پنکج ملک کو گاتے ہوئے سن کر موسیقار’آر سی بورال‘کو پہلی مرتبہ ’پلے بیک گلوکاری‘ کا خیال آیا تھا

Updated: January 23, 2023, 4:42 PM IST | anees amrohvi | Mumbai

فلم ’مکتی‘ سے پنکج ملک نے رابندر سنگیت کو فلمی موسیقی سے روشناس کرایا اور اس کے بعد جب بھی موقع ملا،اس کا استعمال کیا۔ بعد میں ان کی کامیابی سے متاثر ہوکر دوسرے موسیقاروں کو بھی رابندر سنگیت کے استعمال کا حوصلہ ملا

A memorable picture of Pankaj Malik with then Prime Minister Pandit Nehru in 1955
سال ۱۹۵۵میں اُس وقت کے وزیراعظم پنڈت نہرو کے ساتھ پنکج ملک کی ایک یادگار تصویر

 موسیقار و گلوکار پنکج ملک کا جنم ۱۰؍مئی ۱۹۰۵ء کو کلکتہ کے ایک متوسط بنگالی خاندان میں ہوا تھا۔ ان کے خاندان میں حالانکہ موسیقی کی کوئی ایسی خاص روایت نہیں تھی مگر ان کے والد منموہن ملک کو روایتی موسیقی کا بہت شوق تھا اور وہ مذہبی رسومات کے وقت سازندوں اور بھجن گانے والوں  کو بلایا کرتے تھے لہٰذا پنکج ملک کو موسیقی سے دلچسپی کم عمری میں ہی ہو گئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوںنے اپنے کالج کی تعلیم درمیان ہی میں چھوڑکر موسیقی کی طرف دھیان دینا شروع کر دیا۔ انہوںنے درگاداس بنرجی اور دِنیندر ناتھ ٹیگور سے موسیقی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔
 پنکج ملک کی یہ خوش قسمتی تھی کہ جلد ہی ان کا تعلق عالمی شہرت یافتہ شاعرو موسیقار اور نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کے خاندان سے ہو گیا۔ اس کی وجہ سے ٹیگور کے اثرات ان کی زندگی اور موسیقی دونوں پر یکساں طور پر پڑے۔
 ۱۹۲۷ء میں جبکہ پنکج ملک کی عمر صرف ۲۲؍برس تھی، انہوںنے ایک موسیقار کے طور پر انڈین براڈکاسٹنگ کمپنی میں ملازمت حاصل کر لی۔۱۹۲۹ء میں انہوں نے ایک گلوکار کے طور پر کلکتہ میں ریڈیو کیلئے آڈیشن دیا تھا۔ اُس وقت آر سی بورال کلکتہ ریڈیو اسٹیشن پر پروگرام ڈائریکٹر تھے۔
 پنکج ملک اس زمانے میں فلموں سے ناطہ جوڑا جب ہندوستانی سنیما اپنی بے زُبانی سے آواز اور موسیقی اور مکالموں کی طرف سفر شروع کر رہا تھا۔یہ وہ دور تھا جب میوزک ریکارڈنگ کی تکنیک  اپنے شروعاتی دور میں تھی۔
 ۱۹۳۵ء تک کلکتہ کے نیو تھیٹر کی  بنیادیں کافی گہرائی تک پیوست ہو چکی تھیں۔ ایک صبح نتن بوس، پنکج ملک کو اپنے ساتھ اسٹوڈیو لے جانے کیلئے ان کے گھر پہنچے۔ پنکج  باتھ روم میں تھے۔ اس زمانے میں لائوڈاسپیکر کا رواج شروع ہو چکا تھا اور دور کہیں سے گانے کی آواز آرہی تھی۔ اِدھر باتھ روم میں پنکج ملک اس گانے کے ساتھ سُر ملا رہے تھے۔ جس طرح نیوٹن کے ذہن میں پیڑ سے زمین پر سیب کے گرتے ہی زمین کی قوت کشش کا خیال بجلی کی طرح کوندا تھا، اُسی طرح نتن بوس کے دل میں پلے بیک کا خیال اچانک آگیا۔ نتن بوس اس زمانے میں بنگالی فلم ’بھاگیہ چکر‘ بنا رہے تھے اور اس فلم کے ہندی ورژن کا نام ’دھوپ چھائوں‘ تھا۔ پلے بیک کی تکنیک میں جو پہلا گانا ریکارڈ کیا گیا، آر سی بورال (رائے چند بورال) کی موسیقی میں پارول گھوش اور پہاڑی سانیال کی آوازوں میں تھا۔ اس کے بول تھے۔
 ’’میری پریم کی نیّا چلی جل میں...‘‘
 پنکج ملک نے سب سے پہلے کلکتہ کے نیو تھیٹر میں کے سی ڈے اور سہگل جیسے فنکاروں کو ٹریننگ دینے اور ان کو  ڈھنگ سے کام لینے کیلئے ملازمت شروع کی۔ میوزک ڈائریکٹر کے طور پر ان کو سب سے پہلے۱۹۳۳ء کی فلم ’یہودی کی لڑکی‘ سے کام ملنا شروع ہوا۔ آر سی بورال کے ساتھ ہی پی سی بروا کی لازوال فلم’دیوداس‘ (۱۹۳۵ء) میں بھی کام کرنے کا موقع ملا، جہاں سہگل نے ’’دُکھ کے دن اب بیتت ناہی‘‘ جیسے گیتوں کی تخلیق کی۔اس کے علاوہ ’مایا‘ اور ’گرہ داہ‘ (۱۹۳۶ء)، ہیم چندر کی فلم ’کروڑپتی‘ (۱۹۳۶ء) اور نتن بوس کی ۱۹۳۷ء میں ریلیز ہوئی فلم ’پریسیڈینٹ‘ قابل ذکر ہیں۔ اس کے بعد آزادانہ طور پر پنکج ملک نے ۱۹۳۷ء میں فلم’مکتی‘ کے نغمے اپنی موسیقی سے سجائے۔
 کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کلکتہ کے نیو تھیٹرمیں سہگل کے داخلے سے سب سے زیادہ نقصان پنکج ملک کو ہوا تھا۔ پنکج ملک بنیادی طور پر بنگالی کے گلوکار تھے اور ان کا ہندی/ اردو کا تلفظ بھی بہت زیادہ عمدہ نہیں تھا۔ سہگل اور پنکج ملک کی آواز کا فرق فلم ’دھرتی ماتا‘ (۱۹۳۸ء) کے نغمہ ’’دنیا رنگ رنگیلی بابا‘‘ میں آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ پنکج ملک اور اوما ششی کے بعد جب اس گیت میں سہگل کی آواز اُبھرتی ہے ’’دُکھ کی ندیا جیون نیا، آشا کے پتوار لگے‘‘ تو سارے ماحول میں ایک متاثر کن گونج سی پیدا ہو جاتی ہے۔ اپنی آواز میں ایسی میٹھی گونج پیدا کرنے کیلئے سہگل آفاقی گلوکار کے طور پر یاد کئے جاتے ہیں۔ یہ بات پنکج ملک کی آواز میں کبھی پیدا نہ ہو سکی جس کا نقصان ان کو اُٹھانا پڑا۔
 پنکج ملک نے موسیقار گلوکار کے طور پر اپنی پہچان بنانے کے بعد اداکاری کی طرف بھی رُخ کیا اور فنی مجمدار کی فلم ’کپال کنڈلا‘ میں ایک بوڑھے گلوکار کا رول ادا کیا اور ایک ناقابل فراموش گانا ’’پیا ملن کو جانا‘‘ بھی گایا۔ اس کے بعد دیوکی بوس کی فلم ’نرتکی‘ اور بروا کی فلم ’زندگی‘ میں بھی اداکاری کی۔ ۱۹۴۱ء میں پنکج ملک نے نیو تھیٹرکی فلم ’ڈاکٹر‘ میں موسیقی ترتیب دینے کے ساتھ فلم کے ایسے ہیرو کا رول بھی ادا کیا جو ایک گلوکار اسٹار ہے۔ یہ فلم پورے ملک میں کامیاب ہوئی اور اس فلم کے گانے بھی مقبول ہوئے۔
 ۱۹۳۷ء میں نیو تھیٹر کی ایک فلم کیلئے  وہ موسیقی ترتیب دے رہے تھے۔ اس فلم کے ہدایتکار پی سی بروا تھے۔ پنکج،  ٹیگور کے پاس ان کی ایک نظم ’دِنیر شیشے‘ کو اس فلم کیلئے ریکارڈ کرانے کی اجازت لینے گئے تھے۔ ٹیگور نے بخوشی اجازت دے دی اور نہ صرف یہ بلکہ ٹیگور نے فلم کی کہانی میں بھی دلچسپی دکھائی اور فلم کے ٹائٹل کیلئے ’مکتی‘ نام کی تجویز کی۔ ٹیگور نے اپنی مزید دو نظموں کو فلم کیلئے پیش کیا اور ان میں موسیقی کی باریکیوں کو خیال میں رکھتے ہوئے نظم ’دِنیر شیشے‘ کے کئی الفاظ بھی تبدیل کئے۔ ’مکتی‘ فلم سے پہلے بنگال میں بھی رابندر سنگیت زیادہ مقبول نہیں تھا۔ فلم ’مکتی‘ کے بعد ہی رابندر سنگیت کو شہرت اور مقبولیت عوام حاصل ہوئی۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی تھی کہ پنکج ملک خود ریڈیو پر رابندر سنگیت پر پابندی سے تقریر کیا کرتے تھے۔
 دوسری جنگ عظیم کے دوران کئی نئے لوگ فلم انڈسٹری سے جڑے اور پُرانی طرز کا اسٹوڈیو سسٹم ختم ہونے لگا۔ تب کئی جانے مانے فنکار، ہدایتکار اور تکنیکی لوگ کلکتہ سے بمبئی آگئے۔ نیو تھیٹر بھی بمبئی آگیا مگر پنکج ملک نے کلکتہ نہیں چھوڑا۔ انہوںنے ۱۹۴۴ء میں فلم ’میری بہن‘ کی موسیقی تیار کی جو بے حد مقبول ہوئی۔ اس فلم کیلئے ہیرو کے طور پر کے ایل سہگل بطور خاص بمبئی سے کلکتہ گئے تھے۔ اس فلم کے تقریباً تمام نغمے مقبول ہوئے تھے۔ نیو تھیٹر کیلئے کے ایل سہگل کی یہ آخری فلم تھی۔ فلم ’مکتی‘ سے پنکج ملک نے رابندر سنگیت کو فلمی موسیقی سے روشناس کیا۔ اس کے بعد جب بھی انہیں موقع ملا، انہوںنے فلمی نغموں میں رابندر سنگیت کا خوبصورتی سے استعمال کیا۔ پنکج ملک کی کامیابیوں ہی سے متاثر ہوکر دوسرے موسیقاروں کو بھی رابندر سنگیت استعمال کرنے کا حوصلہ ملا اور آج بھی یہ چلن موجود ہے۔
 پنکج ملک کی زندگی کا اصل مقصد عظیم گلوکار بننے کا نہیں تھا بلکہ اُن کا حسین خواب تھا رابندر سنگیت کی گہرائی میں ڈوبنا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس زندگی کے بعد بھی وہ اسی گہرائی میں ڈوبے رہیں۔ پنکج ملک کے گائے ہوئے نغمے ہندوستانی موسیقی کی انمول وراثت ہیں اور پنکج ملک کی موسیقی نے ان نغموں کو انمول بنا دیا ہے۔ حالانکہ پنکج ملک کے تعاون کے بغیر بھی رابندر ناتھ ٹیگور، کندن لال سہگل اور کانن دیوی کا رتبہ بہت اونچا ہوتا مگر پنکج ملک کی موسیقی نے انہیں اور زیادہ بلند درجے پر پہنچا دیا ہے۔
  انہوں نے پہلی بار رابندر سنگیت کو بنگالی سے ہندی میں ترجمہ کیا اور اس طرح کیا کہ بنگالی سے ہندی ترجمہ کرتے وقت اس کی اصل روح، احساس، مٹھاس اور تال اور لَے کو بھی محفوظ رکھا۔ پنکج ملک کو اس خاص کام میں بھی بھرپور کامیابی ملی اور اس کا اثر بمبئی کی فلمی دنیا پر بھی گہرا ہوا۔ شروع کے دنوں میں انل بسواس، سچن دیو برمن اور ہیمنت کمار اور پھر ان کے بعد کی نئی نسل میں راہل دیو برمن اور بپّی لہری نے بھی اُسی طرز پر رابندر سنگیت کا استعمال کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ نوشاد، روِیندر جین اور راجیش روشن جیسے غیر بنگالی موسیقاروں نے بھی ٹیگور کی میلوڈی کا ہندی فلموں میں استعمال کیا۔ کچھ موسیقاروں نے رابندر سنگیت کو اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالا بھی اور کچھ نے اصل رابندر سنگیت کو ہی مزید آگے بڑھایا۔پنکج  نے ہندی فلموں میںموسیقی ترتیب دی مگر ان کا خاص دھیان ٹیگور کے گیتوں ہی پر تھا۔ حالانکہ شانتی نکیتن سے ان کا واسطہ نہیں رہا، پھر بھی ان کی ترجیحات میں رابندر سنگیت ہی رہا۔
 پنکج ملک نے موسیقی کے موضوع پر تقریباً چار کتابیں بھی تصنیف کی ہیں جن میں صحیح معنوں میں موسیقی کے راگوں کی تصویریں پیش کی گئی ہیں۔انہوںنے تقریباً پانچ ہزار دھنیں ترتیب دیں۔  انہیں اُن کی زندگی ہی میں کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ سب سے پہلے ان کو ۱۹۴۵ء میں بنگالی فلم ’دوئی پُروش‘ کیلئے بہترین میوزک ڈائریکٹر کا اعزاز ملا۔ ۱۹۵۶ء میں ان کو ’سنگیت رتناکر‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ۱۹۷۰ء میں حکومت کی طرف سے ان کو’پدم شری‘ کا اعزاز عطا کیا گیا۔ ۱۹۷۵ء میں ’رابندر ٹیگور آچاریہ‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ۱۹۷۲ء  کا ’’دادا صاحب پھالکے ایوارڈ‘‘ بھی انہیں دیا گیا۔
 ۷۳؍برس کی عمر میں ۱۹۷۸ء میں ان کا انتقال کلکتہ میں ہوا۔ان کے انتقال پر ایک اخبار نے سرخی لگائی کہ ’’آج ٹیگور کی  دوبارہ موت ہو گئی۔‘‘ یہ چند الفاظ پنکج ملک کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے سب پر بھاری تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK