موجودہ حالات میں مسلمانوں کا سب سےپہلا فرض اورضروری کام رجوع الی اللہ ہونا چاہئے

Updated: November 18, 2022, 1:14 PM IST | Maulana Syed Abul Hasan Ali Nadvi | Mumbai

قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو، بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

اس وقت پورا عالم اسلام ایک ایسے آزمائشی دور سے گزر رہا ہے جس کی نظیر گزشتہ تاریخ میں صدیوں تک نہیں ملتی۔ اس دورِ آزمائش میں مسلمانوں کا صرف ملّی تشخص، دین کی دعوت و تبلیغ کے مواقع و امکانات اور ایک ملک و معاشرہ کو صحیح  راستہ پر لگانے اور اس کائنات کے خالق و مالک کی صحیح معرفت، عبادت اور دین صحیح کی طرف رہنمائی کی صلاحیت و استطاعت تو بڑی چیز ہے، ان کی زندگی کا تسلسل جسمانی وجود، عزت و آبرو، مساجد و مدارس اور صدیوں کا دینی و علمی اثاثہ اور قیمتی  سرمایہ بھی خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ وہ نہ صرف دور دراز قصبات اور دیہاتوں میں بلکہ بڑے بڑے مرکزی شہروں میں بھی، جہاں وہ بڑی تعداد میں بستے ہیں اور ممتاز صلاحیتوں، ذہنی امتیازات اور مہارتوں کے مالک ہیں، کچھ عرصہ سے خوف و ہراس کی زندگی گزار رہے ہیں اور کہیں کہیں ان کا نقشہ بعیٖنہ وہ ہوگیا ہے جس کی تصویر قرآن مجید نے اپنے بلیغ و معجزانہ الفاظ میں اس طرح کھینچی ہے: ’’زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں۔‘‘ (التوبہ:۱۱۸) یہ حالات یقیناً نہ صرف ایمانی و مذہبی غیرت اور پختہ دینی شعور رکھنے والوں کیلئے بلکہ حالات پر سطحی نظر رکھنے والے عام مسلمانوں کے لئے بھی جو گرد و پیش کے حالات کو دیکھتا، اخبارات پڑھتا اور خبریں سنتا ہے، سخت تشویش انگیز ہیں، وہ کبھی مایوسی اور بعض اوقات حالات کے سامنے سپرانداز ہوجانے پر بھی آمادہ کرتے ہیں۔ لیکن اس خدائے واحد پر ایمان رکھنے والے مسلمان کے لئے جس کے ہاتھ میں اس کارخانۂ عالم کی باگ ڈور ہے، اپنے دین کا محافظ، حق کا حامی، مظلوم کی مدد کرنے والا، پامال اور خستہ حال کو اٹھانے والا اور سرکش و متکبر کو نیچا دکھانے والا ہے اور جس کی شان ہے کہ الَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ  (دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا چلتا ہے۔ الاعراف:۵۴) کوئی انقلاب اور تغیر حال ناممکن نہیں، اس خدائے واحد کے بارے میں مسلمان شہادت دیتا ہے کہ :
 ’’کہو کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک! تو جس کو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے، ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے اور بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے، اور تو ہی جس کو چاہتا ہے بے شمار رزق بخشتا ہے۔‘‘ (آل عمران:۲۶۔۲۷) ایک ایسے موقع پر جب ایک مفتوح و مغلوب قوم کے غالب آنے اور ایک فاتح اور غالب ملک کے مغلوب ہونے کے بارے میں نہ کوئی اُمید تھی نہ کوئی پیشین گوئی کی جرأت کرسکتا تھا، قرآن مجید میں صاف فرمایا گیا ہے:
 ’’پہلے بھی اور پیچھے بھی خدا ہی کا حکم ہے اور اس روز مومن خوش ہوجائیں گے خدا کی مدد سے ، وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب اور مہربان ہے۔‘‘ (سورہ روم:۴۔۵) لیکن اس تبدیلی ٔ حال اور اس خطرہ سے بچنے کے لئے، جو اَب مشاہدہ اور تجربہ کی شکل میں آگیا ہے، کچھ خدائی قانون، اس کے بھیجے ہوئے آخری پیغمبر انسانیت ﷺ کی تعلیمات اور خود آپؐ کا اسوہ اور سنت  اور آپؐ کے تربیت یافتہ اصحاب کاملین رضی اللہ عنہم کا نمونہ و عمل ہے۔  زیرنظر سطور میں قرآن و حدیث، سیرت نبویؐ اور اسوۂ صحابہؓ کی روشنی میں چند شرائط و ہدایات کو پیش کیا گیا ہے: (۱) اس وقت دنیا کے تمام مسلمانوں اور خصوصیت کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں کا سب سے پہلا فرض اور ضروری کام رجوع الی اللہ، انابت، توبہ و استغفار اور دعا و ابتہال (گریہ و زاری) ہے۔ قرآن مجید کی صریح آیت ہے: ’’اے ایمان والو!  صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو، بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (سورہ بقرہ: ۱۵۳) ایک دوسری آیت میں فرمایا گیا: ’’بھلا کون بے قرار کی التجا کو قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دُعا کرتا ہے اور کون (اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے۔‘‘ (سورہ نمل:۶۲) دوسری جگہ فرمایا گیا:  ’’اے ایمان والو! اللہ کے آگے سچی توبہ کرو، عجب کیا ہے کہ تمہارا پروردگار (اسی سے) تمہارے گناہ تم سے دور کردے۔‘‘ 
(سورہ تحریم:۸) خود رسول اللہ ﷺ کا معمول مبارک تھا کہ ذرا بھی کوئی پریشانی کی بات  آتی تو فوراً نماز کی کی جانب متوجہ ہوتے اور نماز کیلئے کھڑے ہوجاتے اور دُعا میں مشغول ہوجاتے۔ حضرت حذیفہ ؓ روایت کرتے ہیں: ’’آپ ﷺ کو جب کوئی پریشانی کی بات پیش آتی تھی تو آپؐ نماز شروع کردیتے۔‘‘ (ابوداؤد) حضرت ابوالدرداء ؓ کی روایت ہے: ’’رسول اللہ ﷺ  کی عادت مبارکہ تھی کہ جب تیز ہوا والی رات ہوتی تو آپؐ کی پناہ گاہ مسجد ہوتی۔ آپؐ وہاں اس وقت تک تشریف رکھتے کہ ہوا ٹھہر جاتی، اگر آسمان میں سورج یا چاند کو گہن پڑتا تو نماز ہی کی طرف آپؐ کا رجوع ہوتا اور آپؐ اس وقت تک نماز میں مشغول رہتے کہ گہن ختم ہوجاتا۔‘‘  (طبرانی فی الکبیر) اس بناء پر اس وقت دُعا و مناجات، تلاوت ِ قرآن پاک، خاص طور پر ان آیات اور سورتوں کی تلاوت کا اہتمام کیا جانا چاہئے جن میں امن و امان اور فتح و نصرت کا مضمون آیا ہے، مثلاً الم تر کیف، لایلف  قریش اور آیت کریمہ کا ورد۔ (۲) دوسری شرط اور ضروری اور فوری قدم یہ ہے کہ معصیتوں سے توبہ کی جائے، گناہوں سے اجتناب اور احتراز برتا جائے اور حقوق کی ادائیگی ہو۔  اس سلسلہ میں خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ (م ۱۰۱ھ) کے اس ایک فرمان کا حوالہ دینے پر اکتفا کی جاتی ہے جو انہوں نے اپنی افواج کے ایک قائد کو بھیجا۔ وہ تحریر فرماتے ہیں  ’’ اللہ کے بندہ امیرالمومنین عمر کا یہ ہدایت نامہ منصور بن غالب کے نام، جبکہ امیرالمومنین نے ان کو اہل حرب سے اور ان اہل صلح سے جو مقابلہ میں آئیں جنگ کرنے کیلئے بھیجا ہے، امیرالمومنین نے ان کو یہ حکم دیا ہے کہ ہر حال میں تقویٰ اختیار کریں ، کیونکہ اللہ کا تقویٰ بہترین سامان، مؤثرترین تدابیر اور حقیقی طاقت ہے، امیرالمومنین ان کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنے اور اپنے ساتھیوں کیلئے دشمن سے زیادہ اللہ کی معصیت سے ڈریں، کیونکہ گناہ دشمن کی تدبیروں   سے بھی زیادہ انسان کیلئے خطرناک ہے۔ اپنے گناہوں سے زیادہ کسی کی دشمنی سے چوکنا نہ ہوں، جہاں تک ممکن ہو اپنے گناہوں سے زیادہ کسی چیز کی فکر نہ کریں۔‘‘ (سیرت عمر بن عبدالعزیز تاریخ دعوت و عزیمت ج۱) (۳) غیرمسلموں کو اسلام سے متعارف کرانے کی کوشش کریں اور ایسے کسی موقع کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ ہمارے پاس سب سے بڑی طاقت وہ فطری، معقول، پرکشش اور دل و دماغ کو تسخیر کرنے والا دین، قرآن مجید کا اعجازی صحیفہ اور نبی آخرالزماں ﷺ کی دلکش و دلآویز سیرت اور اسلام کی قابل فہم اور قابل عمل اور عقل سلیم کو متاثر کرنے والی تعلیمات ہیں، جو اگر کھلے دماغ اور صاف ذہن سے پڑھی جائیں تو اپنا اثر کئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ اس مقصد کیلئے اردو، انگریزی اور ہندی میں اسلام کے تعارف میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان سے کام لیا جاسکتا ہے۔ (۴) ان سب کے  ساتھ اس ملک میں جہاں صدہا سال سے مسلمان رہتے چلے آئے ہیں اور ان کو اسی ملک میں رہنا ہے، بقائے باہم انسانی اور شہری بنیادوں پر اتحاد و تعاون اور انسانی جان اور عزت و آبرو کے تحفظ اور انسان کے احترام اور اس سے محبت کی تبلیغ اور تلقین ضروری ہے جو اس ملک کی فضا کو مستقل طور پر معتدل اور پرسکون بلکہ پُرراحت اور باعزت رکھنے کی ضامن ہے ۔  (۵) ایک اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں (خاص طور پر جہاں وہ اقلیت میں ہیں) صلح پسندی، صبر و تحمل بلکہ ایثار و فیاضی کے ساتھ عزم و ہمت، صبر و ثبات، شجاعت و دلیری کی صفت ، راہِ خدا میں مصائب برداشت کرنے اور اس پر اللہ کے اجر و ثواب کی طمع اور جنت اور لقائے رب کا شوق  اور شہادت فی سبیل اللہ کے فضائل کا استحضار بھی موجود و زندہ رہنا چاہئے۔ اس کیلئے ان کو صحابۂ کرام ؓ کے حالات اور داعیانِ اسلام کے کارناموں کا مطالعہ اور ان کا سننا سنانا جاری رکھنا چاہئے جنہوں نے راہ خدا میں بڑی بڑی تکلیفیں  اٹھائیں اور قربانیاں دیں اور اس کو افضل اعمال اور قرب خداوندی و حصول جنت کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا۔  کچھ عرصہ پہلے تک پڑھے لکھے اور دیندار گھرانوں میں واقدی کی ’’فتح الشام‘‘ کا منظوم اردو ترجمہ ’’صمصام الاسلام‘‘ گھروں اور مجلسوں میں پڑھا جاتا تھا اور اس کا بڑا اثر پڑتا تھا، اب بھی ’’حکایات ِ صحابہؓ‘‘ از حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاسہارنپوریؒ ، ’’شاہنامۂ اسلام‘‘ از حفیظ جالندھری، راقم سطور کی کتاب ’’جب ایمان کی بہار آئی‘‘ سےیہ کام لیا جاسکتا ہے۔ ان کا مسجدوں، مجلسوں اور گھروں میں پڑھنے کا رواج ڈالنا چاہئے جیسا کہ پہلے تھا۔ (۶)  بڑی ضروری اور آخری بات یہ ہے کہ اس وقت ہر گھر کے ذمہ داروں، بچوں کے والدین اور موجودہ نسل کے لوگوں کو اپنے بچوں  اور اپنی آئندہ نسل کو دین کی ضروریات سے، اسلامی عقائد، دینی فرائض اور اسلامی اخلاق سے واقف کرانے اور بنیادی تعلیم دینے کی ذمہ داری خود قبول کرنا ہے اور ان پر لازم ہے کہ اس کو اپنا ایسا ہی انسانی و اسلامی فرض سمجھیں جیسا کہ بچوں کی خوراک  و غذا ، لباس و پوشاک، صحت اور بیماری کے علاج کی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں اور اس کا انتظام کرتے ہیں، بلکہ حقیقت میں دین کی ضرورت ، عقائد کی تعلیم اور صحیح اسلامی عقیدہ کی حفاظت اور تقویت کا کام ان  جسمانی و طبعی ضروریات کی تکمیل اور ان کے انتظام سے بھی زیادہ ضروری ہے، اس سے غفلت ان انسانی و جسمانی ضروریات کی تکمیل سے غفلت برتنے اور اس کے بارے میں سہل نگاری سے کام لینے سے زیادہ خطرناک اور برائے دائمی نتائج کا سبب ہے ۔ اس لئے کہ دینی تعلیم و تربیت اور صحیح اسلامی عقائد کا معاملہ ایک لافانی و ابدی زندگی  (حیات بعد الموت) کے انجام اور اچھے برے نتائج سے تعلق رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ صاف صاف ارشاد فرماتا ہے :
 ’’اے ایمان والو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے۔‘‘ (سورہ تحریم:۶)  اور صحیح حدیث میں آتا ہے: ’’تم میں سے ہر ایک، ایک حاکم اور زیر دست اور زیرفرمان لوگوں کے ذمہ دار کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر ایک سے اس کے زیراثر لوگوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘ اس حدیث مبارکہ سے روشنی حاصل کرتے ہوئے ہمیں گھر گھر، محلہ محلہ، مسجد مسجد، مکتب مکتب اور مدرسہ مدرسہ بچوں کی دینی تعلیم کا انتظام کرنا چاہئے اور ہر عاقل و بالغ مسلمان اور عیال دار آدمی کو یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK