• Sat, 22 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار میں دہلی کی دھڑکن ؟

Updated: February 14, 2025, 5:24 PM IST | Dr Mushtaq Ahmed | Mumbai

ایک طرف عظیم اتحاد جس میں راشٹریہ جنتا دل ، کانگریس اور بایاں محاذ کی سیاسی جماعتیں شامل ہیں وہ آئندہ اسمبلی انتخاب میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کر سنجیدگی سے غوروفکر کررہی ہیں تو دوسری طرف قومی جمہوری اتحاد جس میں نتیش کمار کی قیادت والی جنتا دل متحدہ اور بی جے پی کے ساتھ لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس)اورجیتن رام مانجھی کی پارٹی ہندوستانی عوام مورچہ میں شامل ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

پوری دنیا میں جمہوریت کی مقبولیت اور قبولیت اس لئے پروان چڑھی کہ اس طرزِ حکومت میں کسی بھی سیاسی جماعت کو دائمیت حاصل ہونے کے امکانات نہیں رہتے۔ غرض کہ تغیر جمہوریت کا مقدر ہے اور اس لئے جمہوریت کی آڑ میں آمریت بہت دنوں تک قائم نہیں رہتی۔ مگر شرط یہ ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت ہو اور مذہبیت کے لبادہ میں جذباتیت کو فروغ نہ ملے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ہندوستان میں حالیہ دہائی کی سیاست مذہبیت اور جذباتیت کی شکار ہے اور انتخابی عمل بھی شکوک کے دائرے میں ہے اس لئے لوگ باگ میں مایوسی بھی دیکھی جا رہی ہے کہ جب ہمارا انتخابی عمل صاف وشفاف نہیں رہ گیا ہے تو پھر ہماری مثالی جمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا؟
بہر کیف!حالیہ دہلی انتخاب کے نتائج کے بعد ایک بار پھر پورے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ۲۷؍ برسوں کی جد وجہد کے بعد بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا ہے اور اس تاریخی فتح نے نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک میں بی جے پی اراکین کے چہرے پر طمانیت بخشی ہے۔ ظاہر ہے کہ دہلی میں اقتدار کی تبدیلی سے مرکز کی قومی جمہوری اتحاد کی حکومت کا حوصلہ بلند ہوا ہے اور بالخصوص بی جے پی کے لئے یہ نتیجہ باعثِ افتخار ہے۔ جہاں تک عام آدمی پارٹی کی شکست کا سوال ہے تو اس کی کئی وجہ ہے۔ حال کے دنوں میں یہ انکشاف ہو چکا تھا کہ عام آدمی پارٹی جس قول وقرار کی بنیاد پر اقتدار میں آئی تھی اس میں کہیں نہ کہیں بد دیانتی ہوئی ہے اور بد عنوانی سے پاک حکومت کا دعویٰ کرنے والے کیجریوال کی شبیہ مجروح ہوئی ہے۔ یہاں اس حقیقت کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ملک کی راجدھانی دہلی آزادی کے بعد سے ہی جن سنگھ اور آر ایس ایس کے لئے زرخیز رہی ہے اور جب اسے ریاست کا درجہ نہیں ملا تھا اس وقت دہلی میونسپل کارپوریشن میں اس کا دبدبہ رہتا تھا اورجب دہلی کو ریاست کا درجہ دیا گیا تھا تو بی جے پی کے ہاتھوں میں بھی اقتدار آیاتھا مگر اس وقت کانگریس کی پوزیشن قدرے بہتر تھی اور شیلا دکشت کی کرشماتی شخصیت نے کانگریس کو نہ صرف دہلی میں پائوں جمانے کا موقع دیا بلکہ استحکام بھی بخشا۔ لیکن سیاست کی شطرنجی چال کی وجہ سے دہلی سے کانگریس بے دخل ہوئی اور ایک نئی سیاسی جماعت کیجریوال کی قیادت میں حکومت پر قابض ہوئی۔ یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلّم ہے کہ کیجریوال کو دہلی میں مستحکم کرنے والے صرف کانگریس مخالف ہی نہیں تھے بلکہ کانگریس کے اندر جو پاسدارانِ سنگھ پریوار نظریہ تھے انہوں نے بھی کانگریس کی زمین تنگ کی اور اس انتخاب میں بھی کانگریس کا جو حشر ہوا ہے اس میں بھی اسی نظریہ کے لوگوں کا اہم کردار ہے۔ کانگریس کے کچھ ہمنوا خوش ہیں کہ عام آدمی پارٹی اقتدار سے باہر ہوگئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر سیاسی جماعت کے اپنے سیاسی تانے بانے ہوتے ہیں اور اسی کے مطابق وہ کام بھی کرتی ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ کانگریس کا تانا بانا ہریانہ اور مہاراشٹر کے بعد دہلی میں بھی ٹوٹ کر بکھر گیاہے۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی اقتدار سے باہر ہوگئی ہے لیکن اس کی زمین تنگ نہیں ہوئی ہے کہ اس اسمبلی انتخاب میں بھی اسے ۴۳ء۵۷؍ فیصد ووٹ حاصل ہواہے اور محض دو فیصد ووٹوں کے فاصلے کی بنیاد پر بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے۔ 
جمہوریت میں فتح وشکست کا فاصلہ کم اور زیادہ بے معنی ہوتا ہے کہ ۴۹؍ ووٹ حاصل کرنے والا اپوزیشن میں بھی نہیں رہ سکتا اور ۵۱؍ ووٹ حاصل کر اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ اعداد وشمار کا کھیل ایک معمہ ضرور ہے لیکن جمہوریت کی حقیقت یہی ہے۔ اس لئے دہلی کے نتائج کو ہر ایک سیاسی جماعت اپنے اپنے سیاسی مستقبل کے نظریے سے دیکھ رہی ہے اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس نتیجہ کا تجزیہ کیا جا رہاہے۔ اب چونکہ بہار میں اسمبلی انتخاب ہونا ہے اور یہاں قومی جمہوری اتحاد اور انڈیا اتحاد کے درمیان ہی مقابلہ ہونا ہے اسلئے دہلی انتخاب کے نتائج کے تناظر میں دونوں اتحادیوں کے درمیان سیاسی حکمت عملی طے کی جا رہی ہے۔ ایک طرف عظیم اتحاد جس میں راشٹریہ جنتا دل ، کانگریس اور بایاں محاذ کی سیاسی جماعتیں شامل ہیں وہ آئندہ اسمبلی انتخاب میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کر سنجیدگی سے غوروفکر کررہی ہیں تو دوسری طرف قومی جمہوری اتحاد جس میں نتیش کمار کی قیادت والی جنتا دل متحدہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ایل جے پی (رام ولاس)اورجیتن رام مانجھی کی پارٹی ہندوستانی عوام مورچہ میں شامل ہیں وہ بھی ان نتائج کے بعد سیاست کی بساط پر اپنی چالیں چلنے لگی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس وقت بہار میں کوئی بھی سیاسی جماعت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ تن تنہا تمام سیٹوں پر انتخاب لڑ سکے۔ اس لئے انڈیا اتحاد یا عظیم اتحاد جس میں آر جے ڈی اور کانگریس کے ساتھ بایاں محاذ میں سیٹوں کی تقسیم ہونی ہے ان کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح اپنے اتحادیوں کو متحد رکھ سکیں اور سیٹوں کی تقسیم میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ 
ٹھیک اسی طرح قومی جمہوری اتحاد کے سامنے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کہ وہ نتیش کمار کی قیادت میں انتخاب میں جائیں اور ساتھ ہی ساتھ سیٹوں کی تقسیم میں بھی اپنے اتحادیوں کو صف بند رکھ سکیں۔ اس لئے ان دنوں دہلی کی دھڑکن بہار میں بھی ہر طرف سنائی دے رہی ہے اور گلی کوچے میں بھی یہ تبصرہ ہورہا ہے کہ اگر دہلی میں انڈیا اتحاد قائم رہتا تو شاید نتیجہ کچھ اور ہوتا اور اگر بہار میں بھی یہی روش رہی تو یہاں کے نتائج بھی حیرت انگیز ہو سکتے ہیں۔ 
عظیم اتحاد کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کے ساتھ ساتھ اپنے امیدواروں کو کامیاب بنانے کیلئے ایماندارانہ کوشش کی بھی ضرورت ہوگی کہ حالیہ پارلیمانی انتخاب میں اس کا فقدان نظر آیا تھا اور جس کا خسارہ بھی ہوا۔ کانگریس کیلئے بہار کی آزمائش غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوگی کہ اگر یہاں وہ قابل قدر کامیابی نہیں حاصل کرسکی تو پھر انڈیا اتحاد کا شیرازہ بکھر سکتا ہے اور آر جے ڈی کے وجود پر بھی سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ واضح ہو کہ بہار کاآئندہ اسمبلی انتخاب بہ ایں معنی غیر معمولی ہے کہ اس بار ایک نئی سیاسی جماعت جن سوراج بھی میدان میں ہوگی اور شمالی بہار کے سیمانچل علاقے میں اسد الدین اویسی بھی اپنی زمین تیار کرینگے۔ بہار کے نتائج سے قومی سیاست کی سمت ورفتار کا یقینی طور پر تعین ہوگا۔ 

bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK