Inquilab Logo Happiest Places to Work
Ramzan 2025 Ramzan 2025

دوستی کا معیار قرآن و سنت کی روشنی میں طے کیجئے

Updated: February 28, 2025, 4:53 PM IST | Ibtisam Elahi Zaheer | Mumbai

مخلص دوستوں کے تعاون اور اشتراک سے انسان اپنے آپ کو مضبوط محسوس کرتا اور ان کی عدم موجودگی میں اپنے آپ کو تنہا اور کمزور محسوس کرتا ہے۔

The best friendship is the one that is for the sake of Allah and His religion. Photo: INN.
سب سے بہترین دوستی وہ ہے جو اللہ اور اس کے دین کی وجہ سے ہو۔ تصویر: آئی این این۔

انسان سماج کے ساتھ پیوست ہے اور وہ بوجوہ سماجی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انسان وقت گزاری اور سماجی معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے کیلئے دوستوں کا طلبگار ہوتا ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں سے دوستی کرتا ہے جن میں کئی دوستیاں عارضی اور بہت سی لمبے عرصے تک چلتی ہیں۔ مخلص دوستوں کے تعاون اور اشتراک سے انسان اپنے آپ کو مضبوط محسوس کرتا اور ان کی عدم موجودگی میں اپنے آپ کو تنہا اور کمزور محسوس کرتا ہے۔ انسان کو کئی مرتبہ غلط صحبت ناکامی کی طرف دھکیل دیتی ہے جبکہ اس کے برعکس اچھی صحبت سیدھے راستے پر چلانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی دوستی کے حوالے سے بہت خوبصورت انداز سے رہنمائی کی ہے۔ سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۷۱؍میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔ ‘‘
بعد ازاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ایسے لوگوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے:
’’اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے جنتوں کا وعدہ فرما لیا ہے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ایسے پاکیزہ مکانات کا بھی (وعدہ فرمایا ہے) جوجنت کے خاص مقام پر سدا بہار باغات میں ہیں، اور (پھر) اللہ کی رضا اور خوشنودی (ان سب نعمتوں سے) بڑھ کر ہے (جو بڑے اجر کے طور پر نصیب ہوگی)، یہی زبردست کامیابی ہے۔ ‘‘ (التوبہ:۷۲) 
کتاب وسنت کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دنیا میں سب سے اچھے رفقا اور دوست نبی کریمﷺ کو میسر آئے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ نبی کریمﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں بہت سے مقامات پر بہت خوبصورت ارشادات فرمائے۔ سلسلہ احادیث صحیحہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓسے مرفوعاً مروی ہے کہ ’’بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں ‘ پھر وہ لوگ جو اُن سے متصل ہیں، پھر وہ لوگ جو اُن سے متصل ہیں۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہی ان کی قسم سے سبقت لے جائے گی اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ ‘‘ اسی طرح کی ایک روایت مسند احمد میں بھی مذکور ہے جس کے راوی حضرت نعمان بن بشیر ؓ ہیں۔ 
نبی کریمﷺ کے اصحاب نے ہمیشہ محبت اور وفاداری کا مظاہرہ کیا اور نبی کریمﷺ بھی ہمیشہ ان سے محبت اور شیفتگی کا اظہار فرماتے رہے۔ دوستی کے ناتے دوستوں پر کچھ حقوق و فرائض بھی عائد ہوتے ہیں جن کا ذکر کتاب و سنت کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔ ان میں سے بعض اہم ذمہ داریاں اور حقوق درج ذیل ہیں :
(۱)نیکی اور بھلائی کے کاموں میں تعاون: 
دوستوں کو ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں تعاون کرنا چاہئے:
اللہ تعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۲؍میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں ) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ ‘‘ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کی وجہ سے معاشرے میں خیر کو فروغ ملتا ہے۔ 
(۲)نافرمانی اور برائی کے کاموں میں عدم تعاون:
انسان کو دوسرے انسانوں بالخصوص دوستوں کیساتھ نافرمانی اور برائی کے کاموں میں تعاون نہیں کرنا چاہئے۔ سورۃ المائدہ کی آیت نمبر۲؍ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’گناہ اور ظلم وزیادتی میں تعاون نہ کرو۔ ‘‘ 
دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ دوستی کی وجہ سے ظلم اور شر کے کاموں میں بھی اپنے دوست کی معاونت کرتے ہیں جو درست نہیں ہے۔ 
(۳) اپنے دوست کیلئے وہی چیز پسند کرنا جو انسان اپنے لئے پسند کرتا ہے: 
انسان اگر کسی کا دوست ہو تو اخلاص کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کیلئے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کیلئے (یا فرمایا: اپنے پڑوسی کیلئے بھی) وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ‘‘
(۴)چھ اہم حقوق: 
مختلف احادیث میں اللہ تعالیٰ کے نبیﷺ نے مسلمان کے اپنے مسلم بھائی پر چھ اہم حقوق کا ذکر کیا ہے۔ اس حوالے سے مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ فرمایا کرتے تھے: ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے رسوا کرتا ہے اور فرماتے تھے اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد کی جان ہے جو دو آدمی بھی آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں اور ان کے درمیان جدائی ہو جائے تو وہ یقیناً ان میں سے کسی ایک کے گناہ کی وجہ سے ہو گی۔ اور آپؐ فرماتے تھے کہ ایک مسلمان آدمی پر اپنے بھائی کے چھ حقوق ہیں، چھینک آنے پر اس کا جواب دے، بیمار ہونے پر اس کی عیادت کرے، اسکی غیر موجودگی میں خیر خواہی کرے، ملاقات ہونے پر اسے سلام کرے، دعوت دینے پر قبول کرے اور فوت ہو جانے پر اس کے جنازے میں شرکت کرے۔ آپ ﷺ نے اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ 
(۵) ایک دوسرے کا مذاق اڑانے سے گریز کرنا: 
دوستوں کو ایک دوسرے کا مذاق اڑانے سے گریز کرنا چاہئے اور ان کو غلط ناموں سے نہیں پکارنا چاہئے۔ اس حوالے سے سورۃ الحجرات کی آیت نمبر ۱۱؍ میں ارشاد ہوا :’’اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں ) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں ) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں ) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیں۔ ‘‘
(۶)غیبت سے گریز: 
دوستوں کی عدم موجودگی میں ان کے عیبوں کو نہیں ٹٹولنا چاہئے۔ اس حوالے سے سورۃ الحجرات کی آیت نمبر ۱۲؍ میں ارشاد ہوا:
’’اے ایمان والو! زیادہ تر گمانوں سے بچا کرو بیشک بعض گمان (ایسے) گناہ ہوتے ہیں (جن پر اُخروی سزا واجب ہوتی ہے) اور (کسی کے غیبوں اور رازوں کی) جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم اس سے نفرت کرتے ہو۔ اور (اِن تمام معاملات میں ) اﷲ سے ڈرو بیشک اﷲ توبہ کو بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔ ‘‘
ہم معاشرے پہ نظر دوڑائیں تو دوستی کی متعدد وجوہات نظر آتی ہیں۔ سب سے بہترین دوستی وہ ہے جو اللہ اور اس کے دین کی وجہ سے ہو۔ اگر دوست احباب دین اور تقویٰ کی بنیاد پر ایک دوسرے کیساتھ محبت کریں تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایسے لوگوں کیلئے جنتوں کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الزخرف کی آیت نمبر ۶۷؍ارشاد فرماتے ہیں :’’سارے دوست و احباب اُس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ا ہمیں اچھے دوست عطا فرمائے اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے بعد جنتوں میں جگہ عطا فرمائے، آمین!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK