ممتاز راشد :کون سا نام دوں میں تیری شناسائی کو

Updated: April 25, 2022, 12:43 PM IST | Mubashir Akbar | Mumbai

جدید لب و لہجے کے معتبر شاعر ممتاز راشدکو ممبئی کے شعراء و ادباء کا خراج عقیدت ، انہیں غنائیت سے بھرپور شعری سرمائے والا شاعر قرار دیا

Mumtaz Rashid can be seen talking to famous ghazal singer Talat Aziz in a ghazal concert..Picture:INN
ممتاز راشد مشہور غزل سنگر طلعت عزیز سےغزلوں کی ایک محفل میں محو گفتگو دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

جدید لب و لہجے کے ممتاز شاعر ممتاز راشد کا گزشتہ دنوں انتقال ہوا۔ وہ عروس البلاد کی شعری کہکشاں کے ایسے ستارے تھے جن کی روشنی دور تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ ان کی شاعری کا نمایاں وصف نئے موضوعات کو نئے انداز میں برتنے کا سلیقہ تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے دیگر ہم عصر شعراء سے ممتاز قرار پائے۔  روحانیت سے بھی ان کا علاقہ رہا۔ وہ بزرگان دین سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ چونکہ ان کا تعلق صوفیاء کے مشہور شہر اجمیر سے تھا اور وہ خود بزرگان دین کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اس لئے یہ کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں ہے لیکن ان کی شاعری میں بھی یہی روحانیت کہیں ڈھکے چھپے انداز میں تو کہیں کھل کراپنا رنگ دکھاتی تھی ۔ ان کی تحریر کردہ غزلوں کو کئی مشہور گلوکاروں نےاپنی آواز دی او ران کے کلام کو گانا اپنے لئے باعث شرف محسوس کیا۔ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’ بھیگا ہو اکاغذ‘ ‘ کئی برس پہلے منظر عام پر آیا تھا لیکن اس نے ادبی دنیا میںدھوم مچادی تھی جبکہ دوسرا شعری مجموعہ ’’ خدا باقی رہے ‘ ‘  کافی عرصے بعد اور بہت اصرار پر انہوں نے ترتیب دیا تھا ۔ اس مجموعے کا کلام بھی ممتاز راشد کے جانے پہچانے انداز کا غماز تھا ۔
 معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر قاسم امام  جن کا ممتاز راشد مرحوم سے بہت قریبی تعلق تھا، نے بتایا کہ ’’ تیز رفتار و تیز گفتار ممتاز راشد مرحوم سے ہم نے زندگی اور شاعری دونوں سیکھی ۔ درویشانہ صفت اور  خانقاہی مزاج کے شاعر ممتاز راشد سے ہماری رفاقت تقریباً  ۳۵؍ برس پر محیط ہے۔ اپنے معاصرین میںواحد شاعر تھے وہ جنہوں نے اپنے حسن اخلاق ، رواداری اوربلند افکار سے ہماری نسل کی پرورش کی ۔‘‘ ڈاکٹر قاسم امام کے مطابق ان کے پہلا شعری مجموعہ ’بھیگاہوا کاغذ‘ نے ادبی دنیا میں دھوم مچادی تھی  حالانکہ تب تک دنیا بھر کے گلوکاروں نے ان کے گلام کو آواز دے کر انہیں بام عروج پر پہنچادیا تھا ۔ ہر گلوکا راپنی آواز میں ان کی شاعری کو پیش کرنا اپنے لئے فخر سمجھتا تھا ۔ قاسم امام نے ممتاز راشد کے دوسرے شعری مجموعے کے تعلق سے بتایا کہ جعفر بھائی منصوری مرحوم کے کے مسلسل اصرار پر وہ  اپنی دوسری تصنیف  خدا باقی رہے کو منظر عام پر لائے تھے جس کے اشاعتی مرحلے میں ڈاکٹر قاسم امام بھی ان کے ساتھ ساتھ رہے اور ان کی خواہش پر انہوں نے ایک چھوٹا سا خاکہ ’’کون سا نام دوں میں تیری شناسائی کو ‘‘ تحریر کیا تھا جو شامل کتاب ہے۔ممتاز راشد کی زندگی کے نشیب وفراز پر گفتگو کرتے ہوئے قاسم امام نے کہا کہ اجمیر سے مخدوم مہائمی کی درگاہ تک ممتاز راشد کی بےنیاز شخصیت نے بڑے عروج و زوال دیکھے  ۔ ادھر چند برسوں سے وہ مسلسل علیل تھے لیکن ہمیشہ چاق و چوبند رہے۔  انہوں نے اپنے اونچی آواز سے نہ صرف دنیا کو چونکایا بلکہ اپنی مدلل گفتگو بڑے بڑے ناقدین  اور دانشوروں کو چپ کرادیا۔  ان کے پسماندگان میں ایک بیٹی نتاشا اور بیٹا فواد ہیں جس نے آخری دنوں میں اپنے والد کی بڑی خدمت کی ۔مشہور زمانہ گلوکارہ میرا راشد (اہلیہ ) بھی ان دنوں سخت علیل ہیں۔ متعلقین سے درخواست ہے کہ ان کی صحت یابی کیلئے دعا کریں۔
 مشہور گلوکار طلعت عزیز جنہوں نے ممتاز راشد کا پہلا البم گایا  تھا، نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ ’ ممتاز راشد سے میرے مراسم کافی پرانے تھے۔ ان کا ذوق و شوق بہت اعلیٰ بلکہ نہایت نستعلیق تھا ۔وہ ہر چند کہ بہت تیزی سے گفتگو کرتے تھے  اور میں اکثر ان سے مذاقاً کہتا تھا کہ آپ ٹیلی گرافک موڈ میں گفتگو کرتے ہیں لیکن  وہ گفتگو بہت کام کی اور کئی اہم نکتے بیان کرنے والی ہوتی تھی ۔‘‘طلعت عزیز نے ممتاز راشد کے کلام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ  بہت عمدہ شاعری کرتے تھے یہ بات تو سب کو معلوم ہے لیکن ان کے اشعار میں  جو نغمگی تھی اور جتنی غنائیت تھی وہ گلوکار ہی بہتر جان سکتے ہیں کیوں کہ ہمیں اسے گانے میں کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور نہ کبھی ہم نے یہ محسوس کیا کہ اسے دھن پر لانے میں بہت مشکل پیش آئے گی۔ ان کا کلام پانی کی طرح بہتا ہوا اور رواں تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی لکھی گئی متعددغزلیں نہ صرف میں نے بلکہ دیگر گلوکاروں نے بھی گائیں اور سبھی کو  بہت کامیابی ملی۔طلعت عزیز نے دوران گفتگو ممتاز راشد کے بہت سے شعر گاکر بھی سنائے ۔   
کچھ ادھورے خواب آنکھوں میں جگاکر چل دیا 
وہ میرے نزدیک آیا مسکراکر چل دیا
تیرے سوا  نہ کوئی اور مجھ کو پہچانا 
مرا مزاج الگ ہے تیری ادا کی طرح 
طلعت عزیز کے مطابق ’’ مرا مزاج الگ ہے تیری ادا کی طرح‘‘  ممتاز راشد کی شخصیت اور شاعری کا مکمل احاطہ کرتا  ہوا شعر ہے۔  ان کی شاعری ہی اب  ان کا سرمایہ ہے جسے سنبھالنے کی ذمہ داری اہل اردو کی ہے۔ 
 معروف شاعر  اور اردو چینل کے مدیر قمر صدیقی  نے ممتاز راشد کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ’’ یہ اردو شاعری کا بڑا خسارہ ہے۔ ان کا شمار جدید شاعری کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے ۔ ان کے کئی اشعار عوامی حافظے کا حصہ بن چکے ہیں ۔ بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر تھے اور غزل کے صنفی تقاضوں سے کماحقہ واقف تھے لہٰذا جدیدیت کے شدت پسندی کے دور میں بھی انھوں نے غزل کو اس کے تمام تر فنی رموز کے ساتھ برتا ۔ ممتاز راشد کی شاعری بنیادی طور پر شہری تہذیب کی شاعری ہے ۔ ناصر کاظمی کی طرح انہوں نے بھی اپنے اشعار میں شہر کی ’امیجری‘ کو ابھارا ہے۔ ‘‘ قمر صدیقی کے مطابق ممتاز راشد کے اشعار میں شہروں کی طویل رات ہی نہیں بلکہ قدرے تاخیر سے جاگنے والی صبحوں کی دھوپ بھی ہے ۔ ممتاز راشد کی غزل شہری زندگی کا عکس ہی نہیں خود اس کا آئینہ بھی ہے۔ ان کے اشعار میں شہر کا رنگ اور شہری تمدن کا آہنگ کچھ اس طرح جاگزیں ہے کہ ہم اگر چاہیں بھی تو اسے ممتاز راشد کی غزل سے جدا نہیں کر سکتے۔ یعنی ممتاز راشد کے اشعار شہر بہ شہر اور خیال بہ خیال ایسے استعارے ہیں جن میں میرؔ کے شاہ جہاں آباد یا ناصر کاظمی کے ایودھیا، کپل وستو، پاٹلی پتر ، _ کربلا   اور لاہور کی جھلک بھلے ہی نہ دکھائی دے لیکن  ہمارے اور آپ کے ممبئی کا عکس بالکل صاف جھلکتا ہے۔ افسوس کہ شہر ممبئی کا یہ آئینہ بجھ گیا ۔
 معروف ادیب اور کالم نگار شاہد ندیم نے ممتاز راشد کو یوں خراج عقیدت پیش کیا کہ ’’  ان سے تقریباً ۴۰؍ برس کے مراسم تھے۔ ان دنوں وہ حضرت مخدوم مہائمی   ؒ کی درگاہ کے احاطے میں ڈیڑھ کمرے کے مکان میں رہتے تھے۔ اکثر خلا میں دور کہیں دیکھتے ہوئے کوئی دلچسپ جملہ کہہ دینا ان کی شخصیت کا خاصہ تھا ۔ وہ نہایت سادگی اور سنجیدگی کے ساتھ ایسے جملے کہہ جاتے تھے۔‘‘ شاہد ندیم کے مطابق وہ جب اندھیری منتقل ہوئے اور میں ممبرا تو پھر ملاقاتوں کا سلسلہ بھی تھم گیا۔ وہ اجمیر کے صوفی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اس لئے دینی بزرگوں اور صوفیاء سے عقیدت رکھتے تھے۔ ایک عرصے تک وہ اپنے مخصوص ترنم اور غنائی لہجے کی وجہ سے مشاعروں میں بڑی توجہ سے سنے جاتے اور داد پاتے۔ ادھر کچھ عرصے سے وہ ادبی منظر نامہ سے دور ہوگئے تھے۔ پھر برادرم قاسم امام سے ان کی علالت کی اطلاع ملتی رہی اور آج یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ اللہ انہیں جنت نصیب کرے ۔
 ادبی میگزین اردو آنگن  کے مدیر امتیاز گورکھپوری  کے مطابق ’’ممتاز راشد سے میری پہلی ملاقات نہرو سینٹر کے مشاعرے میں ہوئی تھی اور مجھے والد صاحب(ظفر گورکھپوری) نے ان سے متعارف کروایاتھا ۔ اس کے بعد گاہے بگاہے مشاعروں میں ان سے ملاقات کا سلسلہ جاری رہا۔ان کی شخصیت میں ایک کشش تھی جو پہلی مرتبہ ملنے والا ہمیشہ محسوس کرتا تھا اور میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھا  ۔‘‘ امتیاز گورکھپوری کے مطابق ممتاز راشد کی غزل گوئی کا انداز منفرد تھا۔ وہ  مشاعروں میں جو غزلیں پڑھا کرتے تھے وہ الگ ہوتی تھیں اور جو غزل سنگرس کے لئے لکھتے تھے وہ الگ لیکن معیار دونوں کا انتہائی اعلیٰ ہوا کرتا تھا۔ جب ان کا شعری مجموعہ منظر عام پر آیا تھا تو اس کا اجراء دلیپ کمار صاحب کے ہاتھوں ہوا تھا۔ممتاز راشد کے انتقال کے بعد یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ممبئی کے ادبی حلقوں میں روایتی شاعری اور کلاسیکل غزلوں کا  دور ختم ہو گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK