Inquilab Logo Happiest Places to Work

نتیش، نائیڈو بتائیں کہ یہ کیوں ہوا؟

Updated: April 05, 2025, 1:23 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

پارلیمانی جمہوریت میں لازمی ہے کہ جو بھی قانون بنے، اس میں حکمراں طبقے اور حزب اختلاف کے درمیان اگر تمام باتوں پر نہیں تو کم از کم چند باتوں پر اتفاق ہو مگر اب ایسا لگتا ہے کہ اس ’’پرمپرا‘‘ کو فراموش کردیا گیا ہے۔ اب کسی بھی مسودۂ قانون پر برسر اقتدار طبقے اور حزب اختلاف میں عمودی لکیر کھنچ جاتی ہے۔

Photo: INN
تصویر:آئی این این

 پارلیمانی جمہوریت میں   لازمی ہے کہ جو بھی قانون بنے، اس میں   حکمراں   طبقے اور حزب اختلاف کے درمیان اگر تمام باتوں   پر نہیں   تو کم از کم چند باتوں   پر اتفاق ہو مگر اب ایسا لگتا ہے کہ اس ’’پرمپرا‘‘ کو فراموش کردیا گیا ہے۔ اب کسی بھی مسودۂ قانون پر برسر اقتدار طبقے اور حزب اختلاف میں   عمودی لکیر کھنچ جاتی ہے۔ اپوزیشن کو اسی بات کا شکوہ ہے کہ حکمراں   طبقہ اسے خاطر میں   نہیں   لاتا، اس کے مشوروں   اور تجاویز کو قبول نہیں   کرتا اور اس کا احترام نہیں   کرتا جبکہ اس کے اراکین کو  بھی عوام ہی نے چنا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے حکمراں   طبقے کے اراکین کو چنا ہے۔ وقف ترمیمی بل پر پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا میں   صورت حال ویسی ہی تھی جیسی اس سے قبل منظور کئے گئے بعض اہم اور حساس اور متنازع بلوں   پر بحث کے دوران دیکھی گئی تھی۔ قانون سازی کے درمیان دونوں   جانب کے اراکین کا اس طرح دو انتہاؤں   پر موجود ہونا پارلیمانی جمہوریت کے مستقبل کیلئے نیک شگون نہیں   ہے۔ اگر یہی حال رہا اور حکومت بدلی تو نئی حکومت جب تک سابقہ حکومت کے بنائے ہوئے قوانین کو بدل نہیں   لے گی کوئی اور کام نہیں   کرے گی اور اگر پانچ سال کے بعد اس حکومت کو بھی عوام نے بے دخل کردیا تو اس کے بعد آنے والی حکومت بھی یہی رویہ اپنائے گی۔ اس لئے بہتر ہے کہ حزب اقتدار و اختلاف کسی بھی بل کے سلسلے میں   پہلے صلاح مشورہ کریں  ، ایک دوسرے کی دلیلوں   کو سمجھیں  ، ماننے یا منوانے کا جذبہ رکھیں   اور ملک اور عوام کے مفاد کو مقدم جانیں  ۔ وقف بل کے معاملے میں   ایسا نہیں   ہوا، اپوزیشن کے اراکین کی ایک بھی دلیل نہیں   مانی گئی۔ 
 اب جبکہ یہ بل راجیہ سبھا میں   بھی منظور کرلیا گیا ہے یہ کہنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ وہ پارٹیاں   جنہوں   نے مسلم ووٹوں   سے کامیاب ہونے کے بعد مسلمانوں   کی اجتماعی نفسیات پر ضرب لگا ئی، مخالف خیمے میں   جا بیٹھیں  ، مسلم مفادات کے ساتھ بدترین سمجھوتہ کیا اور اپنے محسنوں   کو دھوکہ دیا، ان کے بارے میں   سوچا جانا چاہئے۔ بہار کی اقلیتوں   کو جے ڈی یو سے اور آندھرا کی اقلیتوں   کو ٹی ڈی پی سے وقف بل کی حمایت کیلئے جواب طلب کرنا چاہئے۔ اس وقت ہم اراکین شماری کے ذریعہ یہ نتیجہ نہیں   نکالنا چاہتے کہ اگر یہ پارٹیاں   بل کی مخالفت کرتیں   تو کیا ہوتا مگر ان کے سربراہان سے پوچھنا چاہتے ہیں   کہ آپ نے اس بل میں   ایسا کیا دیکھ لیا تھا کہ اس کی حمایت کو ضروری سمجھا؟ اگر نتیش کمار آپے میں   نہیں   ہیں   اور راشٹرگان کا احترام بھی نہیں   کررہے ہیں   تو چندر بابو نائیڈو کو کیا ہوا؟ وہ تو پورے ہوش و حواس میں   ہیں  ! ان کی کیوں   سمجھ میں   نہیں   آیا کہ وقف ترمیمی قانون اگر غیر آئینی ثابت ہوگیا تو کیا ان پر الزام نہیں   آئے گا کہ انہوں   نے ایک غیر آئینی عمل کا ساتھ دیا؟ کیا ان حضرات نے وقف بل پر مسلمانوں   کے موقف کو نہیں   سمجھا یا سمجھ کر ناسمجھی کا مظاہرہ کیا؟یہ اور ایسے سوالات ان سے لازماً کئے جانے چاہئیں   ورنہ جس طرح وقف معاملے میں   انہوں   نے بے اعتنائی کی، وہ آئندہ بھی ایسا کرسکتے ہیں  ۔
 بہار میں   تو نتیش کو سبق سکھانے کا موقع جلد آرہا ہے، آندھرا میں   وقت ہے مگر نائیڈو کی حمایت کرنے والی آندھرا کی اقلیتوں   کو ٹی ڈی پی کے اعلیٰ عہدیداران سے یا براہ راست اعلیٰ کمان سے پوچھنا چاہئے کہ جو ہوا کیوں   ہوا اور آپ نے ایسا کیوں   کیا؟ جے ڈی یو کے کئی لیڈران نے برہمی ظاہر کی ہے۔ ٹی ڈی پی لیڈروں   کو بھی آگے آنا چاہئے کہ کبھی کبھی سیاسی مفاد سے بلند ہوکر ہی سربلند ہوا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK