Inquilab Logo Happiest Places to Work
Ramzan 2025 Ramzan 2025

’’گاؤں عید پر نہیں اب محرم پر ہی جائیں گے‘‘

Updated: March 25, 2025, 11:40 AM IST | Azhar Mirza | Mumabi

اکیسواں روزہ ہے۔ عصرکے بعد کا وقت ہے۔ ڈائری نگار مدنپورہ کے شیخ حفیظ الدین مارگ پر کھڑا ہے۔ اس پوری سڑک پر افطار بازار لگا ہواہے۔ اس سے متصل مولانا آزاد روڈ پر بھی یہی حال ہے۔ کباب، پکوڑے اوربھانت بھانت کے تلہن پکوانوں کی اشتہا انگیز خوشبوئیں ہواؤں کے دوش پر بہہ چلی جارہی ہیں۔

Bhoora Bhai and Meraj Bhai at the Malpoh stall of the Mohammadi Hotel. Photo: INN
بھُورا بھائی اور معراج بھائی محمد ی ہوٹل کے مالپوہ اسٹال پر۔ تصویر: آئی این این

اکیسواں روزہ ہے۔ عصرکے بعد کا وقت ہے۔ ڈائری نگارمدنپورہ کے شیخ حفیظ الدین مارگ پر کھڑا ہے۔ اس پوری سڑک پر افطار بازار لگا ہواہے۔ اس سے متصل مولانا آزاد روڈ پر بھی یہی حال ہے۔ کباب، پکوڑے اوربھانت بھانت کے تلہن پکوانوں کی اشتہا انگیز خوشبوئیں ہواؤں کے دوش پر بہہ چلی جارہی ہیں۔ یہ وقت ہی ایسا ہے ، سڑک کے دونوں جانب کے اسٹالوںاور خوانچوں پر گاہکوں کی بھیڑ ہے۔ گاڑیوں کے ہارن، ٹھیلے اور باکڑے والوں کی آوازوں سے ماحول پرشور ہے۔ میں ایک لمبا ساچکر لگاکر  تیسری سانکلی اسٹریٹ کے کارنرپر آگیا۔ یہاں ایک طرف اے ون چائنیز کا فوڈ اسٹال لگا ہواہے، دوسری طرف الطاف بھائی اور منّا بھائی کا فروٹ اسٹال سجا ہواہے۔ جاوید بھائی ، راقم کو دیکھتے ہی چہک اٹھے’’ارے میرے حضرت آئے... میرے بھائی آئے....ارے ہے کدھر میرے دوست.... پورے رمضان نظر نہیں آئے۔‘‘شاید آپ میں سے کچھ کو جاوید بھائی کی زبان سے نکلا’ارے ‘ کا یہ فجائیہ کلمہ ناگوار گزرے۔لیکن ممبئی  اوراہل مہاراشٹر اسے ہرگز عامیانہ نہیں سمجھتے۔اسلئے عام بول چال میں بھی ملک کے اس حصے میں ارے پر کوئی اُف نہیں کرتا۔خیر،میں نےانہیں جواب دیا کہ ’’کیسے دکھوں گا بھائی ، آپ جس وقت رمضان میں یہ سب لگاتے ہیں، اس وقت میں دفتر میں ہوتا ہوں۔ آج چھٹی ہے اسلئے آگیا۔‘‘ انہوں نے کہا ’’کوئی بات نہیں بتائیے کیا باندھنا ہے، سب ہے اپنے پاس۔اجمیری کباب،ہنگامہ کباب، چائنا رول،رشین کباب،کانڈی گوشت ...‘‘ہم نے کہا’’بس بس پھر کبھی ،آج ہماری وکیل صاحب(شاہدندیم) کے یہاں دعوت  ہے، چلئے پھر ملتے ہیں۔‘‘
  انہیں خدا حافظ کہہ کر میں سامنے الطاف بھائی کے یہاں پہنچا۔لمبے چوڑے ڈیل ڈول رکھنے والے یہ حضرت دلچسپ آدمی ہیں۔زبان ان کی ٹھیٹھ ممبئیا ہے۔ ان کا حلیہ سال کے بارہ مہینے ایک سا ہوتا ہے ۔ ہمیشہ لنگی اور ہاف آستین والے سفید جھینے سے کرتے میں ہوتے ہیں۔ رمضان میں ایک تبدیلی ہوتی ہے، ان کے سر پر ایک بوٹے دار لال ٹوپی آجاتی ہے، جو عموماً شمالی ہند کے پہاڑی علاقوں کے باشندے پہنتے ہیں۔ خیر، وہ تربوز کی بڑی بڑی قاشیں بنانے میں لگے ہوئے تھے۔ جو بیس بیس اور تیس تیس روپے میں ہاتھوں ہاتھ بک رہی تھی ۔ الطاف بھائی افطار سے پہلے پھل بیچتے ہیں اور رات میں اپنی پکوانوں کی دکان لگاتے ہیں جو آشادان کے پاس سالوں سے لگ رہی ہے۔ ان کے ہاتھوں کا بنا پایا،قیمہ، قورمہ، پلاؤ، سفیدا، آلوگوشت وغیرہ کھانے والے دور دور سے کھنچے چلے آتے ہیں۔ اس وقت الطاف بھائی کے ہاتھ تیزی سے چل رہے ہیں۔ وہ تربوز پر تربوز کاٹے جارہے ہیں۔ میرے ایک سوال پر پرکہنے لگے’’لوگ پپیتے سے زیادہ تربوز کو پوچھتے ہیں۔افطاری کی جان ہے یہ ‘‘ میں نے کہا’’بات تو صحیح ہے ۔‘‘ افطار کا وقت ہوچلا تھا اسلئے ان سے مزید ’وارتالاپ‘ نہ ہوسکا۔
 تراویح کے بعدراقم نے دہلی خاص کے مقابل واقع ’محمدی ہوٹل‘ کا رخ کیا۔رمضان میں اس چائے خانے کا چہرہ مہرہ ہی بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ باہر مالپوہ ،فیرنی ، گلاب جامن ، شاہی ٹکڑا اور اس طرح کی دیگر رمضانی مٹھائیوں کا اسٹال لگا ہوا ہوتا ہے۔ جہاں بھُورا بھائی کُندے پر مالپوہ کی بوٹیاں بناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس وقت بھی وہ چھرا سنبھالے ’اَٹینشن ‘ کھڑے تھے۔ ان کی نظریں معراج بھائی کے ہاتھوں پر تھیں جو مالپوے کو کڑھائی میں گھمارہے تھے۔دونوں بھائیوں کے منہ میں پان کی گلوریاں دبی ہوئی تھیں۔ میں نے  بھُورا بھائی کے کندھوں پر ہاتھ رکھا تو انہوں نے دیکھتے ہی اپنا سر تھوڑا سا اوپر اٹھاکر فرمائش دہرائی’’بھائی ہمرا فوٹو اخبار میں کب آئے گا؟‘‘ ہم نے کہا’’معصوم روزہ دار تھوڑی ہو جو اخبار میں چھپ جاؤگے‘‘ انہوں نے پان کی پیک سڑک کی طرف اچھالی اور تپاک سے جواب دیا’’کیا بتاؤں بھائی ، پتھری کے درد سے پریشان ہوں، روجا بھی نہیں ہوپارہا ہے۔بہت ہوگیا، اب رمجان کے بعد آپریشن کرواہی ڈالوںگا۔‘‘ میں نے کہا’’ہاں  ہاں کروالینا، ویسے بھی تم گاؤں بھاگ ہی جاؤ گے۔‘‘ کہنے لگے’’نہیں نہیں عید پر نہیں جائیں گے، گاؤں تو اب محرم پر ہی جائیں گے۔ پیٹ پانی کا سوال ہے، اس لئے رمضان کے بعد دھاراوی چلے جائیں گے۔ وہاں اپنا ریگولر کام ہے۔ ‘‘ ممبئی میں جنوبی ہند کے ایسے بہتیرے مزدور پیشہ اور کاریگرافراد مل جائیں گے ، جوسال بھر ممبئی میں رہتے ہیں۔ عیدبھی یہیں مناتے ہیں لیکن محرم کیلئے لمبی چھٹی لے کر گاؤں ضرور جاتے ہیں۔اور یہ چھٹی مہینے دو مہینے کی ہوتی ہے۔ شہزاد میاں نےبھی ایسا ہی کچھ بتایا تھا۔ یہ مہاشئے ’کھچڑی والا‘ کے پاس کیلے فروخت کرتے ہیں۔ گاہکوں کوہانک نہیں لگاتے نہ ہی کسی کو ہاتھ دکھاتے ہیں۔ بس دیکھ کر مسکرادیتے ہیں اور گاہک کھنچا آتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK