نماز درحقیقت ایسا فرض ہےجو پابندیٔ وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے

Updated: January 21, 2022, 1:41 PM IST | Imam Ahmed bin Hanbal

بدترین جاہلیت ا نسانوں کے دل و دماغ پر حاوی ہوچکی ہے اور انہیں تاریکیوں میں لئے جارہی ہے۔ وہ اپنی آنکھوں، کانوں اور عقلوں میں اپنے رب کی نشانیوں سے اعراض کررہے ہیں اور کائنات میں پھیلی ہوئی نشانیوں کا انکار کررہے ہیں اور فطری و سائنٹفک ہدایت سے بے نیازی برت رہے ہیں۔

All the mysteries of ablution and ghusl can be understood.Picture:INN
وضو اور غسل کے تمام اسرار و رموز سمجھ میں آسکتے ہیں، بشرطیکہ لوگ سمجھ سے کام لیں ۔۔ تصویر: آئی این این

 بدترین جاہلیت ا نسانوں کے دل و دماغ پر حاوی ہوچکی ہے اور انہیں تاریکیوں میں لئے جارہی ہے۔ وہ اپنی آنکھوں، کانوں اور عقلوں میں اپنے رب کی نشانیوں سے اعراض کررہے ہیں اور کائنات میں پھیلی ہوئی نشانیوں کا انکار کررہے ہیں اور فطری و سائنٹفک ہدایت سے بے نیازی برت رہے ہیں۔ چنانچہ شیطان انس و جن نے دین کے سلسلے میں باپ دادا اور دینی رہنماؤں کی اندھی تقلید کو مزین کرکے ان کے سامنے پیش کیا ہے ، حالانکہ یہ دین ان کے  دلوں کی غذا ہے اور اسی دین حق پر ان کی سعادت کا انحصار ہے۔   نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندیٔ وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے ۔ کتنا مبارک ہے یہ وقت! کس قدر بابرکت ہے یہ گھڑی، کتنی پرسکون ہے یہ مناجات اور مسلمانوں کے سینوں کے لئے کتنی شیریں اور فرحت بخش ہے یہ نماز! کتنی سچی بات فرمائی ہے حبیب امین ﷺ نے:  ’’میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔‘‘  مسلمان کتنا ضرورتمند ہے اس بات کا کہ نماز سے بازیابی حاصل کرے، اس کی لذت و مسرت سے ہمکنار ہو، اپنی روح و دل  سے ان تمام گندگیوں اور نجاستوں کو نماز کی نہر سلسبیل میں دھولے جو مال و اولاد کی شہوات اور خواہشات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ نہر اور نماز کی مثال کو نبی کریمؐ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:  ’’نماز کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر بہہ رہی ہو، وہ اس میں شب و روز پانچ بار غسل کرے تو کیا اس کے بدن پر کچھ بھی میل کچیل باقی رہے گی؟‘‘   جب نماز کا معاملہ یہ ہے تو درحقیقت یہ بندہ مومن کے لئے اس کی رب سے مناجات کا ایک اعزاز ہے جو اس کو جان و مال اور اولاد سے زیادہ عزیز ہوتا ہے ، اور وہ اس اعزاز کا مستحق اسی وقت ہوسکتا ہے جب  وہ ربوبیت کو اس کے اسماء و صفات اور حقوق کے ساتھ پہچان لے اور وہ عبودیت اور اس کی عاجزی و درماندگی، فقر و احتیاج کو جان لے، وہ ہر حقدار کو اس کا حق پورے طور سے دینے کا عادی ہوجائے۔اسی لئے حسی و معنوی طہارت اس کیلئے ناگزیر ہے اور جسمانی و قلبی سترپوشی ضروری ہے، اور بیت اللہ کی طرف منہ کرنا جس قدر ممکن ہو، کلام اللہ کی تلاوت کرنا اور تکبیر و تسبیح کا اہتمام کرنا لازم ہے۔   طہارت اس لئے ضروری ہے کہ بندہ اس بہیمیت کے تمام نقائص اور خرابیوں سے پاک ہوجائے جو اسے اس خدائے پاکیزہ سے مناجات و کلام کرنے کی راہ سے روکتی ہیں، جو اپنے پاکیزہ بندوں اور پاکیزہ اعمال ہی کو محبوب رکھتا ہے ۔ بہیمیت  کے پہلو کا غلبہ ہی وہ رکاوٹ ہے جو بندے کو اس کے رب سے قریب نہیں ہونے دیتی کیونکہ یہی  وہ دروازہ ہے جس سے یہ کھلا ہوا گمراہ کن دشمن داخل ہوتا ہے ۔ پھر وہ اس دروازے کو اس طرح مزید وسیع کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسے یعنی بندہ کو اللہ کی کائناتی و علمی نشانیوں اور انسان پر اس کے احسان فراموشی، غفلت اور بے نیازی کی دنیا میں لا ڈھکیلتا ہے۔  طہارت کا راز یہ ہے کہ وہ اس غفلت سے بیداری کا عمل ہے اور اس باشعور اور معزز انسانیت کی طرف رجوع کا عمل ہے جسے اللہ نے انسان کے اندر اپنی روح میں سے پھونک ماری ہے تاکہ وہ اس لائق ہوسکے کہ اپنے رب کی عبادت کرکے خوش بخت ہوجائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا کر اس کی نعمتوں سے سرفراز ہو اور اس کی اس طرح عبادت کرے جس طرح اس نے پسند کیا ہے۔ چنانچہ وہ ہدایت کی روشنی میں پاکیزہ زندگی گزارے ۔  بندہ جب وضو کے عمل سے فارغ ہوگیا تو گویا اس نے اس بات کا اعلان کردیا کہ وہ اپنے رب کی طرف نئے سرے سے پلٹ آیا ہے ، ان تمام غلطیوں سے بَری ہوکر اپنے اسلام کی تجدید کرلی ہے جنہوں نے اسے گندہ و پراگندہ کردیا تھا۔ اب وہ کہے  اشھدان لاالہ… من المتطھرین (الخ)  (ترجمہ) ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ واحد کے سوا کوئی الہ نہیں، کوئی اس کا شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے اللہ تو مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر اور پاک لوگوں میں مجھے شمار کر۔‘‘   اسی طرح ہمیں اللہ کے رسولﷺ نے جو حکم دیا ہے  وہ اس حدیث سے بھی واضح ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام غلطیاں دھل جاتی ہیں جن کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو، اور جب اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے ہاتھوں سے وہ تمام گناہ نکل جاتے ہیں جن کو اس نے اپنے ہاتھوں سے انجام دیا ہو، اور جب اپنے دونوں پیروں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ نکل جاتے ہیں جن کی طرف اس کے دونوں قدم بڑھے ہوں، یہاں تک کہ وہ تمام گناہوں سے صاف ستھرا ہوجاتا ہے۔ (امام مالک، مسلم ، ترمذی)  اس سے وضو اور غسل کے تمام اسرار و رموز سمجھ میں آسکتے ہیں، بشرطیکہ لوگ سمجھ سے کام لیں ۔اس طہارت کے بعض اسرار و رموز ایسے ہیں جنہیں آپ اپنے قلب و ذہن میں مستحضر رکھیں تاکہ اپنے رب سے وصال کے لئے تیاری کرسکیں اور رب ذوالجلال کی عطیات و نوازشات سے مستفید ہوسکیں۔ کتنا خوش بخت ہے وہ شخص جو اپنے رب کو سمجھ لے، اس کی حکمت و رحمت کی  اس کا دل گواہی دے اور اس پر اس کے اسماء و صفات کی ہدایت اور روشنی کا فیضان  ہوسکے، اور یہ چیز اسے خدائی پیغام اور پیغام سے راہ یابی تک پہنچا دے۔ بے شک ایسا شخص ان مسلمانوں میں سے ہے جو اپنی نمازوں میں خوش و خضوع اختیار کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK