حضورؐ نے صرف انسانوں کی روحانی مشکلات حل کرنے اور اخلاقی برائیوں کی اصلاح کا بیڑا ہی نہیں اٹھایا، بلکہ انسان کی سماجی اور معاشی مشکلات کو دور کرنے اور انسانی معاشرے کے رنج و غم کو سکھ اور مسرت میں تبدیل کرنے کی بھی کامیاب جدوجہد کی۔
EPAPER
Updated: February 28, 2025, 3:32 PM IST | Muhammad Saud Alam Qasmi | Mumbai
حضورؐ نے صرف انسانوں کی روحانی مشکلات حل کرنے اور اخلاقی برائیوں کی اصلاح کا بیڑا ہی نہیں اٹھایا، بلکہ انسان کی سماجی اور معاشی مشکلات کو دور کرنے اور انسانی معاشرے کے رنج و غم کو سکھ اور مسرت میں تبدیل کرنے کی بھی کامیاب جدوجہد کی۔
رسول، اللہ کا فرستادہ اور اس کانمائندہ ہوتا ہے۔ رسول کے مخاطب انسان ہوتے ہیں۔ وہ انسانوں کے درمیان رہتا اور بستا ہے، بھرپور سماجی اور اجتماعی زندگی گزارتا ہے اور صالح انسانی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے۔ وہ انسانوں کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے، ان کی مشکلات کو حل کرتا ہے ان کا غم خوارہوتا ہے، ان کی تعلیم و تربیت کرتا ہے اور ان کی تطہیر و تعمیر کی راہ ہموار کرتا ہے۔ ایک طرف تو رسول کا تعلق اللہ سے گہرا اور مضبوط ہوتا ہے اور دوسری طرف انسانوں سے اس کا رشتہ اٹوٹ اور بے لوث ہوتا ہے۔ منصب ِ رسالت کے یہ بنیادی پہلو ہیں اوریہی کارِ پیغمبری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مشرکوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ان کی ہدایت کے لئے انسان کے بجاے فرشتے کو رسول بناکر کیوں نہ بھیجا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا :
’’کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور بستے ہوتے تب ہم ضرور ان کی ہدایت کے لئے آسمان سے فرشتے نازل کرتے۔ ‘‘ (بنی اسرائیل :۹۵)
گویا انسانوں کی مشکلات، نفسیات، ضروریات، مزاج اور دکھ درد کو زیادہ بہتر طور پر انسانوں کا نمائندہ ہی سمجھ سکتا ہے اور ان کا بہتر مداواکر سکتا ہے۔ اس لئے فرشتے کے مقابلے میں انسان کو رسول بناکر بھیجنا زیادہ مناسب تھا۔ چنانچہ تمام رسول انسانوں ہی کے درمیان سے اٹھے اور انسانوں کی خیر خواہی کے لئے مامور ہوئے۔ خاص طور پر آخری رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت یہ ہے کہ آپؐ انسانی دکھ درد کو نہ صرف گہرائی سے سمجھتے تھے، بلکہ ان کے دکھ درد کو اپنا سمجھتے اور اُن کے شریک غم رہتے تھے۔ آپؐ انسانی مشکلات کے حل سے اتنی گہری دلچسپی رکھتے تھے کہ قرآن پاک نے آپؐ کو رحمۃ للعالمینؐ کا خطاب دیا۔ اللہ تعالیٰ نے محمدؐ کا تعارف ان لفظوں میں کرایا ہے :
’’بیشک تمہارے پاس تم میں سے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لئے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزو مند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لئے نہایت (ہی) شفیق، بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔ ‘‘ (التوبۃ :۱۲۸)
نبوت سے پہلے انسانی خدمت
رسول اکرم ؐ منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے بھی انسانوں سے محبت اور ان کی خدمت کے لئے مشہور تھے۔ بارِ نبوت کو اٹھانے میں اس صلاحیت اور خصوصیت نے آپؐ کو بڑی مدد پہنچائی۔ حقیقت یہ ہے کہ قدرت نے کارِ نبوت کو انجام دینے کے لئے آپؐ کا انتخاب کرنے سے پہلے آپؐ کے اندر انسانی خدمت کا جذبہ اور ملکہ کامل طور پر پیدا کردیا تھا۔ چنانچہ پہلی مرتبہ جب آپؐ پر قرآنی آیات نازل ہوئیں تو اس وقت آپؐ غار حرا میں غور و فکر میں تھے۔ فرشتے سے پہلی ملاقات اور پہلی وحی کے نزول کے بعد آپؐ کانپتے ہوئے اپنی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایاکہ مجھے چادر اڑھائو، مجھے اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ پھر آپؐ نے پورا ماجرا سنایا۔ یہ سن کر حضرت خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
’’ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ کیوں کہ آپ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں، لوگوں کے بوجھ اٹھاتے ہیں، ناداروں اور محتاجوں کی مدد کرتے ہیں ، مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت کے دنوں میں متاثرہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ ‘‘(بخاری)
نبوت کے بعد انسانی خدمت
نبوت کے بعد رسولؐ اللہ پر دوہری ذمہ داری عائد ہوگئی۔ ایک انسانوں کی خدمت کی اور دوسری ان کی ہدایت اور سعی نجات کی۔ نبوت سے سرفراز ہونے سے پہلے صرف انسانی خدمت آپؐ کی پہچان تھی، نبوت کے بعد خدمت اور ہدایت دونوں آپؐ کی پہچان بن گئیں۔
خدا پرستی اور انسانی خدمت
رسولؐ پاک نے صرف انسانوں کی روحانی مشکلات حل کرنے اور اخلاقی برائیوں کی اصلاح کا بیڑا ہی نہیں اٹھایا، بلکہ انسان کی سماجی اور معاشی مشکلات کو دور کرنے کی بھی سعی کی، اور انسانی معاشرے کے رنج و غم کو سکھ اور مسرت میں تبدیل کرنے کی کامیاب جدوجہد کی۔ انسانی سماج میں طاقتور اور کمزور، امیر و غریب، مختار اور محتاج دونوں طرح کے لوگ رہتے ہیں اور دونوں کے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ رسولؐ پاک ہرفرد کی اصلاح کرتے ہیں اور دونوں کو کامیابی کی راہ دکھاتے ہیں۔ اگر رسول انسانوں کی روحانی دنیا آباد کرے اور مادی دنیا کو اجڑ جانے دے، اخلاقی حالت کو درست کرے اور سماجی زندگی کو الجھنوں میں مبتلارہنے دے، عبادت پر زور دے اور سماجی حقوق کو نظر انداز کردے تو یہ مذہب ناقص ہوگا اور اس کی انسانوں کو چنداں ضرورت نہ ہوگی۔ چنانچہ رسولؐ پاک نے دونوں ضروریات کی تکمیل کے لئے مذہب کا ایک کامل نمونہ پیش کیا جس نے اپنے دامن میں اللہ کی عبادت اور انسانوں کی خدمت دونوں کو یکساں جگہ دی۔ قرآن نے وضاحت کی:
’’نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب (ایسے لوگ) کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔ ‘‘ (البقرہ:۱۷۷)۔ اس آیت میں تفصیل سے نیکی اور دین داری کا تصور بیان کیا گیا ہے۔ اس میں جہاں ایمانیات پر زور ہے، عبادات کی تلقین ہے، اخلاقی اصولوں کا تذکرہ ہے، وہاں انسانوں کی خدمت، ان کے دکھ درد میں شرکت اور ان کی حاجت روائی کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ یہ مذہب کی روح ہے، اس کا خمیر اور جوہر ہے۔ اگر مذہب سے ایمانیات اور عبادات کو خارج کردیا جائے تو مذہب ثقافت و رواج پر مبنی سماجی تنظیم یا کلچرل انجمن بن کر رہ جائے گا، اور اگر انسانی خدمت کو نظراندازکردیاجائے اور ان کی مشکلات کا مداوا نہ کیا جائے تو مذہب بے جان رسموں کا ڈھانچا بن جائے گا یا مابعد الطبیعات کا پیچیدہ فلسفہ۔
مشرکین کا انسانی خدمت سے انکار
مشرکین مکہ نے جو دھرم اپنا رکھا تھا، وہ انہی پیچیدگیوں کا شکار تھا۔ ان کی اخلاقی اور سماجی زندگی کی تصویر کشی قرآن میں متعدد مقامات پر بڑی باریک بینی سے کی گئی ہے، ایک جگہ ارشاد ہے: ’’ہرگز نہیں ، تم یتیموں کی عزت نہیں کرتے، اور محتاجوں کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو تلقین نہیں کرتے اور مردے کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہواور مال و دولت سے جی بھرکے محبت کرتے ہو۔ ‘‘ (الفجر : ۱۷؍تا۲۰)
یعنی انسانوں کی محبت کی جگہ مشرکوں کے دل میں مال کی محبت نے جڑ پکڑ لی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ نہ وہ خود ناداروں پر خرچ کرتے تھے اور نہ دوسروں کو محتاجوں کی خبر گیری کے لئے کہتے تھے، یہ سماج انسانوں پر مبنی توتھا مگر روح انسانیت سے خالی، شیخ سعدی کے اس حکمت آمیز شعر کا مصداق تھا:
تو گر محبت دیگراں بے غمی=نہ شاید کہ نامت دہندآدمی
(تم اگر دوسروں کی محبت سے بے نیاز ہو تو تم کو آدمی کا نام نہیں دیا جانا چاہئے )۔
رسولؐ پاک نے اس جاہلی معاشرے میں حقیقی خدا پرستی اور سچی انسانی خدمت کی تحریک برپا کی تو مشرکوں نے جہاں اس بات کی مخالفت کی کہ ان گنت دیوتائوں کی جگہ صرف ایک خدائے وحدہٗ لاشریک کی پرستش کی جائے وہاں اس بات کی بھی مخالفت کی کہ غریبوں اور ناداروں پر اپنا مال خرچ کیا جائے اور بغیر کسی معاوضے اور صلے کے ان کی خدمت کی جائے۔ وہ مال داری اور ناداری کو مقدرات سمجھتے تھے اور ناداروں کی حالت سدھارنے کی کوشش کو نادانی اور گمراہی سے تعبیر کرتے تھے۔ قرآن پاک میں رسولؐ کریم کی خدمت انسانی کے مطالبے اور جواب میں مشرکین کے غیر انسانی رویے کا ان لفظوں میں تذکرہ کیا گیا ہے :
’’اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اُس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں کیا ہم اُن کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو۔ ‘‘
(یٰسین :۴۷)
رسولؐ کریم کی انسانی خدمت کی تحریک
نبی کریمؐ نے مسلمانوں کوجو تعلیم دی اس کا مرکزی نکتہ یہ تھا: ’’بھوکوں کو کھانا کھلائو، بیماروں کی خبرگیری کرو اور قیدیوں کو رہا کرائو (اُن کی رہائی کا انتظام کرو)۔ ‘‘ (بخاری)
رسالت مآبؐ نے انسانوں کی محبت کو اللہ کی محبت سے تعبیر کیا، مخلوق کی خدمت کو اللہ تک پہنچنے کا راستہ قرار دیا، اور جہنم سے آزادی اور جنت کے حصول کا ذریعہ بتایا۔ مسلمانوں کی اجتماعی اور انفرادی زندگی میں یہ تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی طرح اہمیت رکھتی ہے۔ اگر انسانوں کی خدمت نہ کی جائے تو اللہ کی خوشنودی حاصل نہیں ہوسکتی۔ یہ ایسی گھاٹی ہے جسے پار کئے بغیر رضوانِ الٰہی کی بلندی تک پہنچا نہیں جاسکتا۔ قرآن پاک نے وضاحت کی:
’’اس نے دشوارگزار گھاٹی پار نہ کی، تمہیں کیا معلوم کہ کیا ہے وہ دشوار گزار گھاٹی، کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا، یا فاقہ کے دن کسی رشتہ دار یتیم یا خاک نشیں مسکین کو کھانا کھلانا، پھر ان لوگوں میں شامل ہونا جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور انسانوں پر رحم کرنے کی تلقین کی۔ ‘‘ (البلد: ۱۱؍تا۱۷)
رسول کریمؐ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے سے جہاں انسانی خدمت کے میدان و اطراف کا پتا چلتا ہے، وہاں انسانی خدمت میں کار فرما عوامل اور عناصر ترکیبی کا بھی ادراک ہوتا ہے۔ اگر ان عناصر کو پیش نظر نہ رکھا جائے تو انسانی خدمت کا عمل بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔ وہ عناصر ہیں اکرام، انصاف اور ایثار۔
اکرام کا مطلب ہے کہ انسان کے ہر فرد اور ہر گروہ کو خواہ وہ کسی طبقے، کسی علاقے، کسی رنگ اور کسی نسل اور کسی بھی ذات و برادری سے تعلق رکھتا ہو، محترم سمجھنا اور عزت دینا، اسے کم تر اور حقیر نہ سمجھنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو محترم بنایا ہے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ اس ہدایت کو دہرایا گیا ہے: ’’ اور ہم نے آدم کی اولاد کو محترم بنایا ہے اور خشکی اور دریا میں سواری عطا کی ہے اور ہم نے اس کوپاکیزہ رزق عطا کیا ہے اور جن مخلوقات کو ہم نے پیدا کیا ہے، ان میں سے بیش تر پر اسے فضیلت بخشی ہے۔ ‘‘(بنی اسرائیل :۷۰)
ایک دوسری جگہ فرمایا گیا :’’بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیداکیا ہے۔ ‘‘(التین :۴)
یہ اکرام و احترام انسانو ں کے کسی مخصوص طبقے کو نہیں بخشا گیا، بلکہ پورے بنی نوع انسان کو عطاکیا گیا ہے۔ اس لئے خدمت انجام دینے والے فرد اور گروہ کو انسانی خدمت سے پہلے انسانوں کی عزت و احترام کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے۔ بہت سے لوگ محتاجوں کی مددتو کرتے ہیں مگر ان کو حقیر سمجھتے ہیں۔ مال دیتے ہیں مگر دل میں جگہ نہیں دیتے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ خیرات کرتے ہیں، کارخیر میں حصہ لیتے ہیں، ان میں احساس برتری پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ خود کو مختاراور لینے والے کو محتاج سمجھتے ہیں۔ مختار و محتاج کی یہ نفسیات اکرام کا جذبہ باقی نہیں رہنے دیتی۔ اس لئے نبیؐ نے یہ تعلیم دی کہ تم سب دراصل محتاج ہو اور مختار صرف اللہ ذوالجلال ہے۔ اس لئے اپنی احتیاج آپس کے تعاون سے دور کرو۔ قرآن میں فرمایا گیا:
’’اللہ غنی ہے اور تم سب محتاج ہو۔ ‘‘ (محمد :۳۸)
آپؐ نے مسلمانوں کو یہ تاکید بھی فرمائی کہ صدقہ، زکوٰۃ اور خیرات خاموشی سے محتاجوں کو دیا جائے، اسکی تشہیر نہ کی جائے، بلکہ اس حد تک اخفا کیا جائے کہ بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ اس حکم کی روح بھی دراصل یہ ہے کہ صدقہ قبول کرنے والوں کی عزت نفس محفوظ رہے اور ان کی غیرت کو ٹھیس نہ لگے۔ یہ انسانی اکرام و احترام کا انتہائی اعلیٰ مرتبہ ہے اور خدمت خلق کی روح ہے۔
یہاں خدمت کا ایک دوسرا عنصر آکر مل جاتا ہے اور وہ انصاف ہے، یعنی سماج کے پچھڑے ہوئے، پس ماندہ اور کمزور لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا خدمت کا حصہ ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے مال داروں کے مال میں ناداروں کا حق موجود ہے۔ اس لئے حکم ہوا کہ جو مال دار ہیں وہ ناداروں کا حق ادا کریں۔ یہ احسان نہیں انصاف ہوگا، اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’ ان کے مالوں میں مقررہ حق ہے، سائل اور محروم کا۔ ‘‘ (المعارج : ۲۴- ۲۵)
رسول پاکؐ نے اہل ثروت سے فرمایا:تم کوجو رزق دیاجاتا ہے اور اللہ کی طرف سے تمہاری جو مدد کی جاتی ہے، وہ تمہارے کمزور طبقات کی بدولت ہے۔ (بخاری و ترمذی)
یعنی دولت تمہارا استحقاق نہیں، بلکہ اللہ کا عطا کردہ عطیہ اور امانت ہے۔ کوئی انسان اگر غریب اور محتاج ہے تو یہ اس کا دائمی مقدر نہیں، اسی طرح اگر کوئی انسان مال دار اور مختار ہے تو یہ اس کا پیدائشی حق نہیں۔ رسول پاکؐ نے محتاجوں سے یہ نہیں فرمایا کہ تم مال داروں کے پاس جائو اور ان سے اپنا حق مانگو، بلکہ مال داروں پر یہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ ناداروں کو ان کا حق پہنچائیں :
’’قرابت داروں، مسکینوں اور مسافر کو اس کاحق ادا کرو، یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہیں۔ ‘‘ (الروم :۳۸)
نادار اگر مال داروں کی خدمت قبول کرتے ہیں تومال داروں کو ان کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے اپنا حق قبول کیا اور مالداروں کا فریضہ ادا ہوا۔
انسانی خدمت کا تیسرا عنصر ایثار ہے، یعنی صرف حق ادا کرنا مطلوب نہیں، بلکہ دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دینا، دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف پر مقدم سمجھنا اور اپنے کام کو مؤخر کرکے دوسرے کی حاجت روائی کرنا، انسانی خدمت کا اعلیٰ اور ارفع مقام ہے۔ جس کی تعبیر قرآن کریم نے اس طرح کی ہے:
’’وہ دوسروں کواپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود فاقہ سے ہوں، اور جو اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا سمجھو کہ وہی کامیاب ہیں۔ ‘‘(الحشر :۹)
انسانی خدمت کا تسلسل اور تنظیم
رسول پاکؐ نے انسانی خدمت کے معروف طریقوں میں دو اہم اور نادر اضافے فرمائے۔ ایک تو انسانی خدمت کو بعد از مرگ باقی رکھنا اور دوسرے خدمت کو ادارتی شکل دینا۔ تسلسل کا مطلب یہ ہے کہ وقتی طور پر انسانی خدمت کرنے کے ساتھ کوئی ایسا کام کیا جائے جس سے خدمت کا سلسلہ مرنے کے بعد بھی جاری رہے، اس کے لئے جناب رسالت مآب نے صدقہ جاریہ کا تصور دیا، آپؐ نے فرمایا:
’’جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے اعمالِ خیر کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے سوائے تین اعمال کے، ایسا صدقہ جس کا فیض جاری رہے، ایسا علم جس سے استفادہ باقی رہے، صالح اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے۔ ‘‘(مسلم)
صدقہ جاریہ میں عام طور پر اجتماعی اور سماجی استفادے کی چیزیں شامل ہیں، مثلاً نل لگوانا، کنواں کھدوانا، تالاب بنوانا، سراے بنوانا، سڑکیں اور پل بنوانا، مسافر خانہ تعمیر کرنا وغیرہ۔ قابلِ استفادہ علم میں درس گاہ کھولنا، لائبریری بنانا، کتابیں لکھنا یا شائع کرنا، اسکالر شپ وغیرہ کا انتظام کرنا شامل ہے۔ یہ ایسی خدمت ہے کہ اگر انسان مرجائے تب بھی اس کا فیض جاری رہتا ہے اور وہ اپنی فیض رسانی کے حوالے سے زندہ رہتا ہے۔ ہر باشعور انسان چاہتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کانام باقی رہے۔ رسول پاکؐ نے انسان کی اس آرزو کو انسانی خدمت سے وابستہ کرکے ایک تعمیری جہت عطا کی ہے۔
رسول پاکؐ نے انسانی خدمت کو ادارتی شکل دینے کے لئے وقف کا تصور دیا۔ وقف کا مطلب یہ ہے کہ اصل جائیداد باقی رہے اور اس کی آمدنی سے خدمت رسانی کے کام ہوتے رہیں۔ مثلاً مکان، دُکان، فیکٹری، زمین، باغ وغیرہ وقف کیا جائے تو یہ جائیداد نہ تو ہبہ ہوگی اور نہ بیچی جاسکے گی، بلکہ اس کے منافع اور آمدنی سے وہ خدمت انجام پاتی رہے گی جس کے لئے وہ جائیداد وقف کی گئی ہے۔ انسانی خدمت کی تاریخ میں یہ ایک نیا تصور تھا جو جناب رسالت مآب نے انسانی دنیا کو عطا کیا۔ اس کی تقلید دوسرے مذاہب اور تہذیبوں نے بھی کی۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عمرؓ کو خیبر میں ایک زمین ملی تو انہوں نے رسولؐ اللہ سے عرض کیا کہ مجھے خیبر میں ایک مال ملا ہے جس سے بہتر مال مجھے کبھی نہیں ملا، آپؐ اس کے بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا:
اگر تم چاہو تو اس کی اصل کو باقی رکھو اور پیدا وار کو صدقہ کردو۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو صدقہ کردیا، اس شرط کے ساتھ کہ نہ وہ فروخت کی جائے گی نہ ہبہ کی جائے گی اور نہ اس میں وراثت جاری ہوگی، اور اس کی منفعت فقیروں، رشتہ داروں، غلاموں کی آزادی، مہمانوں اور مسافروں کے لئے وقف ہوگی اور اس کے متولی کے لئے اس سے معروف کے مطابق اجرت لینا جائز ہوگا۔ (بخاری)
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو رومہ نامی کنویں کے علاوہ میٹھے پانی کا دوسرا کنواں نہ تھا۔ آپؐ نے فرمایا کون ہے جو رومہ کنویں کو خرید کر اپنے ڈول کے ساتھ مسلمانوں کے ڈول کو بھی شریک کرے گا اور اس کے صلے میں اسے جنت کی بھلائی حاصل ہوگی؟ تو میں نے اپنے اصل مال سے اسے خرید لیا اور اس میں خود بھی ڈول ڈال کر پانی نکالتا تھا اور سارے مسلمان بھی ڈول ڈال کر پانی نکالتے تھے۔ (ترمذی) وقف کے مزید واقعات نبی ؐ کی حیاتِ مبارکہ میں ملتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ جناب نبیؐ نے وقف کا تصور دے کر مسلم سماج کو ایک تعمیری اور فلاحی سماج میں تبدیل کردیا اور حق یہ ہے کہ آج بے شمار تعلیمی، مذہبی، سماجی اور رفاہی ادارے وقف کی جائداد کی آمدنی سے چل رہے ہیں اور اس نے خدمت ِ خلق کے میدان میں انتہائی اہم اور مؤثر رول ادا کیا ہے، اور اس کا سلسلہ ان شاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔
رسول کریمؐ کی انسانی خدمت کی تعلیمات اوراسوۂ حسنہ نے مسلم معاشرہ میں جہاں انفرادی طور پر زکوٰۃ و صدقات اور انفاق کاجذبہ پیدا کیا، وہاں اجتماعی کفالت کے اداروں کی تنظیم اور تشکیل کی تحریک فراہم کی۔ اوقاف اس کی نمایاں مثال ہے۔ اوقاف کے علاوہ انسانی خدمت کے دیگر اداروں میں یتیم خانوں کا قیام سنت نبویؐ کی اہم عملی تعبیر ہے۔ اسلام سے پہلے بھی یتیم تھے اور انفرادی طور پر ان کی دیکھ بھال ہوتی ہوگی، مگر یتیموں کی نگہداشت اور ان کی تعلیم و تربیت کیلئے اداروں کا تصور نہ تھا، نبی کریمؐ نے یتیموں کی نگہداشت کی جو مسلسل تلقین فرمائی اور اسے انسانیت اور اسلام کا اہم فریضہ بتایا۔ چنانچہ مسلم حکومتوں ہی میں نہیں غیر حکومتی سطح پر بھی اہلِ خیر مسلمانوں نے یتیم خانے بنوائے۔
موجودہ عہد میں انسانی خدمت کے لئے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سوشل ورک کے شعبے قائم کئے گئے ہیں جہاں سماجی خدمت کا کورس پڑھایا جاتا ہے، اور سوشل ورکر کی ٹریننگ ہوتی ہے۔ مگر دیکھا یہ جارہا ہے کہ سوشل ورک کی تعلیم لوگوں میں مالی منفعت کے حصول کا جذبہ اسی طرح پیداکررہی ہے جس طرح دیگر عصری تعلیم کا نتیجہ سامنے آرہا ہے۔ سوشل ورک کی ڈگری لے کر طلبہ خدمت سے زیادہ ملازمت کو پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ چنانچہ اگر مقررہ وقت کے علاوہ بھی ان کو کام کرنا پڑے تو اس اضافی ڈیوٹی کے معاوضے کے طلبگار ہوتے ہیں۔ فرصت کے دنوں میں انسانی خدمت کی انجام دہی سے کتراتے ہیں۔ رسول پاکؐنے انسانی خدمت کی جو تعلیم دی ہے، وہ مقصد زندگی کا حصہ ہے۔ اس کے لئے وقت اور عمر کی قید نہیں بلکہ اس کا ر خیر کو کرتے کرتے مرنا ہے اور مرتے مرتے کرنا ہے اور اللہ سے قبولیت کی دعا کرتے رہنا ہے۔ یہ خدمت ملازمت سے دور اور مالی منفعت سے بلند ہے۔