• Sat, 22 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرا ماضی کتنا امیر تھا، مَیں غریب ہوں!

Updated: February 15, 2025, 1:21 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

عنقریب (۲۱؍ فروری کو) عالمی یوم مادری زبان منایا جائیگا۔ اسی مناسبت سے یہ مضمون قلمبند کیا گیا ہے تاکہ لوگ مادری زبان کی اہمیت کو سمجھیں، خود بھی سیکھیں اور نئی نسل کو بھی سکھائیں۔ جو لوگ مادری زبان کی قدر نہیں کرتے اُن کی مثال ماں کی قدر نہ کرنے والوں جیسی ہے۔

Photo: INN
تصویر:آئی این این

ایک  دِن حضرت داغؔ کا کلام زیر مطالعہ تھا۔ اُن کی مشہور غزل ’’فلک دیتا ہے جن کو عیش اُن کو غم بھی ہوتے ہیں ‘‘ سامنے تھی۔ اچانک ایک مصرعے پر ٹھہرنا پڑا۔ اس کی وجہ وہ لفظ تھا جو داغ نے بطور قافیہ باندھا تھا۔ ہم، غم، ماتم، مرہم کے قوافی میں  ایک قافیہ تھا ’’تواَم‘‘۔ اس لفظ سے میری شناسائی نہیں  تھی۔ فوراً لغت اُٹھائی۔ تواَم کا معنی معلوم ہوا تو خوشی بھی ہوئی اور شعر بھی سمجھ میں  آگیا۔ خوشی اس لئے ہوئی کہ میرے  ذخیرۂ الفاظ میں  نئے لفظ کا اضافہ ہوا تھا۔  تواَم کا معنی ہے جڑواں  ( ایک ساتھ پیدا ہونے والے بھائی بہن) جنہیں  اب اکثر گھروں  میں  جڑواں  بھی نہیں  ’’ٹووِنس‘‘ کہا جاتا ہے۔
 کہنے کی ضرورت نہیں  کہ اُردو سے میرا تعلق تب سے ہے جب مَیں  چشم حیرت سے اِس دُنیا کو دیکھ رہا تھا اور شعور نے آنکھ نہیں  کھولی تھی۔ تب سے لے کر اب تک ہزاروں  الفاظ سیکھے اس کے باوجود آج بھی ایسے مواقع آتے ہیں  جب لغت اُٹھانی پڑتی ہے۔بسا اوقات لغت ہی میں  کھو جاتا ہوں  اور اصل تحریر، مقالہ یا کتاب دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ یہ کیفیت تب بھی ہوتی ہے جب انگریزی کا کوئی مقالہ یا کتاب زیر مطالعہ ہوتی ہے مگر انگریزی کے نئے الفاظ سے آشنائی حاصل کرکے اُس فرحت و مسرت کا احساس نہیں  ہوتا جو اُردو الفاظ سیکھ کر ہوتا ہے۔ شاید اس لئے کہ اُردو مادری زبان ہے۔ میرے لئے کسی نئے لفظ سے ملنا، اُس کا معنی جاننے کی کوشش کرنا اور اُس سے لطف اندوز ہونا ایسا مداوا ہے جس کیلئے نئے دور کے لوگ نت نئے حربے آزماتے ہیں  اور اُن حربوں  کو ’’اسٹریس بسٹر‘‘ کہتے ہیں  یعنی ذہنی تکان دور کرنے کی تدبیر۔ آج کل، کام کے دوران کچھ نہیں  تو موبائل گیمس کے ذریعہ ہی لوگ اسٹریس سے نمٹنے لگتے ہیں ، میرا گیم نیا لفظ ہے اور یقین جانئے اس سے اتنی مسرت حاصل ہوتی ہے کہ تکان کبھی نہیں  ہوتی۔
  اس کی وجہ میلان طبع ہے۔ اکثر کوئی نیا لفظ سیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ اُردو زبان کو سیکھنے کی طرح نہ سیکھ کر اُردو والے اپنا کتنا نقصان کرتے ہیں ۔ اس زبان میں  ایسے ایسے الفاظ ہیں  کہ اُنہیں  دیگر زبانوں  کے مقابلے میں  رکھا جاسکتا ہے مثلاً ایک مرکب لفظ ہے ’’نقطۂ نوگریز‘‘(فیروز اللغات صفحہ ۱۴۳۹؍)۔ اس کا معنی ہے روشنائی کی وہ بوند جو قلم کی نوک سے کاغذ پر ٹپک پڑے۔ اس میں  شک نہیں  کہ اب روشنائی والا وہ قلم نہیں  رہ گیا ہے جس کی نوک سے روشنائی کی بوند کاغذ پر ٹپک جایا کرتی تھی مگر لفظ موجود ہے جس کو عوامی حافظے میں  رہنا چاہئے کہ نئے دور کا بھروسہ نہیں  ہے، اس میں  پرانی چیزیں  بھی لوٹ کر آتی ہیں ، کیا عجب کہ روشنائی والا قلم نئی تہذیب کے زیر اثر (بطور فیشن) از سرنو چلن میں  آجائے!
 مطالعہ کے دوران قلم کاغذ یابیاض لازماً میرے پاس ہوتے ہیں ۔ جب بھی کوئی نیا لفظ گزرتا ہے اُسے لکھ لیتا ہوں ، کوشش کرتا ہوں  کہ معنی کے ساتھ لکھوں  اور یہ بھی درج کرلوں  کہ لفظ کس سیاق میں  آیا ہے۔ کبھی کبھی حوالہ لکھنا رہ جاتا ہے مثلاً شعر نقل کرلیا مگر نیا لفظ سیکھنے کے جوش میں  یہ نہیں  لکھا کہ شاعر کون ہے۔ ایسا ہی ایک شعر: 
بے سود ہے تیرا گلہ ٔ تلخ کلامی
حنظل سے سوا تلخ ہے جو بات کھری ہے
بیاض میں  یہ شعر لفظ ’’حنظل‘‘ کی وجہ سے نقل کیا گیا تھا، اب تلاش کررہا ہوں  تو شاعر کا نام نہیں  مل رہا ہے۔اُس وقت حنظل میرے لئے نیا لفظ تھا۔ یہ ایک پھل ہے جو بہت کڑوا ہوتا ہے۔ اسے اندرائن کا پھل بھی کہتے ہیں ۔ میری بیاضوں  میں  ایسے اور بھی کئی الفاظ جا بہ جا لکھے ہوئے ملیں  گے، مثلاً خفا ّش (چمگادڑ)، غِربال ( چھلنی، نہ صبر در دل عاشق نہ آب در غربال یعنی عاشق کے دل میں  صبر اور چھلنی میں  پانی نہیں  ٹھہرتا)، نجیب الطرفین (ایسا شخص جس کے ماں  باپ دونوں  اچھے حسب نسب کے ہوں )، صحنک (چھوٹی رکابی، طباق، طشتری) اور ایسے ہی درجنوں  الفاظ۔ مَیں  ہر اُس شخص کو غریب مانتا ہوں  جس کے پاس مادری زبان کے الفاظ کا ذخیرہ بہت محدود ہے اور جسے گفتگو میں  غیر زبانوں  کے الفاظ کا سہارا لینا پڑے۔ غریب وہ بھی ہے جو استطاعت (قوت خرید) کے باوجود بازار سے ضرورت کی اشیاء کے بجائے ایسی چیزیں  خریدنے کا شائق ہو جن کا نئے دور میں  رواج ہے اور جن سے نام نہاد معیارِ زندگی جھلکتا ہے۔ زبان کے معاملے میں ، ایسا شخص مادری زبان کے الفاظ استعمال کرنے کی قدرت کے باوجود دوسری زبانوں  کے الفاظ محض اس لئے استعمال کرتا ہے کہ اَوروں  پر رعب ڈال سکے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ، اسرائیل اور مملکت فلسطین

 یاد رہنا چاہئے کہ آدمی زرِ کثیر و قلیل ہی سے امیر یا غریب نہیں  ہوتا، وہ الفاظ کے معاملے میں  بھی امیر یا غریب ہوتا ہے۔ دورِ حاضر کے بہت سے گھروں  میں  لوگ اپنے بچوں  کے سامنے مادری زبان کے الفاظ کم اور انگریزی کے الفاظ زیادہ استعمال کرتے ہیں ۔ وہ ڈرتے ہیں  کہ بچے اُردو بولنے لگیں  گے تو عملی زندگی کے بازار میں  اُن کی قدر کم ہوجائیگی یا وہ حاشئے پر رہ جائینگے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مادری زبان میں  جو جتنا طاق ہوگا، علوم ِ قدیم و جدید کے حصول میں  اُسے اُتنی سہولت ہوگی۔مادری زبان وہ بنیاد ہے جو جتنی مضبوط ہوگی، اُس پر تعمیر ہونے والی عمارت اُتنی ہی مستحکم قرار پائے گی، اس میں  الگ الگ زبانوں  کےمنزلے ہوسکتے ہیں  اور الگ الگ منزلوں  پر متعلقہ زبانوں  کے کمرے جنہیں  آپ اپنی دلچسپی سے جتنا وسیع و عریض بنانا چاہیں  وہ اُتنے وسیع و عریض ہوسکتے ہیں  اور ہوا نیز روشنی کیلئے جتنے روزن و روشن دان رکھنا چاہیں  وہ اُتنے ہوسکتے ہیں ، ہوا ہی ہوا، روشنی ہی روشنی، کوئی فکر نہیں  کہ جب تک بنیاد مضبوط ہے، عمارت کی مضبوطی پر حرف نہیں  آئے گا،ہوا اور روشنی کی افراط رہے گی۔ 
 عمارت اور مکان کی مثال آگئی ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ میری نگاہ میں  مادری اور غیر مادری زبان میں  ذاتی اور کرائے کے مکان کا فرق ہے۔ اگر کوئی شخص کرائے کے مکان کو عملاً ذاتی تصور کرنے لگے تو خود فیصلہ کرلیجئے کہ آپ اُسے کیا کہیں  گے۔ اہل اُردو نے وقت کے ساتھ اُردو کو ترک کرنا اپنا شعار بنالیا ہے، آٹے میں  نمک کے برابر لوگ ہونگے جو اپنی زبان کے الفاظ سیکھنے کو بطور مشعلہ اپناتے ہوں  گے۔ اہل اُردو کا شعار یہ ہونا چاہئے کہ جتنی انگریزی سیکھ سکتے ہیں  سیکھیں  مگر اُردو کو بالائے طاق رکھ کر نہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK