Inquilab Logo Happiest Places to Work

’سائبر کرائم‘ کی نئی نئی شکلیں اور سادہ لوح عوام

Updated: April 04, 2025, 1:17 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

سائبر فراڈ کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ عوام کو متنبہ کر رہی ہیں مگر اس کا اثر نظر نہیں آرہا ہے۔ اس مضمون میں سائبر کرائم کی تفصیلات بیان کی گئی ہے۔

Photo: INN
تصویر:آئی این این

’’سائبر کرائم‘‘ سے بچنے کیلئے وزارت داخلہ مستقل اور مسلسل انتباہ دے رہی ہے۔ پولیس نے بھی بڑی بڑی ہورڈنگ لگائی ہیں  جن میں  سائبر کرائم کی مختلف نوعتیں  اور سائبر کرائم کرنے والوں  سے بچنے کیلئے شکایت درج کرنے کے محکمے اور ان کے نام و نمبر درج ہیں ۔ یقیناً یہ اچھے اقدامات ہیں  اور ان کیلئے حکومت، وزارت داخلہ اور محکمۂ پولیس کی ستائش ہونی چاہئے لیکن سوال یہ ہے کہ اتنا کرنے کے باوجود سائبر کرائم کے واقعات بڑھتے کیوں  جا رہے ہیں ؟ ایک شخص اپنے کام میں  مشغول ہوتا ہے کہ اس کے پاس فون آتا ہے کہ گھنٹہ بھر میں  تمہارے موبائل نمبر بند کر دیئے جائینگے۔ وہ شخص اگر بہت بہادر ہے اور گھبرانے کے بجائے ٹیلی فون کرنیوالے سے کہتا ہے کہ وہ پولیس سے رجوع کریگا تو اس سے کہا جاتا ہے کہ پولیس بھی سائبر کرائم کے محکمے میں  ہی بھیجے گی؟ میں  خود ہی تمہیں  اس محکمے سے جوڑ دیتا ہوں ۔ آپ یہ سمجھتے ہیں  کہ جو شخص لائن پر ہے وہ مدد کر رہا ہے مگر اصل میں  وہ آپ کو ڈرانے دھمکانے کا کام کرتا ہے۔ بچوں  کا گلا کاٹے جانے کی دھمکی دیتا ہے۔ موبائل کو جوڑ کر گھر بھر کی سرگرمیوں  کا جائزہ لیتا ہے، آپ کو کسی بڑے بینک فراڈ کرنے والے سے جوڑتا ہے، خود سی بی آئی افسر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، آن لائن گرفتاری بتاتا ہے پھر ہمدردی کرتے ہوئے جسٹس کے سامنے پیش کرنے اور آپ کی درخواست ضمانت رد کراتا ہے اور جھانسہ اور دھمکی دے کر ایک بڑی رقم کسی ایسے اکاؤنٹ میں  ٹرانسفر کرنے کو کہتا ہے جو آپ کا نہیں  ہے اور جس کے بارے میں  آپ جانتے بھی نہیں  ہیں  تو جھانسے میں  نہ آئے اور اپنے وکیل یا حلقے کے پولیس افسران سے مدد لیجئے۔
 ایسے جھانسے بہت سے لوگوں  کے سنڈیکیٹ اور بڑے افسروں  کے ملے بغیر ہو ہی نہیں  سکتے۔ زیادہ تر بڑی عمر کے لوگ اس قسم کے جھانسوں  اور دھمکیوں  کا شکار ہوتے ہیں ۔ فون کرنے والے کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ میں  کتنے روپے ہیں ، آپ کیا کرتے ہیں  اور جس بینک میں  آپ کے سیلف چیک سے روپیہ ٹرانسفر ہوتا ہے وہ بھی اسی سنڈیکیٹ کا حصہ ہوتا ہے۔ ایسا کرنے والے اتنا بے خوف ہوتے ہیں  کہ وہ بینک منیجر، پولیس افسر اور دیگر ذمہ داروں  کو بھی شک کے دائرے میں  لیتے ہیں  اور برملا دعویٰ کرتے ہیں  کہ ان کی ملی بھگت کے بغیر یہ ہو ہی نہیں  سکتا۔ آپ پولیس اور وکیل کے پاس جاتے ہیں  تو ان کے سوالوں  کے جواب دینے سے قاصر ہو کر آپ خود اپنی حماقت پر سر پیٹنے لگتے ہیں ۔ پولیس یا وکیل کو کون بتائے کہ بچوں  کے مارے جانے کی دھمکی یا بینک فراڈ کرنے والے کے ساتھ اپنا نام جوڑے جانے سے ایک شریف اور معصوم شخص کا خاص طور سے اس صورت میں  کہ اس کی عمر زیادہ ہو ذہن کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے ہاتھ سے چیک لکھ کر ایسے اکاؤنٹ میں  ٹرانسفر کر دیتا ہے جس کے یا جس کے اکاؤنٹ ہولڈر کے بارے میں  وہ جانتا ہی نہیں  ہے۔ لیکن کیا بینک افسر کی جانکاری کے بغیر کوئی اکاؤنٹ کھولا اور اس اکاؤنٹ میں  ایک غیر شخص کا روپیہ ٹرانسفر کیا جاسکتا ہے؟ بینک یہ تو پوچھ ہی سکتا ہے کہ جس شخص کا اکاؤنٹ ہی نہیں  ہے اس شخص نے سیلف چیک اس اکاؤنٹ کے لئے کیسے دیا ہے؟ اس کا یہ نہ پوچھنا ثابت کرتا ہے کہ فون کرنے والے کا یہ الزام یا بیان صحیح ہے کہ سب کچھ بڑے پیمانے پر اور بہت سے لوگوں  کے سنڈیکیٹ میں  ایک دوسرے کی مدد کرنے کے سبب ہوتا ہے۔ ایسے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں  اور لوگ اپنی حماقت سمجھ کر رپورٹ بھی نہیں  کرتے یا قانونی چارہ جوئی نہ کرنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں  ڈر ستاتا ہے کہ وہ پولیس کے سوالوں  کا جواب نہیں  دے سکیں  گے۔
 بینک میں  جمع رقم کی تفصیل کے ساتھ فون کرنے والے کے پاس اس کا آدھار نمبر بھی ہوتا ہے جس کو وہ فون کرتے ہیں ۔ فون اٹھانے والوں  کے سامنے ایسی تصویریں  بھی آتی ہیں  کہ ایک افسر آدھار نمبر کے سلسلے میں  تفصیل طلب کرتا ہے اور ایک دوسرا افسر جس کی تصویر آپ دیکھتے ہیں  کہتا ہے کہ مطلوب شخص فلاں  معاملے میں  مطلوب ہے اس کو گرفتار کر لو۔ فون کرنے والا شخص ہی کہتا ہے کہ چونکہ آپ سینئر سٹیزن ہیں  اس لئے ہم آپ کی ضمانت کروانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وقت مقررہ پر آپ کو آن لائن سپریم کورٹ میں  پیش کرنے اور ضمانت منظور نہ کئے جانے کا ڈرامہ کیا جاتا ہے۔ آپ اپنی آنکھوں  سے دیکھتے ہیں  کہ عدالت لگی ہوئی ہے اور کانوں  سے سنتے ہیں  کہ Bail is Rejected یعنی ضمانت نامنظور کی جاتی ہے۔ یہ سب دیکھنے سننے والا ذہنی پریشانیوں  میں  مبتلا ہوتا ہے مگر اس کو دھمکی دی جاتی ہے کہ National Interest یعنی قومی مفاد میں  وہ خاموش رہے اور کسی سے کچھ نہ کہے ورنہ فراڈ کرنے والوں  کا گینگ اس کے بچوں  کا گلا کاٹ کر مار ڈالے گا اور گردہ غیر ملک میں  بیچ ڈالے گا۔

یہ بھی پڑھئے : حماس اَور اسرائیل کی دوبارہ جنگ؟

 ان دھمکیوں  اور پریشانیوں  سے ابھی آپ باہر نہیں  آتے کہ آپ سے کہا جاتا ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ میں  اتنا روپیہ ہے یا آپ ہی سے پوچھ کر کہ آپ کے اکاؤنٹ میں  کتنا روپیہ ہے وہ ایک بڑی رقم ٹرانسفر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے کہ دیش کے دشمنوں  کو پکڑنے میں  مدد کیجئے۔ سب کچھ اتنے منظم طریقے سے ہوتا ہے کہ وقتی طور پر انسان فیصلہ نہیں  کرپاتا کہ وہ کیا کرے اور اس طرح فراڈ یا سائبر کرائم کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد آپ کی ذہنی حالت ایسی رہ جاتی ہے کہ آپ پولیس کے پاس جائیں  نہ اتنے روپے ہوتے ہیں  کہ وکیل کی مدد لیں ۔ ’جرم‘ کرنے والوں  کے پاس سو بہانے ہوتے ہیں  کہ روپیہ انہوں  نے خود ٹرانسفر کیا ہے۔ ایسے بھی معاملات سامنے آئے ہیں  کہ فون کرنے والے نے کہا کہ آپ فحش فلم دیکھتے ہوئے پکڑے گئے ہیں  اور پھر دھمکی دے کر کام نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ’ڈیپ فیک‘ اور اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت سے جرائم کرنے والوں  کو کس طرح مدد مل رہی ہے اور سادہ لوح افراد کس طرح تباہ کئے جا رہے ہیں  اس کا اندازہ مندرجہ بالا تفصیلات اور سوالات سے کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان سے بچا کیسے جائے؟ جیسا کہ شروع میں  ہی کہا جاچکا ہے کہ وزارت داخلہ اور پولیس کے اقدامات بہت قابل قدر ہیں  مگر تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ناکافی ہیں ۔ حکومت اور محکمۂ پولیس کو چاہئے کہ سائبر فراڈ میں  ملوث تمام لوگوں  کا گلا ناپے۔ ایک پریشاں  حال اور تباہ شخص سے یہ امید نہیں  کی جاسکتی کہ وہ لفظ بہ لفظ یہ بتائے گا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا کہ اس نے خود ایک بڑی رقم ایک گمنام شخص کے کھاتے میں  ٹرانسفر کر دی۔ یہ تو بینک سے پوچھا جانا چاہئے کہ اس نے کس کا کھاتہ کھولا اور دوسرے کے کھاتے میں  سیلف چیک کے ذریعہ کیسے روپیہ ٹرانسفر کیا؟

crime news Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK