۲۴؍ مارچ کو چھتیس گڑھ اسمبلی کی ۲۵؍ ویں سالگرہ پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو ریاستی راجدھانی رائے پور میں تھیں اور اُن سے ملنے کیلئے بیقرار تھے دو ہزار ۸۹۷؍ اساتذہ۔ اپنی بیقراری کے اظہار کیلئے اُنہوں نے عجیب و غریب طریقہ اختیار کیا۔ وہ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے ودھان سبھا کی طرف بڑھے مگر پولیس نے اُنہیں کچھ فاصلے (توتا دھرنا استھل) پر روک دیا۔
۲۴؍ مارچ کو چھتیس گڑھ اسمبلی کی ۲۵؍ ویں سالگرہ پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو ریاستی راجدھانی رائے پور میں تھیں اور اُن سے ملنے کیلئے بیقرار تھے دو ہزار ۸۹۷؍ اساتذہ۔ اپنی بیقراری کے اظہار کیلئے اُنہوں نے عجیب و غریب طریقہ اختیار کیا۔ وہ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے ودھان سبھا کی طرف بڑھے مگر پولیس نے اُنہیں کچھ فاصلے (توتا دھرنا استھل) پر روک دیا۔ ان اساتذہ کا مسئلہ یہ ہے کہ دسمبر ۲۴ء میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ بنیادی تعلیم پر مامور اساتذہ کا ڈی ایل ڈی (ڈپلوما اِن ایلیمنٹری ایجوکیشن) ضروری ہے۔ اس فیصلے کے پیش نظر ریاستی حکومت نے اِن اساتذہ کو برخاست کردیا۔ تبھی سے یہ الگ الگ طریقوں سے حکومت کو متوجہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اُن کے مطالبات سنے جائیں ، اُنہیں بیچ راستہ میں نہ چھوڑا جائےاور اگر بحالی نہیں ہوسکتی تو کسی دوسری تدبیر (ایڈجسٹمنٹ) کے ذریعہ اُن کی ملازمت جاری رکھی جائے۔ وہ صدر جمہوریہ سے ملاقات کرکے اُنہیں اپنی بپتا سنانا چاہتے تھے مگر انتظامیہ نے تپتی دھوپ میں گھٹنوں کے بل چل کر آنے کی حقیقت کا علم ہونے کے باوجود اُنہیں اجازت نہیں دی۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ صدر صاحبہ کا تعلق ادیباسی سماج سے ہے اور مذکورہ پونے تین ہزار اساتذہ میں سے بیشتر کا تعلق بھی اسی سماج سے ہے۔ علاوہ ازیں یہ معلم ہیں اور محترمہ صدر جمہوریہ بھی معلم رہ چکی ہیں ۔
ایک اور ستم ظریفی ہر خاص و عام پر ظاہر ہے کہ ریاستی حکومت سے لے کر مرکزی حکومت تک، جتنے وزراء اور عوامی نمائندے ہیں سب ادیباسی مفادات کی بات کرتے ہیں مگر اُن میں کوئی نہیں ہے جو ان کے مطالبہ پر کان دھرے۔ گھٹنوں کے بل چل کر وِدھان سبھا جانے کے حالیہ مظاہرہ سے قبل انہوں نے ۳۵۰؍ کلومیٹر کی پد یاترا کی، جل ستیہ گرہ کیا، بھوک ہڑتال کی، ایک ایسی یاترا بھی ان کے سلسلۂ احتجاج کا حصہ رہی جس میں وہ پیروں سے چلتے ہوئے نہیں بلکہ اِس طرح جیسے ’’ پُش اَپ‘‘ کرتے ہیں ، آگے بڑھ رہے تھے۔ اُنہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ کی خدمت میں ایسے خطوط بھی روانہ کئے جو خون سے لکھے ہوئے تھے مگر اُن کی اب تک تو نہیں سنی گئی ہے۔ بعض میڈیا رپورٹوں میں مظاہرہ میں شامل ایک معلم کا بیان درج کیا گیا ہے کہ ’’سرکار ہمیں صرف اتنا بتا دے کہ ہمارا قصور کیا ہے۔‘‘ ایک اور معلم کا یہ کہنا دل کو لگتا ہے کہ ’’مظاہرہ وہ لوگ کررہے ہیں جنہوں نے بچوں کے خوابوں کو پَر عطا کئے اور اُنہیں پرواز کے قابل بنایامگر آج گھٹنوں پر رینگ رہے ہیں ۔ (’’دی مو‘ک نایک‘‘ کی رپورٹ) اس مظاہرہ کی جو تصویریں ہم نے دیکھی ہیں اُن میں مرد ہی نہیں خواتین بھی ہیں جو گھٹنوں پر چل رہی ہیں ۔
حکومت سے یہ سوال کیا جانا چاہئے کہ اِن اساتذہ کی برخاستگی سے پیدا شدہ تدریسی خلاء کو کیسے پُر کیا جائیگا؟ کتنے طلبہ کا نقصان ہوگا اور کب تک ہوتا رہے گا؟ ہم یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر ان کا بطور معلم برقرار رہنا مناسب نہیں تو کیا انہیں کسی بھی دوسرے شعبے میں مامور نہیں کیا جاسکتا؟ ہم نے سیاسی ردعمل کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ موجودہ حکومت سابق وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے جبکہ بھوپیش بگھیل سابقہ حکومت کو۔ اس الزام تراشی سے کسی ایک معلم کا بھی فائدہ نہیں ہوسکتا، فائدہ تب ہوگا جب موجودہ حکومت ان کیلئے کوئی ٹھوس قدم اُٹھائیگی جس کے آثار دکھائی نہیں دیتے ۔