احقاف ریت کے ٹیلوں کو کہتے ہیں۔ قوم ہود ایسی ہی وادی میں آباد تھی جہاں ریت کے ٹیلے اور تودے بہ کثرت تھے۔
EPAPER
Updated: March 25, 2025, 11:34 AM IST | Mumabi
احقاف ریت کے ٹیلوں کو کہتے ہیں۔ قوم ہود ایسی ہی وادی میں آباد تھی جہاں ریت کے ٹیلے اور تودے بہ کثرت تھے۔
آج: پچیسویں تراویح
۲۶؍واں پارہ: حمٓ
۲۶؍ویں پارے کی پہلی سورہ احقاف ہے، اس کا موضوع کفار کو ان گمراہیوں پر متنبہ کرنا ہے جن میں وہ مبتلا ہی نہ تھے، بلکہ انہیں حق سمجھ کر ان پر جمے ہوئے بھی تھے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اس لئے تنقید کررہے تھے کہ آپؐ انہیں گمراہیوں سے نکالنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ اس سورہ میں ان کی ایک ایک گمراہی کی بھر پور تردید کی گئی۔ سورہ کے آغاز میں فرمایا: آپ ان سے کہئے کہ تم جن کو اپنے معبود کی حیثیت سے پکارتے ہو مجھے دکھلاؤ کہ انہوں نے دُنیا میں کیا پیدا کیا ہے یا دنیا میں ان کا کیا حصہ ہے، پھر فرمایا: اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان (بتوں) کو پکارے جو قیامت تک اس کو جواب نہیں دے سکتے۔ آگے فرمایا: آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں کوئی نیا (یاانوکھا) رسول نہیں ہوں، مجھے علم نہیں کہ کل میرے یا تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے، میں تو صرف کھلے طور پر ڈرانے والا ہوں۔ کچھ آیات کے بعد اولاد کا ذکر ہے، ان میں سے کچھ اپنے والدین کی اطاعت کرتے ہیں، کچھ نافرمانی، دونوں طرح کے کردار سامنے رکھ کر یہ خاموش سوال اہل مکہ سے کیا گیا ہے کہ بتلاؤ ان میں سے کون سا کردار بہتر ہے، فرمانبرداری کرنے والا یا نافرمانی کرنے والا۔ فرمایا کہ ہم نے انسان کو حکم دیا کہ وہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے، اس کی ماں نے اس کو بڑی تکلیف کے ساتھ اپنے پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے ہی اس کو پیدا کیا، اس کے حمل میں اور اس کا دودھ چھڑانے میں تیس ماہ لگ گئے، یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور چالیس برس کا ہوجاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار، مجھے توفیق عطا کر کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تونے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہیں اور ایسے اچھے عمل کروں جو تیری خوشنودی کا سبب ہوں اور میری اولاد کو بھی نیک وصالح بنا، اور (دوسری طرف وہ شخص ہے) جس نے اپنے والدین سے کہا تف ہے تم پر، تم مجھے ڈراتے ہو کہ میں (مرنے کے بعد قبر سے) نکالاجاؤں گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی صدیاں گزر چکی ہیں، اور وہ دونوں (ماں باپ از راہ محبت) گڑ گڑا کر کہتے ہیں کہ کم بخت! ایمان لے آ، بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ (مگر) وہ کہتا ہے کہ یہ سب اگلے وقتوں کے قصے ہیں۔
چند آیات کے بعد حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کا قصہ ہے اور سورہ کا نام احقاف بھی اسی قصے کے حوالے سے رکھا گیا ہے۔ احقاف ریت کے ٹیلوں کو کہتے ہیں۔ قوم ہود ایسی ہی وادی میں آباد تھی جہاں ریت کے ٹیلے اور تودے بہ کثرت تھے، اس قوم کے پاس بھی نبی آئے تھے اور انہوں نے اللہ کی دعوت پہنچائی تھی، مگر وہ انکار کرتے رہے اور جب انہوں نے عذابِ الٰہی کو اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ تو بادل ہے ہم پر برسے گا، نہیں بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی کررہے تھے۔ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد قریش مکہ سے فرمایا کہ ہم تمہارے آس پاس کی بہت سی بستیاں تباہ کرچکے ہیں اور (اس سے پہلے) ہم نے ان کو اپنی نشانیاں بتلادی تھیں تاکہ وہ باز آجائیں، (جب ہم ان بستیوں کو ہلاک کررہے تھے) تب کیوں نہ ان بتوں نے ان کی مدد کی جن کو انہوں نے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی غرض سے اپنا معبود بنا لیا تھا۔ یہ ان کا جھوٹ تھا اور (وہ افسانہ تھا) جسے وہ گھڑا کرتے تھے۔ سورہ کے آخر میں سرکارؐ دو عالم سے بطور تسلی ارشاد ہوا کہ آپ صبر کیجئے اور ان کے سلسلے میں جلدی نہ کیجئے، جس روز یہ لوگ وہ چیز دیکھ لیں گے جس کا انہیں خوف دلایا جارہا ہے اس وقت (یہ کہیںگے) کہ وہ (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی ہی رہے ہیں۔ (بہرحال) آپ نے بات پہنچا دی ہے (بتلائیے) فاسقوں کے علاوہ اور کون ہلاک ہونے والا ہے۔
سورۂ محمد، ہجرت کے بعد اس وقت نازل ہوئی جب جنگ کے احکامات تو دے دیئے گئے تھے لیکن باقاعدہ جنگ کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ اس میں بتلایا گیا ہے کہ اس وقت دو فریق آمنے سامنے ہیں۔ ایک تو وہ فریق ہے جو حق کو تسلیم نہیں کرتا اور حق کے راستے میں دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے اور دوسرا فریق وہ ہے جو اس حق بات پر ایمان رکھتا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے۔ ان دونوں گروہوں کے سلسلے میں اللہ کا دو ٹوک فیصلہ یہ ہے کہ ان میں سے پہلے گروہ کے تمام اعمال اکارت گئے ہیں اور دوسرے گروہ کے حالات درست کردیئے گئے ہیں۔ اس سورہ میں مسلمانوں کو جنگ کے سلسلے میں ہدایات بھی دی گئی ہیں اور یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اللہ کی مدد ان کے شامل حال رہے گی، اگر انہوں نے قربانیاں دیں تو ان کو بہترین اجر بھی ملے گا، ان کی کوئی بھی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی اور وہ اپنی قربانیوں کے سلسلے میں آخرت کا اجر وثواب حاصل کریںگے۔ دوسری طرف کفار ہیں جو اللہ کی مدد سے بھی محروم ہیں، اہل ایمان کے مقابلے میں ان کی ایک نہ چلے گی نہ کوئی حیلہ کام آئے گا اور نہ کوئی تدبیر سود مند ثابت ہوگی، دنیا میں بھی وہ برا انجام دیکھیں گے اور آخرت میں تو ان کا انجام برا ہے ہی۔ اللہ کے رسولؐ کو مکہ سے بے دخل کرکے وہ اپنی کامیابی پر نازاں ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح خود ہی انہوں نے اپنی تباہی کا سامان بہم پہنچا لیا ہے۔ منافقین کا حال یہ ہے کہ جنگ سے پہلے تو وہ اپنے آپ کو پکا سچا مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے، جیسے ہی جنگ کا حکم نازل ہوا ان کے ہوش اڑ گئے، اب وہ کفار سے ساز باز کرکے گوشۂ عافیت کی تلاش میں ہیں۔ ایسے لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے دین کے سلسلے میں منافقت کرنے والوں کا کوئی عمل اللہ کے یہاں مقبول نہیں ہے، یہاں تو ایک ہی معیار ہے کہ کون حق کے ساتھ ہے اور کس کی ہمدردیاں اسلام اور مسلمانوں کیلئے ہیں یا کفر اور اہل کفر کیلئے، اس کی نظر میں اپنی ذات کا مفاد مقدم ہے یا اس کا مفاد پہلے ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس معیار پر جو پورا نہیں اترتا نہ وہ مومن ہے نہ اس کے اعمال نماز، روزہ، زکوۃ وغیرہ پر اللہ کے یہاں کوئی اجر ملے گا۔ مسلمان اپنی تعداد اور بے مائیگی اور کفار کی کثرت اور ان کے اسلحہ وسامان کی فراوانی دیکھ کر کم ہمتی کا شکار نہ ہوں اور نہ ان کے سامنے صلح کا معاملہ رکھ کر اپنی کمزوری ثابت کریں، اس طرح تو ان کے حوصلے اور بڑھ جائینگے اور وہ اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں اپنے کو اور بڑا تصور کرنے لگیں گے۔ یقین رکھیں کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے اور وہی غالب رہیں گے، کفار تو پہاڑوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجائیں گے، البتہ مسلمانوں کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔ بخل سے کام نہیں چلے گا، اس وقت جو بھی شخص بخل سے کام لے گا وہ اللہ کو تو کیا نقصان پہنچائے گا خود اپنا ہی بگاڑے گا اور اپنے آپ ہی کو خطرے میں ڈالے گا اللہ کو انسانوں کی ضرورت نہیں، اگر ایک گروہ اللہ کے راستے میں قربانی سے دریغ کرے گا تو اس کی جگہ دوسرے گروہ کو دے دی جائیگی۔
یہ بھی پڑھئے: انسان کی شکایتوں اور رب العالمین کی عنایتوں کا ذکر ملاحظہ کیجئے
سورۂ فتح میں اس عظیم فتح کا ذکر ہے جو صلح حدیبیہ کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی تھی، اس کا نزول اس وقت ہوا جب ۶ ھمیں آپ صلح حدیبیہ سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ تشریف لے جارہے تھے، بظاہر معاہدہ کی شرائط سے مسلمانوں کا لشکر سخت بے چین ومضطرب تھا اور کوئی بھی ان مصلحتوں کو نہیں سمجھ رہا تھا جن کو سامنے رکھ کر سرکار دو عالمؐ یہ شرائط قبول فرمارہے تھے، کیونکہ بجز حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے کسی کی نگاہ بھی اتنی دور رس نہ تھی کہ اس صلح کے عوض ملنے والی فتح عظیم تک پہنچتی، ان ہی حالات میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ فتح مبین کی بشارت دی بلکہ اپنے چار انعامات کا ذکر بھی فرمایا : بلاشبہ ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کردی تاکہ اللہ آپ کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف فرمادے ، آپ پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کردے، آپ کو سیدھے راستے پر چلائے اور آپ کو آبرومندانہ نصرت سے ہم کنار فرمائے۔
مکہ معظمہ میں حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کی خبر سن کر (حالانکہ وہ شہید نہیں ہوئے تھے) سرکارؐ دو عالم نے صحابۂ کرامؓ سے حدیبیہ کے مقام پر جو بیعت لی تھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جو لوگ آپ سے بیعت کررہے تھے وہ در اصل اللہ سے بیعت کررہے تھے، ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا، اب جو یہ عہد توڑے گا اس کا وبال خود اس پر ہوگا اور جو اس عہد کو پورا کریگا تو اللہ اس کو عظیم اجر عطا فرمائیگا۔ اس سورہ میں منافقین کا بھی ذکر ہے جو عمرہ پر جاتے وقت سرکاردو عالمؐ کے فرمانے کے باوجود گھروں سے نہیں نکلے، یہ مدینہ کے اطراف میں واقع قبائل اسلم، مزنیہ، جہنیہ وغیرہ کے افراد تھے۔ ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ جب آپؐ واپس تشریف لے جائیں گے تو یہ پیچھے رہ جانے والے لوگ طرح طرح کے بہانے کرینگے اور کہیں گے کہ ہمیں گھر بار اور آل اولاد کے دھندوں سے فرصت ہی نہیں ملی، آپ ہمارے لئے مغفرت کی دعا فرمادیجئے۔ یہ لوگ زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی۔
آگے فرمایا اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے خوش ہوگیا جب وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے، ان کے دلوں کا حال اللہ جانتا تھا، اسلئے اللہ نے ان کے اوپر سکینہ (دل کا اطمینان اور سکون ) نازل فرمایااور ان کو ایک فتح بھی عطا فرما دی اور بہت سا مال غنیمت بھی جسے وہ حاصل کریں گے۔
یہاں اس خواب کا ذکر ہے جو سرکارؐ دو عالم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے سلسلے میں دیکھا تھا اور جس کے نتیجے میں آپؐ عمرہ کیلئے تشریف لے گئے تھے اور مکہ میں داخل ہوئے بغیر صلح کرکے واپس تشریف لے آئے تھے ۔ اس ضمن میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھلایا تھا تم ان شاء اللہ ضرور بالضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے امن وامان کے ساتھ، سر منڈاؤگے اور بال کٹواؤ گے (یعنی حج و عمرہ کروگے) اور تمہیں کوئی خوف نہ ہو گا، وہ اس بات کو جانتا تھا جو تم نہیں جانتے اس لئے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے ہی اس نے تم کو یہ فتح (خیبر) عطا فرمادی، وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ سورہ الحجرات میں مسلمانوں کو ایسے آداب کی تعلیم دی گئی ہے جو اہل ایمان کے شایان شان ہیں۔ اسکے بعد سورہ ق کا موضوع آخرت ہے۔ ۲۶؍ ویں پارے کی آخری سورہ الذاریات ہے جس کی ۳۰؍ آیتیں اِس پارے میں ہیں۔