت ہوتی رہی ہے۔ دراصل فلسطین کا مسئلہ عالمی سیاست کا خمیازہ ہے۔
حال کی جنگ کا آغاز حماس کے ذریعہ اسرائیلی عوام کا یرغمال ہے لیکن اس سے پہلے بھی تو اسرائیل غزہ پر بم برساتا رہا ہے اور خان یونس کے علاقے کے معصوم فلسطینیوں کو دربدری پر مجبور کرتا رہاہے۔ پانچ دہائیوں سے فلسطین کی اکثریت خیمے کی زندگی جینے پر مجبور ہے اور یومیہ ضروریات سے محروم ہے۔ نیتن یاہو کی سیاست چوں کہ فلسطین کی جنگ کی بدولت مستحکم ہو رہی ہے اور اسرائیل کی قیادت سے وہ محروم ہونا نہیں چاہتا اس لئے فلسطین کی جنگ یوں ہی چلتی رہے گی۔ حماس کی حرکت کی حمایت نہیں کی جا سکتی کہ اس نے بھی معصوم اسرائیلیوں کو ہی یرغمال بنایا تھا اور ان میں سے کئی کی جانیں چلی گئیں۔ ہمارا اسلام اس کی اجازت نہیں دیتالیکن مثل مشہور ہے کہ ’’بہ تنگ آید بہ جنگ آید‘‘اس لئے حماس کی مجبوری ہے کہ وہ یہ جانتے ہوئے کہ اس کے پاس اسرائیل کے مقابل اسلحے نہیں ہیں اورنہ اس کی پیٹھ پر کوئی بڑا ملک ہے، وہ اسرائیل سے سینہ سپر ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امریکہ جو خود کو تحفظ حقوق انسانی کا علمبردار کہتا ہے، ایک طرف وہ یوکرین اور روس کی جنگ بندی کے لئے کوشاں ہے اور یہ دلیل دے رہاہے کہ اس جنگ سے انسانیت تباہ ہو رہی ہے وہیں دوسری طرف اسرائیل کی ہر طرح کی مدد کر رہاہے اور فلسطین کے عوام کو موت کے گھاٹ اتارنے میں معاون ہے۔ امریکہ کی اس دوغلہ پالیسی کی وجہ سے ہی حماس اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدہ ختم ہوا ہے اور غزہ پر بم باری شروع ہوئی ہے۔ اب چوں کہ غزہ کی اکثریت خیمے میں زندگی بسر کر رہی ہے یا پھر اپنی عمارت کے ملبوں کو جمع کرکے از سر نو زندگی شروع کرنے کو تیار ہے تو ایسے وقت میں پھر نیتن یاہو نے اپنے سیاسی مفاد کی خاطر جنگ کا آغاز کیا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل میں ہر سال مارچ ماہ میں ہی بجٹ سیشن ہوتا ہے اور اگر اس بجٹ سیشن میں حکمراں جماعت بجٹ پاس کرانے میں ناکام رہتی ہے تو اس سیاسی جماعت کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑتا ہے۔ چونکہ کچھ شدت پسند سیاسی جماعتیں جو نیتن یاہو کو حمایت کرتی ہیں ان کا مطالبہ تھا کہ تمام اسرائیل یرغمال کو واپس لایا جائے ورنہ وہ اپنی حمایت واپس لے لے گا اس لئے نیتن یاہو نے دوبارہ جنگ کا آغاز کرکے ان شدت پسند تنظیموں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے یہ وحشیانہ قدم اٹھایا ہے جیسا کہ دوبارہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی کئی شدت پسند تنظیموں نے نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان بھی کردیا۔ واضح ہو کہ اسرائیل میں ایک بڑا طبقہ ہے جو جنگ بندی کاحمایتی ہے اور مسلسل تل ابیب میں مظاہرہ بھی ہو رہاہے۔ لیکن اسرائیل حماس کے اقتدار کا غزہ سے خاتمہ کرنے کی بات کہہ کر فلسطین کے وجود کو ہی ختم کرنا چاہتا ہے۔ یورپ کے تین بڑے ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی اسرائیل سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہِ رمضان المبارک میں بھی فلسطینی مسلمان اسرائیلی بم وبارود کے شکار ہورہے ہیں ، معصوم بچے بھوک پیاس سے مر رہے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ دربدری پر مجبور ہیں لیکن عرب کے مسلم ممالک اس ناانصافی کے خلاف چوں تک بولنے کو تیار نہیں ہے ظاہر ہے کہ تمام مسلم ممالک امریکہ اور ان کے حامیوں کے پٹھّو بنے ہوئے ہیں اور صیہونی سیاست کے شکار ہیں ایسے وقت میں حماس ہی ہے جوفلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لئے سینہ سپر ہے۔ لیکن امریکہ نے ایک شطرنجی چال چلی ہے کہ اب غزہ میں حماس کے خلاف مظاہرے کروا رہا ہے ظاہر ہے کہ فلسطین کے مسئلہ پر اس وقت حماس ہی اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیتا رہا ہے۔ اگرچہ حماس کی بہت سی کارروائی کی حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن فلسطینی عوام کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے اس کے پسِ پردہ امریکہ کی دوہری پالیسی کارفرما ہے۔ ایک طرف وہ ماہ رمضان میں فلسطین میں بم برسا رہاہے تو دوسری طرف امریکہ میں دعوتِ افطار کا اہتمام کر کے اسلامی دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ امریکہ اسلام کے تئیں مثبت فکر رکھتاہے اور افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اس دعوتِ افطار اسلامی ممالک میں قدرے زیادہ ہی مشتہر کیا جا رہاہے۔ جب کہ یہ عمل فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مانند ہے۔