جو شخص علم حاصل کرنا چاہے اُس کیلئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کا دامن تھام لے

Updated: November 19, 2021, 4:21 PM IST | Dr Tahir-ul-Qadri

قرآن میں یا تو ہر چیز کا ذکر صراحت کے ساتھ ملے گا یا اُس کی اصل ضرور موجود ہو گی۔ اگر قدرت کی طرف سے کسی کو نورِ بصیرت حاصل ہو، اِنشراحِ صدر ہو چکا ہو، حجابات اُٹھ چکے ہوں اور ربِّ ذوالجلال نے اُس کے سینے کو قرآنی معارف کا اَہل بنا دیا ہو تو اُسے ہر شئے کا تفصیلی بیان بھی نظر آتا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 اَشرف المخلوقات بنی نوع اِنسان سے اللہ ربّ العزت کا آخری کلام حتمی وحی قرآنِ مجید کی صورت میں قیامت تک کے لئے محفوظ کر دیا گیا۔ چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی آخری وحی ہے اور اُس کے بعد سلسلۂ وحی ہمیشہ کے لئے منقطع ہو گیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اُس میں قیامت تک وُقوع پذیر ہونے والے ہر قسم کے حقائق کا علم جمع کر دیا ہے۔ کلامِ اِلٰہی کی جامعیت بنی نوعِ انسان کے لئے روزِ قیامت تک کے لئے رہنمائی کی حتمی دستاویز ہے جو عقلی و نقلی ہر دو قسم کے علوم کو محیط ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو اوّل سے آخر تک اصلاً تمام حقائق و معارف اور جملہ علوم و فنون کی جامع ہے۔ قرآن خود کئی مقامات پر اِس حقیقت کی تائید کرتا ہے۔
اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :’’اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے۔‘‘(النحل:۸۹)
شئ کے لفظ کا اِطلاق کائنات کے ہر وجود پر ہوتا ہے، خواہ وہ مادّی ہو یا غیرمادّی۔ جو چیز بھی ربِ ذُوالجلال کی تخلیق ہے ’شئ‘ کہلاتی ہے، چنانچہ ہر شئے کا تفصیلی بیان قرآن کے دامن میں موجود ہے۔
اِرشاد فرمایا گیا ہے :’’اور (قرآن) ہر شئے کی تفصیل ہے۔‘‘ (یوسف:۱۱۱)ایک اور مقام پر اِرشاد ہے :’’ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی (جسے صراحۃً یا کنایۃً بیان نہ کر دیا ہو)۔‘‘(الانعام، 6 : 38)
چونکہ اَزل سے ابد تک جملہ حقائق اور مَا کَانَ وَ مَا یَکُوْن کے جمیع علوم قرآنِ مجید میں موجود ہیں اِس لئے اِس حقیقت کو اِس انداز سے بیان کیا گیا ہے :’’اور نہ کوئی تر چیز ہے اور نہ کوئی خشک چیز مگر روشن کتاب میں (سب کچھ لکھ دیا گیا ہے)۔‘‘(الانعام، 6 : 59)
اِس آیتِ کریمہ میں دو لفظ رَطْبٍ اور یَابِسٍ اِستعمال ہوئے ہیں۔ رطب کا معنی تر ہے اور یابس کا خشک۔ یہ آیت قرآنی اِیجاز اور فصاحت و بلاغت کی دلیلِ اتم ہے کیونکہ کائناتِ ارض و سماء کا کوئی وجود اور کوئی ذرّہ ایسا نہیں جو خشکی اور تری کی دونوں حالتوں سے خارِج ہو۔ بحر و بر، شجر و حجر، زمین و آسمان، جمادات و نباتات، جن و اِنس، خاکی ذرّات اور آبی قطرات، حیوانات اور دِیگر مخلوقات الغرض عالمِ پست و بالا کی جس شے کا بھی تصوّر کر لیجئے وہ یا تو خشک ہو گی یا تر یا دونوں حالتوں کا مرکب ہو گی۔ قرآن نے صرف دو لفظ وَلَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِستعمال کر کے درحقیقت ساری کائنات کے ایک ایک ذرّے کا بیان کر دیا کہ اُس کا علم قرآن میں موجود ہے۔
ایک اور مقام پر اِرشاد فرمایا گیا ہے :’’اور ہم نے (قرآن میں) ہر چیز کو پوری تفصیل سے واضح کر دیا ہے۔‘‘(بني اِسرائيل، 17 : 12)
علامہ ابنِ برہان اِسی کی تائید میں فرماتے ہیں :’’کائنات کی کوئی شئے ایسی نہیں جس کا ذِکر یا اُس کی اصل قرآن سے ثابت نہ ہو۔‘‘ 
گویا قرآن میں یا تو ہر چیز کا ذکر صراحت کے ساتھ ملے گا یا اُس کی اصل ضرور موجود ہو گی۔ یہ بات لوگوں کی اپنی اپنی اِستعداد و صلاحیت، فہم و بصیرت اور قوتِ اِستنباط و اِستخراج کے پیشِ نظر کہی گئی ہے کیونکہ ہر کوئی ہر شئے کی تفصیل قرآن سے اَخذ کرنے کی اِستعداد نہیں رکھتا۔اگر قدرت کی طرف سے کسی کو نورِ بصیرت حاصل ہو، اِنشراحِ صدر ہو چکا ہو، حجابات اُٹھ چکے ہوں اور ربِّ ذوالجلال نے اُس کے سینے کو قرآنی معارف کا اَہل بنا دیا ہو تو اُسے ہر شئے کا تفصیلی بیان بھی نظر آتا ہے۔اِسی موقع پر اِمام سیوطی ؒفرماتے ہیں کہ اصلاً ذِکر کا معنی یہ ہے :
’’کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کا اِستخراج و اِستنباط آپ قرآن سے نہ کر سکیں لیکن یہ علوم و معارف اُسی پر آشکار ہوتے ہیں جسے ربِّ ذُوالجلال خصوصی فہم سے بہرہ وَر فرما دیں۔‘‘
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ جلیلُ القدر صحابی ہیں جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترجمانُ القرآن کے لقب سے سرفراز فرمایا تھا۔ اُن کے بارے میں جبریلِ امین نے یہ خوشخبری بھی دی تھی :
’’وہ (عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ) اِس اُمت کے سب سے بڑے عالم ہیں۔‘‘
آپ فرماتے ہیں :’’(صحبت ِ نبویؐ کے فیضان سے مجھے قرآن کی اِس قدر معرفت حاصل ہو چکی ہے کہ) میرے اُونٹ کی رسی بھی گم ہو جائے تو قرآن کے ذریعے تلاش کر لیتا ہوں۔‘‘(الاتقان)
اُونٹ کی رسی کا گم ہونا کتنا معمولی واقعہ ہے لیکن اہلِ بصیرت اَیسا معمولی سے معمولی واقعہ اور حادثہ بھی قرآن سے معلوم کر لیتے ہیں۔ محقق بن سراقہ ’کتابُ الاعجاز‘ میں جامعیتِ قرآن پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :’’کائنات میں کوئی شئے اَیسی نہیں جس کا ذِکر قرآن میں موجود نہ ہو۔‘‘اِس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر کوئی شئے قرآن میں مذکور نہ ہو تو وہ کائنات میں موجود نہیں ہو سکتی، گویا قرآن میں کسی چیز کا مذکور نہ ہونا کائنات میں اُس کے موجود نہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ قرآن کی جامعیت کا یہ عالم ہے کہ اُس میں کسی چیز کے ذِکر یا عدمِ ذِکر کو کائنات میں اُس کے وُجود و عدم کی دلیل تصوّر کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِمام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے جامعیتِ قرآن کی نسبت یہ دعویٰ کیا :
’’جس چیز کی نسبت چاہو مجھ سے پوچھ لو، میں تمہیں اُس کا جواب قرآن سے دوں گا۔‘‘آپ نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی اپنی کتاب ’الام‘ میں نقل فرمایا ہے :’’آج تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث مجھے ایسی نہیں ملی جس کا واضح مصداق میں نے قرآن مجید میں نہ پایا ہو۔‘‘
تمام آسمانی کتابوں کے ثمرات و مطالب اور علوم و معارف کی جامع بھی یہی کتاب ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں نازل فرمائیں، جن میں کائنات کے تمام علوم و معارف بیان کر دیئے۔ پھر اُن تمام علوم کو چار کتابوں (تورات، زبور، انجیل اور قرآن) میں جمع کر دیا۔ پھر اُن میں سے پہلی تین کتابوں کے تمام معارف کو قرآنِ حکیم میں جمع فرمایا اور یوں یہ قرآن ایسی جامع کتاب قرار پائی۔ 
ابنِ ابی الفضل المرسی  فرماتے ہیں :’’اِس قرآن نے اوّل سے آخر تک، اِبتداء سے اِنتہا تک کائنات کے تمام علوم و معارف کو اپنے اندر اِس طرح جمع کر لیا ہے کہ فی الحقیقت خدا اور اُس کے بعد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا اُن علوم کا اِحاطہ نہ کوئی آج تک کر سکا اور نہ کر سکے گا۔‘‘
چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اِس سلسلے میں مروِی ہے :’’جو شخص علم حاصل کرنا چاہے اُس کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کا دامن تھام لے کیونکہ اِسی قرآن میں ہی اوّل سے آخر تک سارا علم موجود ہے۔‘‘
تمام ظاہری و باطنی علوم و معارف کا جامع ہونا، تمام موجوداتِ عالم کے اَحوال کا جامع ہونا اور تمام آسمانی کتابوں کے ثمرات و مطالب کا جامع ہونا، یہ وہ نمایاں خصوصیات تھیں جن کے باعث اِس مقدس کتاب کا نام اللہ تعالیٰ نے ’القرآن‘ رکھا ہے۔ اَب ہم قرآنِ مجید کی جامعیت پر چند عملی شہادتیں پیش کرتے ہیں تاکہ علومِ قرآنی کی ہمہ گیریت اور سائنسی علوم کی تنگ دامانی عیاں ہو سکے۔
جامعیتِ قرآن کی عملی شہادتیں پہلی شہادت: ’ہر معاملے میں اُصولی رہنمائی‘
جامعیت ِ قرآن کی نہایت وقیع اور عملی شہادت یہ بھی ہے کہ قرآن اپنی تعلیمات کے اِعتبار سے اِنسان کی نجی زِندگی کی فکری و عملی ضروریات سے لے کر عالمی زِندگی کے جملہ معاملات پر حاوِی ہے۔ حیاتِ اِنسانی کا مذہبی و روحانی پہلو ہو یا مادّی و جسمانی، عائلی و خاندانی پہلو ہو یا سماجی و معاشرتی، سیاسی و معاشی پہلو ہو یا تعلیمی و ثقافتی، حکومت و سلطنت کی تاسیس ہو یا اِدارت کی تشکیل، مختلف طبقاتِ اِنسانی کے نزاعات و معاہدات ہوں یا اَقوامِ عالم کے باہمی تعلقات، اَلغرض قرآنی اَحکام و تعلیمات اِس قدر جامع ہیں کہ ہر مسئلے میں اُصولی رہنمائی قرآن ہی سے میسر آتی ہے۔
قرآنی اَحکام کا بیان و اِستنباط کہیں ’عبارۃُ النّص‘ سے ہوتا ہے اور کہیں ’اِشارۃُ النّص‘ سے، کہیں ’دلالۃُ النّص‘ سے ہوتا ہے اور کہیں ’اِقتضائُ النّص‘ سے۔ کہیں اُس کا انداز ’حقیقت‘ ہے، کہیں ’مجاز‘، کہیں ’صریح‘ ہے، اور کہیں ’کنایہ‘۔ کہیں ’ظاہر‘ ہے، کہیں ’خفی‘، کہیں ’مجمل‘ ہے، اور کہیں ’مفسر‘۔ کہیں ’مطلق‘ ہے، کہیں ’مقید‘، کہیں ’عام‘ ہے اور کہیں ’خاص‘۔ اَلغرض قرآنی تعلیمات مختلف صورتوں اور طریقوں میں موجود ہیں۔ اُن میں اصل اَحکام (substantive laws) بھی ہیں اور ضابطہ جاتی اَحکام (procedural laws) بھی، جیسا کہ اِس آیتِ کریمہ سے ثابت ہے :’’ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک اصل قانون بنایا اور ایک اُس کا ضابطہ و طریقِ کار۔‘‘(المائده، 5 : 48)چنانچہ یہی وجہ ہے کہ فقہائے اِسلام نے تمام شعبہ ہائے حیات سے متعلق قوانین اور اُصول و ضوابط کا اِستخراج اصلاً قرآن ہی سے کیا ہے۔اِسی طرح قرآن علوم کے بیان کے اِعتبار سے بھی جامع و مانع ہے۔ دُنیا کا کوئی مفید علم اَیسا نہیں جس کا سرچشمہ قرآن نہ ہو۔ قاضی ابوبکر بن عربی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’قانون التاوِیل‘ میں اِبتدائی طور پر قرآنی علوم کی تعداد ۷۷۴۵۰؍  بیان کرتے ہیں۔ یہی تعداد قرآنِ مجید کے کل کلمات کی بھی ہے، تو اِس سے یہ حقیقت مترشّح ہوئی کہ قرآنِ حکیم میں اَلْحَمْد سے وَالنَّاس تک اِستعمال ہونے والا ہر کلمہ یقیناً کسی نہ کسی مستقل علم اور فن کی بنیاد ہے۔ گویا ہر قرآنی حرف سے کوئی نہ کوئی علم اور فن جنم لے رہا ہے۔ یہاں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروِی یہ حدیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پیشِ نظر رہے کہ قرآن کے ہر حرف کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن اور پھر ہر ظاہر و باطن کے لئے ایک حدِ آغاز ہے اور ایک حدِاِختتام۔ اِس لحاظ سے ہر قرآنی حرف کے چار پہلو متعین ہوئے۔ 
 اِمام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صرف تعوّذ و تسمیہ میں لاکھوں مسائل کا بیان ہے اور باقی آیات و کلمات کا تو ذِکر ہی کیا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ علوم کے اِعتبار سے بھی قرآن کی جامعیت کا یہ عالم ہے کہ اُن کی صحیح تعداد کا شمار ہو سکتا ہے اور نہ اَندازہ۔ اَیسے اَقوال یا تو اُن اَکابر کی تحقیقات ہیں یا اُن کے ذاتی اِنکشافات۔ درحقیقت قرآنی علوم اِحصاء و تحدید سے ماوراء ہیں۔ کوئی علم ہو یا فن، کوئی صنعت و حرفت ہو یا پیشہ و تجارت، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی کوئی دریافت ہو یا علومِ قدیمہ کی، اِس کائنات میں کوئی ایسی شئے معرضِ وُجود میں نہیں آئی اور نہ آ سکتی ہے جس کا ذِکر خلاقِ عالم نے کسی نہ کسی اَنداز سے قرآنِ مجید میں نہ کر دِیا ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK