صحت کے تئیں فکرمندی اور اِسمارٹ واچ مارکیٹ

Updated: March 22, 2022, 3:02 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

اسمارٹ واچ،اسمارٹ فون کے متعدد فیچر سے لیس ہے، مثلاً وقت اور تاریخ کے علاوہ اس گھڑی سے آپ اپنے دل کی دھڑکنیں، خون میں آکسیجن کی سطح، بلڈ پریشر وغیرہ چیک کرنے کے علاوہ چہل قدمی کا ریکارڈ بھی جمع کرسکتے ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

دنیا میں غالباً تکنالوجی ہی ایک ایسا شعبہ ہے جو تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ اس شعبے میں ہر سال نت نئےگجٹس متعارف کروائے جاتے ہیں۔ چند برسوں کے بعد صارفین میں ایک آلے کا ’کریز‘ ختم ہوجاتا ہے اور اس کی جگہ کوئی دوسرا گجٹ لے لیتا ہے۔ آج تکنالوجی سے مزین بے شمار مصنوعات بازار میں دستیاب ہیں لیکن ان تمام میں جو گجٹ تیزی سے اپنی جگہ بنارہا ہے وہ ’اسمارٹ واچ‘ ہے۔ بیشتر افراد اس گجٹ سے واقف ہیں۔ یہ کلائی پر باندھی جانے والی ایک ایسی گھڑی ہے جو اسمارٹ بھی ہے۔ اس کے ذریعے آپ کئی کام انجام دے سکتے ہیں۔ اکثر یہ گمان ہوتا ہے کہ آئندہ چند برسوں میںدنیا کو اسمارٹ فون کی ضرورت کم اور اسمارٹ واچ کی زیادہ ہوگی۔ اسمارٹ واچ،اسمارٹ فون کے متعدد فیچر سے لیس ہے، مثلاً وقت، تاریخ اور دن کے علاوہ اس گھڑی سے آپ اپنے دل کی دھڑکنیں، خون میں آکسیجن کی سطح، بلڈ پریشر وغیرہ چیک کرسکتے ہیں، ای میل اور میسج وغیرہ پڑھ سکتے ہیں، کال اٹینڈ کرسکتے ہیں، الارم لگا سکتے ہیں، آپ دن بھر کتنے قدم چلتے ہیں اس کا ریکارڈ جمع کرسکتےہیں، اسپورٹس کی متعدد سرگرمیاں بھی اسمارٹ واچ میں سمٹ گئی ہیں کہ کون سی سرگرمی میں آپ نے کتنی کیلوریز کم کی ہیں۔ ٹچ اسکرین کی حامل اس گھڑی کو اسمارٹ فون کے ذریعے ایک ایپ کی مددسے کنٹرول کیاجاتا ہے۔ جیسا کہ ایک نعرہ مشہور ہے کہ موبائل فون کی ایجاد کے بعد دنیا آپ کی مٹھی میں آگئی تھی، لیکن آئندہ چند برسوں میں یہ آپ کی کلائی پر رہے گی اور چند انچ کے اسکرین تک سمٹ جائے گی۔ یہ ہے تکنیکی انقلاب۔ پہلی اسمارٹ واچ ۱۹۹۸ء میں لانچ کی گئی تھی لیکن یہ زیادہ کارآمد اور اسمارٹ نہیں ثابت ہوئی۔ مائیکروسافٹ نے ۲۰۰۴ء میں دنیا کو ایک ایسی اسمارٹ واچ دی تھی جو چند فیچرز تک ہی محدود تھی اس لئے عوام میں مقبول نہیں ہوئی۔ اسمارٹ واچ کے شعبے میں انقلاب ۲۰۱۵ء میں اُس وقت آیا جب دنیا کی سب سے بڑی تکنالوجی کمپنی ایپل انکارپوریٹڈ نے اپنی پہلی اسمارٹ واچ لانچ کی۔اس کے بعد سیمسنگ، ون پلس، کیسیو، بوٹ جیسی معروف کمپنیوںکے علاوہ ہر ملک میں مقامی برانڈز نے بھی اسمارٹ واچ بنانا شروع کردیا ۔آج دنیا میں اسمارٹ واچ کے سیکڑوں برانڈ ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ۲۰۲۰ء کے بعد سے اسمارٹ واچ کے مارکیٹ میں زبردست اچھال آیا۔ کاؤنٹر پوائنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۱ء کے مالی سال میں ہندوستان کے اسمارٹ واچ مارکیٹ میں ۲۷۴؍ فیصد کی نمو ہوئی۔ یعنی ۲۰۲۰ء اور ۲۰۲۱ء میں کروڑوں ہندوستانیوں نے اسمارٹ واچ خریدنا ضروری سمجھا۔ اہم سوال یہ ہے کہ جب یہ گجٹ برسوں سے دنیا میں موجود تھا تو گزشتہ ۲؍ برسوں میں اس کی مانگ میں اچانک اضافہ کیوں ہوا؟ کورونا وائرس کی وباء پھیلنے کے بعد لوگ اپنی صحت کے تئیں زیادہ فکرمندی ظاہر کررہے ہیں اس لئے اب ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی دل کی دھڑکنیں ، بلڈ پریشر اور خون میں آکسیجن کی سطح ہمیشہ متوازن رہے۔ چونکہ وہ ان باتوں کیلئے بار بار اسپتال کا چکر نہیں لگا سکتا اس لئے اسمارٹ واچ خریدنا ضروری خیال کرتا ہے۔ یہ گھڑی ۲۴؍ گھنٹے اس کے پاس ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے وہ جب چاہے اپنی دھڑکن اور بلڈ پریشر وغیرہ چیک کرسکتا ہے، اور کسی قسم کی بے ترتیبی محسوس ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرسکتا ہے۔ خیال رہے کہ ماضی میں ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں جب اسمارٹ واچ نے بروقت اطلاع دے کر لوگوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔  وبائی حالات نے لوگوں کو صحت کے تئیں فکرمند کردیا ہے۔ بازار میں ۷۰۰؍ سے روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے تک کی اسمارٹ واچ دستیاب ہے۔ اسمارٹ واچ کے بنیادی فیچرز میں صحت کے متعلق تمام آپشنز موجود ہوتےہیں اس لئے لوگ اپنی ضرورت اور استطاعت کے مطابق اسمارٹ واچ خرید کر اسے استعمال کررہے ہیں۔ صحت کے تئیں بیداری وہ پہلی اور اہم وجہ ہے جو لوگوں کو اسمارٹ واچ کی جانب متوجہ کررہی ہے۔اس گجٹ میں مسلسل نت نئے فیچرز شامل کئے جارہےہیں اور اسے مزید صارف دوست بنایا جارہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے خریدیں۔کئی اسپتالوں اور کلینک میں ڈاکٹرز اسمارٹ واچ کی مدد ہی سے مریض کا بلڈ پریشر اور نبض چیک کر لیتے ہیں۔ اس سے ان کا وقت بچتا ہے اور وہ کم وقت میں زیادہ مریضوں کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ علاوہ ازیں، آج دنیا کے تقریباً ہر ملک میں انٹرنیٹ کو اہم ضرورت قرار دیا جارہا ہے اس لئے حکومتیں اپنے شہریوں کو مفت انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہیں۔ کئی ممالک میں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ انفرا اسٹرکچر تیار کیا جارہا ہے تاکہ اسمارٹ واچ مزید بہتر طریقے سے کام کرسکیں۔ عالمی سطح پر اسمارٹ واچ کا مارکیٹ لیڈر ایپل جبکہ ہندوستان میں نوائز ہے۔۲۰۲۲ء کے اعدادوشمار کے مطابق عالمی سطح پر اسمارٹ واچ کا مارکیٹ ۵۷ء۳؍ ارب ڈالرز کا ہے۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس میں ہر سال ۱۸ء۳۲؍ فیصد کی ترقی ہورہی ہے اور ۲۰۲۷ء تک یہ ۱۳۲ء۹؍ بلین ڈالرز کا ہوجائے گا۔ہندوستان میں اسمارٹ واچ کے مارکیٹ میں سالانہ ۸؍ فیصد کااضافہ ہورہا ہے۔ دنیا میں اسمارٹ واچ کے سب سے زیادہ صارفین امریکہ اور کینیڈا میں ہیں جبکہ ایشیاء میں پہلے نمبر پر ہندوستان ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ہندوستان میں اسمارٹ واچ کے سب سے زیادہ صارفین ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK